اپنے بہنوئی حفیظ اللہ خان کو خود سے جدا کرنے کا عمران خان کو آج تک بہت دکھ ہے ، مگر اختلاف کی اصل وجہ کیا تھی ؟ جان کر آپ عمران خان اور نواز شریف کے درمیان سب سے بڑے فرق سے آگاہ ہو جائیں گے

لاہور(ویب ڈیسک)بے شک عمران خان بنی گالا میں تین سو کنال کے گھر میں رہتے ہیں مگر نواز شریف کی صرف جاتی امرا والی رہائش گاہ پچیس ہزار کنال پر پھیلی ہوئی ہے۔عمران خان نے اپنی رہائش گاہ اور اس کی سڑکیں اپنے پیسوں سے بنوائیں مگرجاتی امراپر عوام کے اربوں روپے خرچ ہوئے۔

نامور کالم نگار منصور آفاق اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔ابھی مقدمہ عدالت میں ہے۔عمران خان نےمکان پرخرچ ہونے والےایک ایک روپے کا عدالت میں حساب دیا مگر نواز شریف ابھی تک حساب دینےمیں کامیاب نہیں ہو ئے۔بے شک دونوں اقتدار کے خواہش مند ہیں ۔نواز شریف کی تین مرتبہ خواہش پوری ہوئی اورہمیشہ پاکستان کے قرضوں میں اور اُن کےاثاثوں میں اضافہ ہوا ۔اس کے برعکس عمران خان کی خواہش ِ اقتدار نئے پاکستان کی تشکیل کےلئے ہے۔کسی کاروباری منفعت کےلئے نہیں ۔نواز شریف خاندانی اقتدار کے قائل ہیں ،عمران خان عوامی اقتدار کے ۔انصاف کے ترازو کو برابر رکھتے رکھتے انہیں اپنے چچا زاد بھائیوں کوقربان کرنا پڑ گیا۔ حتیٰ کہ اپنے بہنوئی حفیظ اللہ خان سے بھی جدا ہونا پڑاجس کا انہیں بہت دکھ ہے مگر سمجھوتہ نہیں کیا ۔نواز شریف کے نزدیک اصول کی کوئی حیثیت نہیں ۔وہ کہا کرتے تھے پرویز مشرف کا کوئی ساتھی پارٹی میں نہیں آ سکتا۔اقتدار میں آئے تو اُن کے ہم رکاب پرویز مشرف کےچوالیس ساتھی تھے ۔عمران خان زندگی میں کئی بار مشکل مقامات سے گزرے ہیں وہ جب کرکٹ کی ٹیم کے کپتان تھے تو انہوں نےاصول کے سامنےا پنے خالہ زاد بھائی ماجد خان کو چھوڑ دیا تھا۔نواز شریف کو

طوطا چشم تو نہیں کہا جا سکتا مگر انہوں نے جنرل جیلانی سے جنرل کیانی تک چیف جسٹس نسیم حسن شاہ سے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری تک کسی کے ساتھ وفا نہیں کی ۔ عمران خان اپنے ابتدائی محسن جنرل حمید گل اور معروف کالم نگار ہارون الرشید کا نام آج بھی احترام سے لیتے ہیں ۔نواز شریف نے بے شمار دوستوں کو چھوڑ دیا عمران خان نےکبھی کسی کو نہیں چھوڑا ۔ہاں کوئی اگر انہیں چھوڑ جائے تووہ اُس کے پیچھے نہیں جاتے۔نواز شریف کے آس پاس متوسط طبقے کا کوئی فرد نہیں جو چند پرانے لوگ تھے وہ طبقہ بدل چکے ہیں جیسے سعد رفیق وغیرہ ۔عمران کے ارد گرد امیروں کے ساتھ ساتھ غریب لوگ بھی موجود ہیں، انوار حسین حقی جیسے ۔

نوازشریف کی ذہنی سطح کاروباری ہے۔قسمت کے بھی دھنی ہیں ۔لوگوں کو مفاد پہنچا کر اپنے ارد گرد جمع کرنے کا ہنر بھی جانتے ہیں ۔شایدیہی وجہ ہے کہ جب وہ مشکل میں آتے ہیں تو لوگ ان کاساتھ چھوڑجاتے ہیں کیونکہ بنیاد مفاد ہوتی ہے۔عمران خان کی ذہنی سطح ایک کپتان کی ایک لیڈر کی ہے۔قسمت کےوہ بھی دھنی ہیں ۔ایک بہتر پاکستان کا خواب ان کی زندگی کا اثاثہ ہے ۔اسی تبدیلی کے خواب کی

تعبیرکےلئے لوگ ان کے ارد گردجمع ہیں ۔ کھرے انسان ہیں ۔ اندر باہر سے ایک ہیں ۔اکثرمفاد پرست لوگ ان سے ناراض ہو جاتے ہیں مگرعوام میں ان کی مقبولیت کبھی کم نہیں ہوئی۔شکست تسلیم کرلینا اُن کے خمیر میں نہیں ۔آخری گیند تک لڑتے رہنے کے عادی ہیں ۔اُن کے مقابلے میں نواز شریف جلد ہار مان لیتے ہیں جیسےمشکل میں آئے توپرویز مشرف کے ساتھ معاہدہ کرکے دس سال کےلئے سعودی عرب چلے گئے یعنی ہار مان لی ۔افواج پاکستان کے ساتھ نواز شریف کے مراسم جنرل وحید کاکڑ کے زمانے میں خراب ہوئے اور پھرکسی آرمی چیف کے ساتھ بہتر نہ ہو سکے ۔آرمی چیف کے ساتھ اُن کی تصویروں پر غور کیا جائے تو وہ ہر جگہ مضطرب نظر آتے ہیں ۔اُن کا موجودہ بیانیہ بھی یہی ہے کہ فوج نے عدلیہ کے ساتھ مل کر نااہلی کی سازش کی ۔عمران خان کاکسی آرمی چیف سے کبھی کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔سوائے پرویز مشرف کے ۔اُن کے دل میں فوج کے لئےمحبت کا جذبہ ہے ۔وہ سمجھتے ہیں کہ ایک ترقی یافتہ پاکستان میں افواجِ پاکستان کا کردار بہت اہم ہے ۔یہ ادارہ پاکستانی قوم کے لئے باعثِ صد افتخار ہے۔عدلیہ کے ساتھ بھی نواز شریف کا

رویہ کبھی بہتر نہیں رہا۔سپریم کورٹ پر حملے سے لے کر موجودہ بیانیہ تک انہوں نے جو کچھ کہا یا نون لیگیوں نے جتنی توہین ِ عدالت کی وہ سب کے سامنے ہے ۔سزا تک ہوئی ۔عمران خان کے خلاف بھی کئی مقدمات عدالتوں میں آئے مگر صبر کا دامن کبھی ہاتھ سےنہیں جانے دیا۔2013کے انتخابات کےمتعلق جب سپریم کورٹ نےفیصلہ دیا توعمران خان نے خاموشی سے تسلیم کرلیا حالانکہ وہ فیصلہ درست نہیں تھامگر عدالت کو توموجود ثبوت دیکھ کر فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔نوازشریف جب اقتدار میں ہوتے ہیں تو پارٹی ورکرز کو کجا ایم این ایز اور ایم پی ایز سے بھی نہیں ملتے۔عمران خان مسلسل اپنے ورکرز سے ملتے رہتے ہیں ۔فیصلے میٹنگزمیں کرتے ہیں ۔سب کی رائے سنتے ہیں ۔ہر شخص کو بات کرنے کا حق دیتے ہیں ۔نواز شریف اقتدار میں بھی اپنے کاروبار کو دیکھتے رہتے ہیں ۔بحیثیت وزیر اعظم انڈیا جاتے ہیں تو بیٹوں کو بھی ساتھ لے جاتے ہیں اُن کی ملاقاتیں کاروباری لوگوں سے کراتے ہیں ۔مالی منفعت کا کوئی موقع ہاتھ سےجانے نہیں دیتے ۔لندن میں بھی خاصی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے ۔شایداسی وجہ سے پچھلےپانچ برسوں میں بیسیوں مرتبہ بحیثیت وزیر اعظم یوکے گئے۔برطانیہ سے عمران خان کے بھی گہرے مراسم ہیں ۔

ان کے بچے وہیں اپنی ماں کے ساتھ رہتے ہیں لیکن عمران خان کولندن جانے کی زیادہ ضرورت نہیں پڑتی ،چھٹیوں میں بچے اکثرانہیں ملنےآجاتے ہیں ۔اگرچہ عمران خان بھی بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہش مند ہیں مگر کشمیر کی قیمت پر نہیں۔نواز شریف مسئلہ کشمیر کو سرد خانے میں ڈال کرپاک بھارت دوستی کے خواہشمند ہیں جیسے یورپین ممالک ۔ویزے کی پابندی سے مبرا۔اِس کاروباری خواہش میں وہ اُس سرخ لائن کو بھی مبینہ طور پر کراس کر چکے ہیں جہاں سے نظریہ پاکستان پر زد پڑنی شروع ہوتی ہے ۔یہ سرخ لائن جب محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی مبینہ طور پرکراس کرنے کی کوشش کی تھی تو مسائل پیدا ہوگئے تھے مگر انہیں جلدی اپنی غلطی کا احساس ہوگیا تھا۔نظریہ ِپاکستان ہماری خارجہ پالیسی کی اساس ہے اسےنظر انداز کرکے ہم بھارت سے معاملات آگے نہیں بڑھا سکتے ۔ کسی کے کاروبار کی خاطر خارجہ پالیسی کی بنیادیں نہیں ہلائی جا سکتیں۔عمران خان ذاتی سودوزیاں اور حرص و ہوس سے بے نیاز ہیں ۔۔ برطانیہ ہو یا بھارت۔ امریکہ ہو یا دنیا کا کوئی دوسرا ملک ۔سب کےلئےماضی کا خود سر عمران اب خودی کا پیکر ہے۔اس کالم کے لکھنے کا سبب وہ لو گ ہیں جو اپنی محرومیوں اور تنگ نظری کا بدلہ عمران خان کی کامیابیوں اور مقبولیت سے لینا چاہتے ہیں ۔