توند کم کرنے کے پانچ طریقے

کئی افراد اس غلطی میں مبتلا ہیں کہ اگر ان کی تو ند سخت اور بڑی ہے تو انھیں کچھ نہیں ہوا، البتہ ان کے کولھے اور انیں کچھ بھاری ہو گئی ہیں۔ یہ سوچ خطرناک ہے۔
 کئی افراد اس غلطی میں مبتلا ہیں کہ اگر ان کی تو ندسخت اور بڑی ہے تو انھیں کچھ نہیں ہوا، البتہ ان کے کولھے اور انیں کچھ بھاری ہو گئی ہیں۔
یہ سوچ خطرناک ہے۔ تحقیق کے مطابق توند میں چربی جمنےسے یہ خدشات پیدا ہوجاتے ہیں کہ کولیسٹرول کی سطح میں اضافہ ہوسکتا ہے، عارضہ دل کا امکان، ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر یا فالج بھی ہوسکتا ہے۔ خواتین کو سینے کے سرطان کا بھی خطرہ ہوسکتا ہے۔
توند بڑھنے کے بارے میں لوگوں کے تصورات غلط ہیں۔ اس سے نجات کیسے حاصل کی جائے ، لوگوں کو اس کا بھی علم نہیں۔ ذیل میں بڑھی ہوئی توند کم کرنے کے پانچ طریقے درج کیے جارہے ہیں، جن پر آسانی سے مل کیا جاسکتا ہے۔
(1)اتناوزن نہ بڑھائیں کہ توند نکل آئےموٹاپے کے بارے میں تحقیق کرنے والی امریکی ماہرجو ڈتھ روڈن کہتی ہیں کہ اگرگو شت کھانا چھوڑ دے، تب بھی اس کے پیٹ میں چربی جمع ہوسکتی ہے۔
یہ معلوم کرنے کے لئے آپ کی توند نکلی ہوئی ہے یا نہیں ، فرش پرسیدھے کھڑے ہو جائیں اور پاوٴں کے انگوٹھوں کو دیکھنے کی کوشش کریں۔
اگر آپ اس کوشش میں ناکام رہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی توند بڑھی ہوئی ہے۔ اسی طرح سے آپ فرش پر سیدھے لیٹ جائیں اور ایک چھڑی لے کر گھٹنوں تک لے جائیں۔ اگر چھڑی گھٹنے تک نہ پہنچے اور آپ کے پیٹ پرٹک جائے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ کی توند بڑھی ہوئی ہے۔
(2) خواتین کی بھی توند نکل آتی ہےمردوں کی چربی پیٹ میں جمع ہوتی ہے، جب کہ خواتین کی رانوں اور کولہوں میں۔ 38 سالہ میلسیا پہلے تیراکی کیا کرتی تھی مگر ہائی اسکول کا امتحان پاس کرنے کے بعد جب اس نے تیرا کی چھوڑ دی تو اس کا وزن بڑھنے لگا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس نے غذا میں کوئی کمی نہیں کی۔
چند برس بعد جب اس نے اپنا طبی معائنہ کرایا تونہ صرف یہ کہ اس کا وزن بڑھ چکا تھا، بلکہ اس کی توند بھی نکل آئی تھی۔ اس کے دو بیٹے بھی ہو چکے تھے اور اس نے زچگی کے بعد پیٹ کم کرنے کی کوشش نہیں کی تھی ، لہذا توند میں چربی جمع ہوتی چلی گئی۔ وہ خواتین جو بچوں کو اپنا دودھ نہیں پلاتیں ہیں ، ان کی بھی تو ند بڑھ جاتی ہے۔
(3) فاقے کرنے کی ضرورت نہیںتوند کم کرنے کے لیے فاقے کرنے کی ضرورت نہیں، البتہ حراروں (کیلوریز) کی طرف توجہ دینی چاہیے اور چکنائی کم کھانی چاہیے۔ لحمیات (پروٹینز) اور نشاستہ بھی کم کھائیں۔ ایک گرام چکنائی میں 9 حرارے ہوتے ہیں، جب کہ پروٹین اورنشانے کے ایک گرام میں تقریبا 4حرارے ہوتے ہیں۔
اگر آپ چکنائی اور نشاستے کے حرارے یکساں مقدار میں کھائیں گے تو چکنائی سے آپ کا وزن بڑھ جائے گا، اس لیے کہ چکنائی کا ذخیرہ ہو جاتا ہے، جب کہ نشاستے کے حراروں کو جمنے کے لیے چکنائی میں تبدیل ہونا پڑتا ہے اور اس میں تو انائی صرف ہوتی ہے۔آپ کو شش کرکے مرکب نشاستے کھایئے، جن میں اناج، چاول، پھلیاں، پھل اور سبزیاں شامل ہوں، خاص طور پر بغیر چھلے آلو ، اناج، پالک ، چقندر اور گاجر وغیرہ۔ زیادہ نمک والے بسکٹ اور مکھن والے پاپ کارن کھانے سے گریز کریں۔ماہرین غذایہ تجویز کرتے ہیں کہ آپ جو حرارے کھاتے ہیں، ان میں سے 20 فی صد چکنائی کم کردیں تو اس کا اچھا نتیجہ نکلے گا اور آپ خود میں بڑی تبدیلی محسوس کریں گے۔
ماہر غذائیت جوڈتھ اسٹرن کہتی ہیں کہ جب لیبارٹری میں چوہوں پر تجربات کے دوران کی کوشش کی گئی کہ ان کا وزن کم ہو جائے تو انھیں آزادی دی گئی کہ وہ جو جی چاہے کھائیں۔ انھوں نے رغبت سے وہ چیزیں کھائیں، جن میں 50 سے 60فیصد چکنائی تھی۔ انسانوں کا رجحان بھی کچھ ایساہی ہے۔
وہ کھانے میں احتیاط کر کے وزن کم کر لیتے ہیں، لیکن مو ٹاپا پھر مسلط ہوجاتا ہے، کیوں کہ غیرارادی طور پر وہ پھر روغنی چیز یں کھانی شروع کردیتے ہیں۔ اسی طرح سے خواتین ڈائٹنگ بھی کرتی ہیں ، لیکن شام کو چائے کے ساتھ ایسی چیزیں کھالیتی ہیں جو زیادہ روغنی اور چٹ پٹی ہوتی ہیں۔
(4) سخت ورزش ضروری نہیںایک معالج کاکہنا ہے کہ جب آپ اپنی غذا سے چکنائی کم کردیتے ہیں تو ان حراروں کو زیادہ جلانا آپ کے لیے آسان ہوجاتا ہے، جو آپ کھارہے ہیں۔
چناں چہ آپ کوسخت ورزش کرنے کی ضرورت نہیں ، اس لیے کہ پیٹ میں جمع شدہ چربی کو جلانا پھر آسان ہو جاتا ہے۔ اگر آپ پابندی سے روزانہ آدھے گھنٹے تک ہوازا (AEROBIC) ورزشیں کر لیں تو اس کے شان دارنتائج نکلیں گے مثلا تیز قدمی، جاگنگ، تیراکی یا سائیکل چلانا وغیرہ۔
ایک معالج کہتے ہیں کہ آپ کو زیادہ متحرک رہنے کی ضرورت ہے۔ اپنی کار کو مکان سے کچھ فاصلے پر پارک کیجئے اور زیادہ سے زیادہ فاصلہ ٹانگوں سے طے کیجئے۔ لفٹ استعمال کرنے کے بجائے زینے چڑھے۔ ابتدا میں ہفتے میں چند بار 15سے 20 منٹ تک پیدل چلنا مناسب ہے۔
(5)کمر سیدھی رکھتے ہوئےورزش مفید نہیںاگر آپ کو اپنی توند کم کرنی ہے تو کمر سیدھی رکھنے والی ورزش کر کے خود کو اذیت میں مبتلا نہ کریں۔ اس سے توند میں کمی نہیں ہوتی۔ ایک شخص نے 27 روز تک اوسطاََ185 باردرج بالا ورزش کی، لیکن اس کی توند پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ اپنے پیٹ کے عضلات کو مضبوط کرنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ، اس لیے کہ تو ندز یادہ چربی سے بڑھتی ہے۔ اسی طرح پیٹ کے عضلات کم زور ہونے سے بھی تو ند کا کوئی تعلق نہیں۔
کسی بھی خاص عضلے کی ورزش کرنے سے اس کے چاروں طرف کی چربی براہ راست کم نہیں ہوتی۔ تو ندکم کرنے کے سبھی خواہش مند ہوتے ہیں، لیکن اس کے لیے مناسب طریقہ کم لوگ ہی استعمال کرتے ہیں۔
توند کم کرنے کے خواہاں مرد اور خواتین کو چاہیے کہ وہ مناسب طریقہ استعمال کریں، ورنہ نقصان پہنچنے کا احتمال ہوتا ہے۔

کیٹاگری میں : صحت