بزرگ شخص اپنے گھر کے نیچے 23سال تک کھدائی کرتا رہا

آرمینیا کے صوبہ کوتایک کے ایک گاؤں آرینج سے تعلق رکھنے والے لیون اراکیلیان کی عمر 1985 میں 44 تھی۔1985 میں ہی اُن کی بیوی نے ان سے گھر کے نیچے آلو رکھنے کے لیے چھوٹا سا گڑھا کھودنے کا کہا تھا۔ لیون نے اپنی بیوی کے کہنے پر گڑھا کھودنے کا کام شروع تو کر دیا لیکن اس کام کو ختم نہ سکے۔ گڑھے کی کھدائی کرتے ہوئے وہ مسلسل 23 سالوں تک اپنے گھر کو کھودتے ہی رہے۔

لیون پیشے کے اعتبار سے معمار تھے۔ انہوں نے اپنے گھر کے نیچے 23 سالوں تک ہتھوڑے اور چھینی سے کھدائی کر کے ایک معبد بنا دیا۔ اُن کی بیوی ٹوسیا اب اس معبد کو ایک سیاحتی مقام کے طور پر چلاتی ہیں۔ ٹوسیا کا کہنا ہے کہ اُن کے شوہر مختلف خوابوں اور پراسرار آوازوں کے کہنے پر کھدائی کرتے رہے۔ لیون نے اس معبد کی تعمیر کے لیے ہرروز 18 گھنٹے تک بھی کام کیا ہے۔
شروع میں اُن کا کام کافی سخت اور سست تھا لیکن بعد میں زمین کے نیچے نرم چٹانیں آنے پر کام کی رفتار کافی زیادہ ہوگئی۔
لیون نے 280 مربع میٹر کے علاقے میں 20 میٹر تک گہرائی تک کھدائی کی۔ انہوں نے نیچے 7 کمرے بنائے۔ جو سیڑھیوں اور راہداریوں کی مدد سے ایک دوسرے سے مربوط تھے۔یہی نہیں لیون نے دیواروں کو نقاشی، پچی کاری، مجسموں اور چھوٹی قربان گاہوں سے بھی مزین کیا تھا۔

ٹوسیا کا کہنا ہے کہ اُن کے شوہر رات کو صرف تین سے چار گھنٹے سوتے تھے۔ انہوں نے اتنی کھدائی کی کہ یہاں سے 450 ٹرکوں پر لادے جانے کے برابر ملبہ باہر پھینکا۔ یہ سارا ملبہ لوہے کی ایک بالٹی سے نکالا۔ ملبے کو مقامی تعمیراتی کمپنیوں نے دوسرے تعمیری پراجیکٹس کے لیے استعمال کیا۔ لیون 2008 میں اپنی وفات کے دن تک کھدائی کرتے رہے۔ اُن کی وفات کے وقت اُن کی عمر 67 سال تھی۔
ان کی موت کی وجہ دل کا دورہ بتائی جاتی ہے۔ ٹوسیا کا کہنا ہے کہ کام کی زیادتی اور نیند کی کمی اُن کے شوہر کی موت کا باعث بنی ہے۔
لیون کا بنایا گیا تہہ خانہ اس وقت آرینج کا مرکزی سیاحتی مقام ہے۔ یہاں وہ تمام اوزار رکھے گئے ہیں، جن سے لیون نے کھدائی کی۔ لیون اور ٹوسیا کی 4 بیٹیاں اور 12 نواسے نواسیاں ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی مزید کھدائی کر کے معبد کو بڑا کرنا نہیں چاہتا۔