انسٹاگرام نے ایک اور بڑا سنگ میل طے کرلیا

فیس بک کی زیرملکیت فوٹو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام لگتا ہے کہ بہت تیزی سے ہر طرف چھاتی جارہی ہے اور صارفین کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے وہ ہرممکن کوشش اور نت نئے فیچرز متعارف کرارہی ہے۔
اب اس کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ اس کے اسٹوریز فیچر کو روزانہ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد 40 کروڑ تک جاپہنچی ہے۔
یعنی اسنیپ چیٹ کے مجموعی صارفین سے دوگنا تعداد انسٹاگرام کی جانب سے اسنیپ چیٹ کے چوری کیے جانے والے فیچر کو استعمال کررہے ہیں۔
انسٹاگرام اسٹوریز ایک ایسی فیڈ ہے جس میں صارف تصاویر اور ویڈیوز کا اضافہ کرتے ہیں جو 24 گھنٹے بعد خودکار طور پر غائب ہوجاتی ہیں۔
یہ فارمیٹ اسنیپ چیٹ نے متعارف کرایا تھا مگر فیس بک نے اس خیال کو اپنی تمام ایپس جیسے انسٹاگرام، واٹس ایپ، میسنجر اور فیس بک میں چوری کرکے پیش کردیا۔
انسٹاگرام میں یہ فیچر بہت زیادہ مقبول ثابت ہوا جس میں گزشتہ سال کے آغاز میں اسٹوریز استعمال کرنے والوں کی تعداد 15 کروڑ جبکہ جون 2017 میں 25 کروڑ تک جاپہنچی تھی۔
اب 40 کروڑ کے سنگ میل نے اسنیپ چیٹ کو مزید پریشان کردیا گیا ہوگا جس کے مجموعی صارفین ہی 19 کروڑ سے کچھ زیادہ ہیں (یہ واضح نہیں کہ ان 19 کروڑ میں سے کتنے اسنیپ چیٹ اسٹوریز کو روزانہ استعمال کرتے ہیں)۔
انسٹاگرام نے گزشتہ دنوں ہی ایک ارب ماہانہ صارفین کا سنگ میل طے کیا تھا اور گزشتہ روز کے اعلان سے اندازہ ہوتا ہے کہ لگ بھگ 40 فیصد صارفین اسٹوریز استعمال کرنا پسند کرتے ہیں۔
دوسری جانب انسٹاگرام نے اس موقع پر اسٹوریز کے لیے ایک نیا فیچر بھی متعارف کرایا۔
صارفین اب اپنی اسٹوریز میں میوزک کا اضافہ بھی کرسکتے ہیں جو اس وقت پلے ہوگا جب کوئی ان کی اسٹوری کو دیکھے گا۔