فقیرنی سے سیکھی سخاوت اور توکل

ایک روز میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ شاپنگ کے لئے جا رھا تھا گاڑی سگنل پر رُکی تو ایک مانگتی بغل میں بچہ دبائے آگئی اور صدا لگائی باؤ دے الله دے ناں تے ۔ رب تیری آس اُمید پوری کرئے. میں نے پچاس کا نوٹ دیا اور وہ خوشی سے دُعا دیتی ایک طرف چل دی چند ثانئیے بعد درجن بھر عورتوں اور بچیوں نے گاڑی پر یلغار کردی… سب کی سب ھاتھ پھیلائے دُعائیں دیتی پُر اُمید نظروں سے مُجھے دیکھ رھیں تھیں ، میں نے سب کی خدمت میں کُچھ ناں کُچھ پیش کیا سب خوشی سے سرشار لوٹ گئیں …

یہ سب معاملہ ایک منٹ کے اندر ھوا ، اشارہ کھُلا اور میں نے گاڑی آگے بڑھا دی ، میری بیوی نے خفگی کا اظہار کرتے ھوئے کہا ،،جانتے ھیں جب آپ نے پہلی منگتی کو پیسے دیئے تھے تب ھی مُجھے معلوم تھا کہ اب یہ دوسروں کو بھی بتائے گی اور دیکھ لیں میرا اندازہ ٹھیک نکلا ،، یہ مانگنے والے ھوتے ھی ایسے ھیں ، کم ظرف ،بیگم بُڑبُڑا رھی تھیں ، گاڑی والوں کے پاس قارون کا خزانہ ھوتا ھے ؟ جو سب کی سب نے دھاوا بول دیا ؟ میں تو کہتی ھوں آپ کو چاھئے تھا کہ پہلی والی کو ایک روپیہ نہ دیتے …ناں اُسکو دیتے نہ وہ باقیوں کو جا کر بتاتی اور نہ ھی ھمارے گرد اتنا رش لگتا … بیوی کی ساری باتیں ٹھیک تھیں ، لوگ اشارے پر کھڑے “پہلے” فقیر کو صرف اس لئے خالی ھاتھ لوٹا دیتے ھیں کہ یہ دوسرے فقیروں کو بتائے گا اور ھمارے گرد رش لگ جائے گا ،،میری بیگم نے ایک عام فہم بات کی تھی جو ھر طرح سے دُرست تھی …پر میں گاڑی چلا رھا تھا اور میری آنکھوں سے آنسو رواں تھے ، بیگم نے بن بادل برسات کی وجہ پُوچھی ؟ میں نے کہا بیگم آج چند ٹکوں کی خیرات نے مُجھے ایک دائیمی گُر سکھا دیا ھے …بیگم نے سوالیہ نظروں سے دیکھا میں نے کہا اُن گداگر فقیر عورتوں نے مُجھے اتفاق ،دریادلی ، سخاوت اور توکُل کے معانی سے آشنا کر دیا ھے ۔بیگم نے حیرانی سے میری جانب دیکھا یہ کیا کہہ رھے ھیں آپ ؟ میں نے اثبات میں سر ھلایا ”

ٹھیک کہہ رھا ھوں ” میں نے کہا روز مرہ زندگی میں اگر ھمیں کہیں سے کوئی سہولت مل جائے تو ھم اپنے دوستوں رشتے داروں کو نہیں بتاتے اکیلے فائدہ اُٹھاتے ھیں…کیونکہ ھمارا توکل کمزرو ھوتا ھے ھمیں لگتا ھے اگر کسی اور کو بتایا تو وہ ھمارا کام بھی بگاڑدے گا ، ھم بھول جاتے ھیں دینے والی تو الله کی ذات ھے ، میرا نصیب کوئی نہیں چھین سکتا ، یہ سب ھمارے نفس کی چالاکی ھے ، نفس ھمیں اُکساتا ھے کہ چُپ کر کے فائدہ حا صل کرو کسی دوسرے کو مت بتاؤ ،

اور ھم نفس کی باتوں میں آکر اکیلے ھی ملنے والی سہولت سے فیض یاب ھوتے ھیں ،،ان فقیروں کا نفس مُطمئین ھے میرے نفس کی طرح “غیر مُطمئین” نہیں ھے ، بیگم کے چہرے کا تاثُر بدل چُکا تھا ، میرے بچے حیرانی سے میری باتیں سُن رھے تھے ۔ اُس دن وہ منگتی فقیرنی مُجھے خوشی کا یہ انمول راز چند روپوں میں سکھا گئی ، میں نے اُس منگتی سے اتفاق ، کُشادہ دلی اور توکُل سیکھا ،، وہ منگتی نہیں تھی منگتی کے روپ میں الله کی پیغام رساں تھی ،جو مُجھے ایک اچھی بات سکھانے آئی تھی ۔

میری بیوی بولی آپ دن رات آنکھیں پھوڑتے ھیں ورق کالے کرتے ہیں تب جاکر پیسے ملتے ہیں تو کیا اسطرح روپے لٹانا ٹھیک ہے؟میں نے کہا بابا جی کہا کرتے تھے کہ بیٹا جو بھی سائل آئے اسے ضرور کچھ نہ کچھ دیا کر میں نے پوچھا بابا جی اپنی محنت کی کمائی سے کیوں دوں؟ بابا جی نے کہا تو نے کونسا پلے سے دینا ھے اللہ نے تجھے دیا تو اس میں سے اگے دے دیا کر ” دتے وچوں دینا میری بیوی کو بات سمجھ آگئی تھی ۔ اس نے منہ سے تو کچھ نہیں کہا مگر چہرے سے عیاں تھا کہ دتے وچوں دینا والی بات پر متفق ھے …اب میں کوشش کرتا ھوں کے اگر مُجھے کہیں سے کوئی فائدہ ھو تو میں دوسروں کو ضرور بتاتا ھوں ، میرا نفس مُجھے ھر بار روکتا ھے اور ھر بار میں اپنے نفس کو ایک جُملہ بول کر چُپ کروا دیتاھوں …الله ھمیں آسانیاں عطا کرئے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف بخشے آمین