وہ عظیم اور خوش قسمت خاتون جسے حضرت محمد ؐ حمیرا کے نام سے پکارتے تھے ۔۔۔ پڑھیے ایک خوبصورت اسلامی تحریر

لاہور(ویب ڈیسک)ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہؓ وہ خوش قسمت ترین عورت ہیں کہ جن کو حضور ؐکی زوجہ محترمہ اور ’’ام المؤمنین‘‘ ہونے کا شرف اور ازواج مطہرات میں ممتاز حیثیت حاصل ہے۔قرآن و حدیث اور تاریخ کے اوراق آپ کے فضائل و مناقب سے روشن ہیں۔ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے شادی سے قبل حضورؐ نے خواب میں دیکھا کہ

ایک فرشتہ ریشم کے کپڑے میں کوئی چیز لپیٹ کر آپ ؐکے سامنے پیش کر رہا ہے… پوچھا کیا ہے؟ جواب دیا کہ آپ ؐکی بیوی ہے، آپ نے کھول کہ دیکھا تو حضرت عائشہ ہیں (از صحیح بخاری مناقب عائشہ ؓ)۔۔۔۔یک مرتبہ حضرت عمرو ابن عاصؓ نے حضوؐر سے دریافت کیا کہ آپؐ دنیا میں سب سے زیادہ کس کو محبوب رکھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ عائشہؓ کو، عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول ؐ! مردوں کی نسبت سوال ہے! فرمایا کہ عائشہ کے والد ابوبکر صدیق ؓ کو (صحیح بخاری) آپ کا نام عائشہ، لقب صدیقہ اور حمیرا، خطاب ام المؤمنین اور کنیت ام عبد اللہ ہے۔حضرت عائشہ صدیقہؓ کا سات سال کی عمر میں حضور ؐسے نکاح ہوا، اور نو برس کی عمر میں رخصتی ہوئی۔اتنی کمسنی میں حضرت عائشہؓ کا حضورؐ کے گھر آنا گہری حکمتوں اور اعلیٰ دینی فوائد سے خالی نہیں۔آپ بچپن ہی سے نہایت ہی ذہین و فطین اور عمدہ ذکاوت کی مالک تھیں۔ چونکہ آپ صاحبِ اولاد نہ تھیں اس لئے آپ نے اپنی بہن حضرت اسمائؓ کے صاحبزادے اور اپنے بھانجے عبد اللہ بن زبیرؓ کے نام پر حضور ؐکے ارشاد کے مطابق اپنی کنیت ام عبد اللہ اختیار فرمائی (ابودائود کتاب الادب)

حضرت صدیقہؓ کی پیدائش سے چار سال قبل ہی آپ کے والد ماجد سیدنا حضرت ابوبکر صدیق ؓ دولت اسلام سے مالا مال ہو چکے تھے اور آپ کا گھر نورِ اسلام سے منور ہو چکا تھا، اس لیے آپ نے آنکھ کھولتے ہی اسلام کی روشنی دیکھی۔حضرت عائشہ صدیقہؓ پر اللہ تعالیٰ کا یہ خاص انعام ہے کہ انھوں نے کبھی کفروشرک کی آواز تک نہیں سنی، چنانچہ وہ خود ہی ارشاد فرماتی ہیں کہ جب سے میں نے اپنے والد کو پہچانا ان کو مسلمان پایا۔ (بخاری حصہ اول) حضرت عائشہ صدیقہؓ کا ’’کاشانہ نبوت‘‘ میں حرم نبویؐ کی حیثیت سے داخل ہونے کے بعد قرآن مجید کا ایک بڑا حصہ نازل ہوا۔ آپ کو کم و پیش دس سال حضور ؐ کے ساتھ رہنے کا شرف حاصل ہوا، خود صاحبِ قرآن حضورؐے قرآن سنتیں، جس آیت کا مطلب سمجھ میں نہ آتا حضورؐسے اس کا مفہوم سمجھ لیتیں، اسی ’’نورخانہ‘‘ میں آپ نے کلامِ الٰہی کی معرفت، ارشاداتِ رسالت کا علم، رموز و اسرار دین کی عظیم الشان واقفیت حاصل کی۔حضرت عائشہ صدیقہؓ کو علم دینیہ کے علاوہ تاریخ، ادب اور طب کے علوم میں بھی کافی مہارت تھی، غرضیکہ اللہ رب العزت نے آپ کی ذاتِ اقدس میں علم انساب، شعروشاعری، علوم دینیہ، ادب و تاریخ اور طب جیسے علوم جمع فرما دیئے تھے۔

ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہؓ، حضور ؐ کی اطاعت و فرمانبرداری اور آپؐ کی مسرت و رضا کے حصول میں شب و روز کوشاں رہتیں۔آپ نے بچپن سے جوانی تک کا زمانہ اس ذاتِ اقدسؐ کی صحبت میں بسر کیا جو دنیا میں مکارم اخلاق کی تکمیل کیلئے آئی تھی۔ چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہؓ کا اخلاق نہایت ہی بلند تھا۔ آپ نہایت سنجیدہ، فیاض، قانع عبادت گزار اور رحم دل تھیں، آپ زہد و قناعت کی وجہ سے صرف ایک جوڑا پاس رکھتی تھیں اسی کو دھو کر پہن لیتیں۔ آپ کو خدا نے اولاد سے محروم رکھا ،اس لئے عام مسلمانوں کے بچوں کو اور زیادہ تر یتیموں کو لیکر پرورش کیا کرتی تھیں، ان کی تعلیم و تربیت کرتیں اور ان کی شادی بیاہ کے فرائض انجام دیتی تھیں۔حضرت عائشہ صدیقہؓ عبادت الٰہی میں اکثر مصروف رہا کرتیں تھیں، دیگر نمازوں کے ساتھ ساتھ رات کو اٹھ کر نماز تہجد ادا فرمایا کرتی تھیں اور حضور ؐ کی وفات کے بعد بھی اس نماز کی پابندی میں کوئی فرق نہیں آیا، حضور ؐ نے ایک سوال کے جواب میں فرمایا کہ عورتوں کے لئے حج ہی جہاد ہے اس لیے حضرت عائشہ صدیقہؓ حج کی بہت زیادہ پابندی فرمایا کرتی تھیں اور تقریباً ہر سال حج کیلئے تشریف لے جاتیں (بخاری شریف) حج کے بعد عمرہ بھی ادا کرتیں۔

آخر رمضان میں جب حضور ؐ اعتکاف فرماتے تو حضرت عائشہ صدیقہؓ بھی اتنے ہی دن صحن میں خیمہ نصب کروا کر اعتکاف میں گزارتیں، قناعت کا جذبہ عورتوں میں بہت کم پایا جاتا ہے لیکن حضرت عائشہ صدیقہؓ کی ذات اقدس میں قناعت کی صفت بدرجہ اتم موجود تھی ان کی تقریباً ساری زندگی ہی عسرت و تنگی اور فقرو فاقہ میں گزر گئی۔ حضرت عائشہؓ خود فرماتی ہیں کہ ہم پر پورا ایک ایک مہینہ گزر جاتا اور گھر میں آگ تک نہ جلاتے، ہماری غذا پانی اور چھوہارے ہوتے تھے مگر کہیں سے تھوڑا سا گوشت آ جاتا تو ہم کھا لیتے (بخاری شریف) سیدنا حضرت امیر معاویہؓ نے ایک مرتبہ ایک لاکھ درہم بھیجے شام ہونے تک سب محتاجوں کو دے دلا دیا۔ حضرت ابن زبیرؓ نے ایک دفعہ دو بڑی تھیلیوں میں ایک لاکھ کی رقم بھیجی، انھوں نے ایک طبق میں یہ رقم رکھ لی اور اس کو بانٹنا شروع کیا اور اس دن بھی آپ روزہ سے تھیں… لیکن افطاری کیلئے بھی رقم نہ بچائی۔ آپ بہت زیادہ رقیق القلب تھیں،دل میں خوف اور خشیت الٰہی تھی۔ ایک دفعہ کسی بات پر قسم کھا لی ، پھر لوگوں کے اصرار پر ان کو اپنی قسم توڑنی پڑی اور گو کہ اس کے کفارے میں چالیس غلام آزاد کئے، تاہم ان کے دن پر اتنا گہرا اثر تھا کہ

جب یاد کرتیں روتے روتے آنچل تر ہو جاتا (بخاری باب الہجرت)ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہؓ کا امت مسلمہ پر بہت بڑا احسان ہے کہ ان کے مبارک واسطہ سے امت کو دین کا بڑا حصہ نصیب ہوا، صحابہ کرامؓ کی ربانی جماعت کے وہ قابل فخر و ناز افراد جنھوں نے حضور ؐکے ارشادات و فرمودات اور آپ ؐ کے قدوسی حرکات و سکنات کثرت سے نقل کیے ان میں حضرت سیدہ عائشہؓ کا چھٹا نمبر ہے، حضرت عائشہؓ سے حضور ؐ کی دو ہزار دو سو دس حدیثیں مروی ہیں۔ 58؁ھ رمضان المبارک میں آپ بیمار ہوئیں، چند روز علالت کا سلسلہ جاری رہا، زمانہ علالت میں جب کوئی مزاج پرسی کرتا تو فرماتیں’’ اچھی ہوں‘‘ (ابن سعد) 17 رمضان المبارک 58؁ ہجری کی رات، رحمت دو عالم ؐ کی حرم اور تمام مسلمانوں کی ماں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اپنے فرزندوں پر بے شمار احسانات کی بارش فرما کر ہمیشہ کیلئے رخصت ہو گئیں۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ عبادت الٰہی میں اکثر مصروف رہا کرتیں تھیں، دیگر نمازوں کے ساتھ ساتھ رات کو اٹھ کر نماز تہجد ادا فرمایا کرتی تھیں اور حضور ؐ کی وفات کے بعد بھی اس نماز کی پابندی میں کوئی فرق نہیں آیا، حضور ؐ نے ایک سوال کے جواب میں فرمایا کہ عورتوں کے لئے حج ہی جہاد ہے اس لیے حضرت عائشہ صدیقہؓ حج کی بہت زیادہ پابندی فرمایا کرتی تھیں سیدنا حضرت ابوہریرہ نے نماز جنازہ پڑھائی اور آپ کو وصیت کے مطابق جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔