حمزہ شہبازنے اہلیہ کو طلاق دیدی ۔مطلقہ کو خطیر رقم بھی دی جائیگی

لاہور(رپورٹ:اسد مرزا) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے حمزہ شہباز اور انکی اہلیہ کے درمیان تحریری معاہدہ طے کروادیا ہے ۔یہ تحریری معاہدہ چیف جسٹس آف پاکستان کے پی اے شاہد انصای نے تحریر کیا جبکہ انکی معاونت انصارالحق ممبر پاکستان بار کونسل نے کی ۔ذرائع کا دعوی ہے کہ حمزہ شہباز نے اپنی منکوحہ عائشہ احد کو طلاق دیدی

اورانکے ساتھ نکاح ختم کرنے کے لئے انہیں خطیر رقم بھی دینگے۔معاہدے کے مطابق دونوں فریق اس معاہدے کو خفیہ رکھنے کے پابند ہونگے اور اس معاہدے سے منحرف نہیں ہونگے۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ چیف جسٹس نے عائشہ احد کی درخواست پر اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے حمزہ شہباز کو سپریم کورٹ طلب کیا جو نہ آئے تب عدالت اعظمی نے عائشہ احد کی درخواست پر مقدمات درج کرنے کا حکم دیا ۔اگلی سماعت پر حمزہ شہباز کو طلب کیا تو وہ عدالت اعظمی میں پیش ہو ئے ذرائع کا کہنا ہے کہ

حمزہ شہباز نے چیف جسٹس آف پاکستان کے چیمبر میں ملاقات کے دوران عائشہ سے نکاح سے انکار کیا تاہم عائشہ احد کی جانب سے گواہ اوربطور منکوحہ بیرون ملک جانے کے حوالے سے ریکارڈ پیش کرنے کے علاوہ اس معاملے پر جے آئی ٹی بننے کے خوف سے عائشہ احد سے نکاح کا اعتراف کیا تب چیف جسٹس آف پاکستان نے دونوں خاندانوں کی عزت کو رسوائی سے بچا کر معاملے کو افہام و تفہیم سے حل کروادیا ۔ وکلا اور قوم سخت کنفیوژن کا شکار ہے اور ایک دوسرے سے “افہام و تفہیم” کا مطلب سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں. بعض وکلاء عدالت میں رٹ بھی دائر کرنے کے بارے سنجیدگی سے سوچ رہے ہیں کہ عدالت “افہام و تفہیم” کے مفہوم کو واضع کرے