پیٹرولیم مصنوعات حکومت کی کمائی کا ذریعہ ہیں، کیا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کرنے کا کوئی فارمولا ہے؟ چیف جسٹس

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسوں سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ کیا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کرنے کا کوئی فارمولا ہے‘ عدالت کو آگاہ کریں کہ کیسے قیمتوں کا اتار چڑھائو کیا جاتا ہے‘ جسٹس ثاقب نثار نے ایم ڈی پی ایس او سے استفسار کیا کہ آپ کتنی تنخواہ لے رہے ہیں جس پر ایم ڈی پی ایس او شیخ عمران نے کہا کہ 37لاکھ روپے تنخواہ لے رہا ہوں۔

اتوار کو سپریم کورٹ میں پٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسوں سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہفتہ کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کچھ کمی کی گئی کیا قیمتیں کم کرنے کا کوئی فارمولا ہے۔
عدالت کو آگاہ کریں کہ کیسے قیمتوں کا اتار چڑھائو کیا جاتا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں حکومت کے پیسہ کمانے کے لئے ہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ درامد ‘ کروڑ آئل اور ریفائنری تک پہنچنے میں کیا قیمتیں ہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ کروڈ آئل کو ریفائنری درآمد کرتی ہے۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ پانچ ریفائنریز کہاں کہاں موجود ہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ این آر او پاکستان ریفائنری کراچی میں ہے‘ بائیکو حب بلوچستان میں ہے‘ پارکو مظفر گڑھ میں ہے اور اٹک ریفائنری راولپنڈی میں ہے۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ پندرہ فیصد مقامی پیداوار ہوتی ہے جبکہ پچاسی فیصد درآمد کیا جاتا ہے۔ چیف جسٹس نے ایم ڈی پی ایس او شیخ عمران سے استفسار کیا کہ آپ کتنی تنخواہ لے رہے ہیں ایم ڈی پی ایس او نے کہا کہ 37 لاکھ روپے تنخواہ لے رہا ہوں جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ افسوس عوامی ٹیکسوں سے چلنے والے ادارے سے اتنی تنخواہ لے رہے ہیں آپ کو بنیادی چیزوں کا پتہ نہیں اور تنخواہ سنتیس لاکھ لے رہے ہیں آپ ایم ڈی کیسے تعینا تہوئی۔

ایم ڈی شیخ عمران نے کہا کہ میں ایک پرائیویٹ کمپنی میں ایم ڈی تھا پی ایس او میں درخواست دی تھی جس کے بعد تعینات ہوا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ واپس اسی کمپنی میں کیوں نہیں چلے جاتے 37لاکھ تو بہت زیادہ تنخواہ ہے جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ مارجن بتا دیں کون سے ہیں اٹاری جنرل نے کہا کہ پٹرول کی قیمت بڑھے تو سیل ٹیکس کم کردیا جاتا ہے چیف جسٹس نے کہا کہ دونوں صورتوں میں عوام کو ریلیف نہیں ملتا ہم دو طرح سے آئل حاصل کرتے ہیں پندرہ فیصد اپنا اور پچاسی فیصد درآمد کرتے ہیں۔

مارکیٹ میں ٹینڈر پر سستی ترین چیز درآمد کی جاتی ہے کسٹمز ڈیوٹی اور سیل ٹیکس سرکار کا بنتا ہے میں آپ کی مراعات ابھی دیکھوں گا آپ کا پیکج 45لاکھ روپے تک جائے گا تمام اخراجات صارف ادا کررہا ہے۔ تمام اخراجات صارف ادا کررہا ہے ان کا آڈٹ کرواتے ہیں قوم کو اور ہمیں ان کے کام کا معلوم ہونا چاہئے۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ پی ایس او کی چھ ماہ کی درآمدات کا آڈٹ کروا لیتے ہیں عدالت نے ایم ڈی پی ایس او سے استفسار کیا کہ آپ کی تعیناتی بذریعہ اشتہا ر ہوئی یا ویسے چیف جسٹس نے کہا کہ کیا بیوروکریسی ختم ہوگئی تھی جو پرائیویٹ سیکٹر سے بندہ لینا پڑا۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ سب کچھ ملا کر آپ کا پیکج پنتالیس لاکھ تو ہوگا آپ ہمیں مطمئن نہیں کرسکے اسی کمپنی میں چلے جائیں آپ کی تنخواہ گریڈ 22 کے افسر سے کئی گنا زیادہ ہے ایم ڈی پی ایس او نے کہا کہ دو سال میں پی ایس پو نے چھ ارب روپے منافع کمایا۔