نگراں حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ

نگراں حکومت نے ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھتے ہوئے اس میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ نگراں وزراء کی جانب سے قیمتوں میں اضافے کی مخالفت کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے نگراں حکومت کے لیے چھوڑے گئے اس معاملے کا الزام اپنے سر کیوں لیں؟ جبکہ سابق حکومت نے مدت کے اختتام کے آخری ہفتے بلکہ آخری روز 31 مئی کی آدھی رات تک ہزاروں سمریوں پر فیصلے کیے تھے۔
واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی کابینہ نے اپنے آخری اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے احکامات دیئے تھے کہ 7 جون تک موجودہ قیمتیں برقرار رہیں گی اور مذکورہ فیصلے کو نگراں حکومت کے لیے چھوڑ دیا گیا تھا جس کے نتیجے میں سیلز ٹیکس کی شرح تبدیل ہوگئی تھی۔دوسری جانب نگراں حکومت نے بھی موجودہ حیثیت برقرار رکھتے ہوئے 31 مئی کو ٹیکس کی شرح کے حوالے سے دیئے گئے احکامات میں ترمیم نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
اس حوالے سے ایک سرکاری عہدیدار کا کہنا تھا کہ موجودہ قیمتیں 31 جولائی تک برقرار رہیں گی تا وقت یہ کہ نگراں وزیراعظم اس میں ردوبدل کی ضرورت محسوس کریں۔
خیال رہے کہ اس سلسلے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے واضح طور پر تمام پیٹرولیم مصنوعات پر لاگو جنرل سلیز ٹیکس میں کمی کردی تھی۔جس کے تحت ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمت پر عائد 27.5 فیصد جنرل سیلز ٹیکس گھٹ کر 17 فیصد، پیٹرول کی قیمت پر عائد ٹیکس 17 فیصد سے کم ہو کر 7 فیصد، مٹی کے تیل پر عائد ٹیکس 12 فیصد سے کم ہو کر 7 فیصد اور لائٹ ڈیزل پر عائد 11.5 فیصد ٹیکس کم کرکے ایک فیصد کردیا تھا۔
واضح رہے کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے ماہ جون کے لیے حکومت کو پیٹرولیم مصنوعات میں 16 روپے تک کے اضافے کی تجویز دی تھی، جس کا اعلان سابق وفاقی حکومت کی جانب سے 31 مئی کو متوقع تھا۔
یاد رہے عمومی طور پر حکومت کی جانب سے مہینے کے آخری دن ہی نئی قیمتوں کا اعلان کیا جاتا تھا، جو آدھی رات سے ہی نافذ العمل ہوتا تھا۔