شریف خاندان کے بعد آصف زرداری کی بھی گرفتاری کا امکان پیدا ہو گیا

کراچی(ویب ڈیسک) شریف خاندان کے بعد آصف زرداری کی باری بھی آ گئی..حسین لوائی کو منی لانڈرنگ کیس میں ایف آئی اے کے حوالے کردی گیا، حسین لوائی کے خلاف ایف آئی آر میں آصف زرداری اور فریال تالپور کا نام بھی شامل ہے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے چیئرمین اور آصف زرداری کے قریبی دوست حسین لوائی کو گزشتہ روز ایف آئی اے نے حراست میں لیا تھا۔

آج منی لانڈرنگ کیس میں ایف آئی اے ملزم حسین لوائی اور شریک ملزم محمد طحہ کو سخت سیکیورٹی میں کراچی کی سٹی کورٹ لائے جہاں انہیں جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔حسین لوائی کی جانب سے شوکت حیات ایڈووکیٹ نے اپنا وکالت نامہ عدالت میں جمع کرایا۔ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان نے 7ارب کی منی لانڈرنگ کی،4 ارب ریکورکرلئے ہیں،ایف آئی اے حکام نے عدالت کو بتایا کہ حسین لوائی نے طلحہ کے نام پراکائونٹ کھولا، حسین لوائی کے خلاف جعلی اور گمنامی اکائونٹس کی تحقیقات جاری ہیں اور حوالے سے مزید تفصیلات درکار ہیں، لہذا ان کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔

ملزمان کے وکیل نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ حسین لوائی بینک کے صدر ہیں، اکائونٹس آپریٹ کرناروٹین ہے، ان کے خلاف اسی کیس میں پہلی انکوائری تین سال پہلے بندہوگئی تھی، جبکہ ایف آئی اے پہلے بھی میرے موکل کا بیان لے چکا ہے، اس لیے مزید کسی ریمانڈ کی ضرورت نہیں ہے۔اس موقع پر حسین لوائی نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ بلڈ پریشر کے مریض ہیں، انہیں اس کے علاوہ بھی کئی بیماریاں لاحق ہیں، اس لئے مجھے میڈیکل ریلیف دیا جائے۔

جس پر ایف آئی اے کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ انہوں نے حسین لوائی کا طبی معائنہ کرایا ہے وہ مکمل طور پر صحت مند ہیں۔ فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے حسین لوائی کو 11 جولائی تک کے جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کردیا۔ سماعت سے قبل حسین لوائی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جنہوں نے کیا وہ تو ملک سے باہرہیں لیکن الزام مجھ پر لگادیا گیا۔
حسین لوائی کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کردی گئی ہے۔مقدمے کے متن کے مطابق آصف زرداری اور فریال تالپورکی کمپنی بھی منی لانڈرنگ سے فائدہ اٹھانے والوں میں شامل ہے، زرداری گروپ نے ڈیڑھ کروڑ روپے کی منی لانڈرنگ کی رقم وصول کی۔مقدمے میں اومنی گروپ کے مالک انور مجید کی کمپنیوں کا بھی ذکر ہے۔ منی لانڈرنگ سے فائدہ اٹھانے والوں میں نزلی مجید، نمرہ مجید، عبدالغنی مجید شامل ہیں۔

ابتدائی طور پر 10 ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے، جس میں چئیرمین سمٹ بینک نصیر عبداللہ لوتھا، عبدالغنی مجید، اسلم مسعود، محمد عارف خان، نورین سلطان، کرن امان، عدیل شاہ راشدی، طحہ رضا نامزد ملزمان ہیں۔منی لانڈرنگ سے فائدہ اٹھانے والی کمپنیوں اور افراد کو سمن جاری کرتے ہوئے وضاحت طلب کرلی گئی ہے۔ ایف آئی اے نے 29 اکائونٹس کی تمام تفصیلات عدالت میں پیش کردی ہیں، جس کے مطابق 6 مارچ 2014 سے 12 جنوری 2015 تک اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کی گئی۔