فواد کے گھر چھاپہ ! ملک دشمنی کے ثبوت برآمد نواز کے بھارتی شخصیات سےرابطے سیکورٹی کے متعلق ڈیٹا مل گیا

لاہور(رپورٹ اسد مرزا ) سابق وزیر اعظم میں محمد نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کےسابق پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کو نواز شریف کی بھارتی سیاسی و عسکری شخصیات کے ساتھ سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ خفیہ رابطوں، حساس ڈیٹا شئیر کرنے اور سیکورٹی کے متعلق دستاوایزات کے تبادلوں کا خفیہ ریکارڈ رکھنے کے باعث قانون کی گرفت میں لیا گیا ہے ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فواد حسن فواد پر نجی بنک میں ملازمت کرنے سی این جی پمپ کی منتقلی اور آشیانہ ہاوسنگ سوسائٹی میں من پسند افراد کو ٹھیکے الاٹ کرنے کے الزامات عائد کئے گئے ہیں لیکن ان الزامات کے پیچھے اصل کہانی کچھ اور ہے۔ ذرائع کے مطابق فواد حسن فواد میاں نواز شریف کے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اسے خصوصی مشیر اجیت اڈوول، صنعتکار سجن جندال اور “را ” کے عہدیداروں سے مبینہ رابطوں اور سیکورٹی کے معاملات کے حوالے سے آفیشل ریکارڈ اپنے لیپ ٹاپ، یو ایس بی اور موبائل میں مخفوظ کر رکھا تھا اس کے علاوہ اس میں مختلف ممالک میں بھارت و دیگر اہم فیملی طاقتوں سے رابطوں کا ڈیٹا دیو کر کے انہیں پاس ورڈز لگا رکھے تھے۔ ذرائع کا دعوی ہے کہ پاکستان کی سلامتی کے اداروں کو ملک دشمن رابطوں کی مکمل معلومات تھی لیکن بہت سی ثبوت فواد حسن فواد کے پاس مخفوظ تھے۔ بتایا گیا ہے کہ نیب نے انہیں تفتیش کے لئے بلا کر گرفتار کر لیا جس کے

بعد انکے گھرچھاپہ مار کر دو لیپ ٹاپ اور فواد حسن کی گاڑی میں موجود 5 موبائل فونز اور فواد حسن فواد کے بیگ سے 30 سے زائد یو ایس بی بھی قبضے میں لی گئی ہیں، جب کہ لیب ٹاپ اور موبائلز فونز کا فرانزک آڈٹ شروع کردیا گیا ہے۔ آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ حساس معلومات اور ملک دشمن عناصر سے خفیہ رابطوں اور حساس دستاویزات کے تبادلوں کی تصدیق کے بعد سابق وزیر اعظم و دیگر ملوث شخصیات کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت غداری کے مترادف ہے اور اس کی سزا سزائے موت ہے