نگراں حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کردی

حکومت نے عوامی ردعمل کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا۔
پیٹرول پر سیلز ٹیکس 5 فیصد، ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 7 فیصد، لائٹ ڈیزل پر سیلز ٹیکس کی شرح 8 فیصد کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اطلاق رات 12 بجے سے ہوگیا۔
سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر نظرثانی کے لیے اتوار تک کا وقت دیا تھا اور قیمتوں اور ٹیکسوں کے طریقہ کار کا از سر نو جائزہ لینے کا حکم دیا تھا۔
نگران وفاقی وزیر توانائی سید علی ظفر کا کہنا ہے کہ موٹر سپرٹ اور کیروسین آئل پر ٹیکس کی شرح 17 سے 12 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر سیلزٹیکس کی شرح 31 سے 24 فیصد، لائٹ ڈیزل کی سیلز ٹیکس کی شرح 17 سے 9 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 6روپے 37 پیسے، پٹرول کی قیمت 4 روپے 26، مٹی کے تیل کی قیمت میں 3روپے 74 پیسے اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 5 روپے 54 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے۔
پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 95 روپے 24 پیسہ، ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 112 روپے 94 پیسے، مٹی کے تیل کی قیمت 83 روپے 96 پیسے اور لائٹ ڈیزل آئل ساڑھے پانچ روپے کمی کے ساتھ 75 روپے 37 پیسے ہوگئی۔
وزیر توانائی علی ظفر نے کہا کہ نگران حکومت عوامی مشکلات سے مکمل آگاہ ہے، پیٹرول کی قیمتوں میں کمی سے معاشی پہیہ تیزی سے چلے گا، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے حکومت کو 10 ارب روپے کا نقصان ہوگا۔
خیال رہے کہ نگران حکومت نے 30 جون کو جولائی کے مہینے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اوگرا کی سفارش سے زیادہ اضافہ کردیا تھا۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق سمری بھجوائی گئی جس میں پیٹرول 5 روپے 40 پیسے فی لیٹر مہنگا کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی تاہم نگران حکومت نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 7 روپے 54 پیسے اضافہ کردیا تھا۔