چیف صاحب : نواز شریف ، عمران خان اور زرداری کو چھوڑو پہلے ان کی خبر لو ۔۔۔۔ سلیم صافی نے جسٹس ثاقب نثار کی توجہ کس طرف مبذول کروا دی ؟ جانیے

لاہور (ویب ڈیسک )کرپشن اور بدعنوانی معمولی جرم نہیں۔ اللہ کے پیارے نبی ﷺ نے رشوت لینے اور دینے والے کا ٹھکانہ جہنم بتایا ہے لیکن قرآن میں سنگین ترین جرم کسی بے گناہ انسان کی زندگی کا خاتمہ قرار دیا گیا ہے ۔ جدید دنیا کے قوانین میں بھی اسی لئے دیگر تمام جرائم

معروف تجزیہ کار سلیم صافی اپنی اس رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔کے مقابلے میں قتل کی سزا سنگین تر(عموماً سزائے موت) مقرر کی گئی ہے ۔قرآن کی رو سے فساد فی الارض اور دہشت پھیلانے کی سزا قتل کے جرم سے بھی بدترہے لیکن وہ بھی اس لئے کہ زیادہ انسانی زندگیوں سے متعلق جرم ہے ۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو میاں نوازشریف ،عمران خان یا آصف علی زرداری کے مقابلے میں رائو انوار جیسے لوگوں کا جرم کئی گنا زیادہ سنگین ہے ۔ ہاں البتہ اگر ان لوگوں میں کوئی رائو انوار کی سرپرستی کرتے ہوئے، ان کو بچاتے ہوئے یا پھر ان کو شہ دیتے ہوئے پایا جائے تو پھر ان کا جرم بھی رائو انوار کے جرم جیسا سنگین ترہوجاتا ہے ۔ ہمارے سیاسی لیڈروں اور وزیروں کے جرائم شاید اپنی جگہ بھیانک ہیں لیکن ان پر رائو انوار کی طرح درجنوں بے گناہ انسانوں کے ماورائے عدالت قتل کے براہ راست الزام نہیں۔ رائو انوار پر مہاجروں کے قتل کا بھی الزام ہے ، سندھیوں کے بھی اور پختونوں کے بھی ۔ ملک کی تقریباً تمام سیاسی جماعتیں ان پر یہ الزام لگارہی ہیں ۔ ان کے اپنے ادارے کے لوگوں نے جو کمیٹیبنائی تھی، اس نے اپنی رپورٹ میں مرحوم نقیب اللہ محسود اور ان کے ساتھ قتل کئے جانے والوں کو بے گناہ اور رائو انوار کو گناہ گار قراردیا ہے ۔

جہاں تک کرپشن اور شہریوں کے مال کو لوٹنے کا تعلق ہے تو ہر کوئی جانتا ہے کہ ان کی شاہانہ طرز زندگی کا ان کی جائز تنخواہ سے کوئی میچ نہیں اور ان کی اولاد دبئی میں شاہانہ زندگی گزار رہی ہے ۔ وہ کرپٹ سیاستدانوں کے بھی کارندے اور منظور نظر رہے اور یوں وہ کرپشن کو فروغ دینے کا بھی بڑا ذریعہ تھے ۔وہ فساد فی الارض کے بھی یوں مرتکب ہوئے کہ نقیب اللہ محسود کے بے گناہ قتل کی وجہ سے پورے ملک میں ہیجان پیدا ہوا اور لسانی نفرتوں کو ہوا ملی ۔ اس سے قبل وہ مہاجروں کے ماورائے عدالت قتل کے لئے یوں مشہور ہوئے کہ پورے شہر میں خوف کی علامت بنے ۔ ان کی ذات دہشت کی علامت بن گئی تھی اور یوں وہ دہشت گرد کی تعریف پر بھی پورا اترتے ہیں۔ وہ بغاوت کے بھی یوں مرتکب ہوئے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے کئی بار کے احکامات کے باوجود اسلام آباد میں موجود رہ کر بھی لمبے عرصے تک عدالت میں پیش نہیں ہوئے ۔ یوں ان کاجرم ہر حوالے سے مروجہ سیاسی ملزمان یا پھر بیوروکریٹس سے سنگین تر ہے ۔ اس تناظر میں عدالت کو سب سے زیادہ خبر اس کی لینی چاہئے تھی ۔ سب سے زیادہ غصے اور

برہمی کا اظہار ان پر کرنا چاہئے تھا ۔ تیزی کا مظاہرہ ان کے مقدمے میں ہونا چاہئے تھا اور ان کے ایک ایک سہولت کار اور سرپرست کو ڈھونڈ کر قوم کے سامنے بے نقاب کرنا چاہئے تھا ۔ لیکن افسوس کہ وہ برہمی اور وہ سختی رائو انوار سے متعلق نظر نہیں آرہی جو کرپشن کے ملزم سیاستدانوں یا سرکاری افسران سے متعلق دیکھنے کو ملتی ہے ۔ چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار صاحب نے جب اس کیس کا سوموٹو نوٹس لیا تو نقیب اللہ محسود کے لواحقین ، ان کے قتل پر غضب ناک نوجوانوں اور رائو انوار کے ہاتھوں ظلم سہنے والے دیگر مظلومین کو کچھ اطمینان نصیب ہوا ۔ میں اس روزجبران ناصر (جنہوں نے نقیب اللہ محسود کے کیس کے سلسلے میں کسی بھی دوسرے پختون اور غیرپختون پاکستانی کے مقابلے میں زیادہ اور بہادرانہ کردار ادا کیا) کے ہمراہ عدالت عظمیٰ میں موجود تھا جب چیف جسٹس صاحب نے نقیب اللہ محسود کے والد سے وعدہ کیا کہ وہ ان کو انصاف دلوا کررہیں گے ۔ عدالت سے نکل کر جب ہم سپریم کورٹ کے کیفے ٹیریا میں بیٹھے تو میں نے نقیب اللہ کے بوڑھے اور غمزدہ والد کے چہرے پر کسی حد تک اطمینان دیکھا۔ وہ ہمیں بھی تسلی دے رہے تھے کہ ان شاء اللہ

چیف جسٹس صاحب ہمیں انصاف دلوا کر رہیں گے ۔ چیف جسٹس صاحب نے اس حد تک اپنا وعدہ ضرور پورا کیا کہ رائو انوار کو عدالت تک لانے اور انہیں مفرور سے گرفتار ملزم بنانے میں کامیاب ہوئے تاہم جس خصوصی اہتمام کے ساتھ رائو انوار کو خصوصی گیٹ کے راستے چیف جسٹس صاحب کی عدالت میں لایا گیا ، اس کی وجہ سے دلوں میں پھر شکوک نے جنم لیا۔ پھر جس طرح بغیر ہتھکڑی کے انہیں کراچی لے جایا گیا تو اس کی وجہ سے مزید شکوک نے جنم لیا ۔ پھر جس طرح انہیں جیل بھیجنے کی بجائے مقامی عدالت سے ریمانڈ دلوا کر خصوصی مقام پر لے جایا گیا تو اس سے مزید شکوک نے جنم لیا ۔ پھر اب انہیں جس طرح بغیر ہتھکڑی کے وی آئی پی کی حیثیت میں عدالت میں پیش کیا جارہا ہے تو اس کی وجہ سے مزید شکوک جنم لے رہے ہیں ۔ ایک بندہ اگر قتل کا بھی ملزم ہے ، کرپشن کابھی ملزم ہے ، فساد فی الارض کا بھی ملزم ہے اور دہشت پھیلانے کا بھی ملزم ہے تو پھر اس کامقدمہ کسی بھی دوسرے مقدمے سے بڑھ کر تیزی کے ساتھ چلنا چاہئے لیکن وہ ایک روایتی بنتا نظر آرہا ہے ۔ ہوسکتا ہے

کہ سب کچھ قانون اور قاعدے کے مطابق ہورہا ہو لیکن میں اس تاثر کی بات کررہا ہوں جو جنم لے رہے ہیں۔ ہوسکتا ہے چیف جسٹس صاحب کام کے بے انتہا بوجھ کی وجہ سے توجہ نہیں دے سکے ہوں لیکن ایک سوال بجا طور پر ذہن میں اٹھتا ہے کہ اگر پانامہ کیس کی نگرانی کے لئے سپریم کورٹ سے جج مقرر کیا جاسکتا ہے تو رائو انوار کے کیس کی نگرانی سپریم کورٹ سے کیوں نہیں کی جاسکتی ۔ یہ اب معمول کے ایک قتل کا مقدمہ ہر گز نہیں ۔ اگر رائو انوار کسی بھی وجہ سے بچ نکلے تو یہ معاملہ نہ صرف سینکڑوں مظلوموں کے زخموںکو گہرا کردے گا بلکہ بعض لوگ اسے بنیاد بناکر لاکھوں لوگوں کو ریاست اور عدالتی نظام سے بدظن کرنے کی بھی کوشش کریں گے ۔ اس تناظر میں یہ پاکستان کی سلامتی کا بھی کیس ہے ۔ عام تاثر یہ ہے کہ رائو انوار کو بعض ریاستی اداروں کی طرف سے بچانے کی کوشش ہورہی ہے ۔ یہ تاثر بھی ملکی سلامتی کے لئے خطرناک ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ فاٹا یوتھ جرگہ کی گزشتہ ملاقات میں مسنگ پرسنز ، پھاٹکوں اور بعض جگہوں سے جبری مشقت کی شکایتوں

کے علاوہ میں نے نقیب اللہ محسود اور رائو انوار کا معاملہ بھی اٹھا دیا۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ رائو انوار کے ساتھ خصوصی سلوک سے یہ تاثرجنم لے رہا ہے کہ شاید عسکری ادارے ان کو بچا رہے ہیں تو آرمی چیف نے دوٹوک الفاظ میں اس کی نفی کرتے ہوئے فرمایا کہ اپنے اداروں کے لئے وہ اس سے زیادہ واضح پیغام اور کیا دے سکتے تھے کہ خود جاکر نقیب اللہ محسود کے والد اور بچوں سے ملے۔ اب جب آرمی قیادت بھی یہ یقین دلارہی ہے کہ ان کے ادارے ظالم کی بجائے مظلوم کے ساتھ کھڑے ہیں تو پھر سوال یہ ہے کہ رائو انوار کے ساتھ عدالتوں میں اس سختی کا مظاہرہ دیکھنے کو کیوں نہیں ملتا جو بعض سیاسی کیسز میں نظر آرہا ہے ۔ سختی نہ بھی ہو تو ان کے ساتھ خصوصی سلوک کیوں کیا جارہا ہے اور قتل کے ملزم کو بغیر ہتھکڑی کے کیوں عدالت لایا جارہا ہے ۔ میر ی مودبانہ التجا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان، نقیب اللہ محسود کے والد کے ساتھ کئے گئے وعدے کا پاس کرتے ہوئے اس معاملے میں خصوصی دلچسپی لیں ۔ چیف جسٹس صاحب چھٹی کے دن بھی عدالت لگاتے ہیں اور بعض اوقات رات تک بھی کیسز کی سماعت کرتے ہیں ۔ ان کے درد دل کی شدت کا یہ عالم ہے کہ بعض اوقات عدالت سے روانہ ہوکر کیس سے متعلقہ مقام پر بھی چلے جاتے ہیں ۔ یوں ہم بجا طور پر توقع کرتے ہیں کہ کراچی کے اگلے دورے کے موقع پر وہ ضرور رائو انوار کے کیس سے آگاہی حاصل کریں گے ۔ ہم تو یہ بھی توقع کرتے ہیں کہ آپ صرف رائو انوار کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کو یقینی بنانے پر اکتفا نہیں کریں گے بلکہ ان کے سہولت کاروں کو بھی سامنے لانے اور عدالتی کٹہرے میں کھڑا کرنے کا اہتمام کریں گے