نجومی ڈی ایس پی ،اپنے مستقبل سے بے خبر سید کلیم امام نے کرپشن پر برخاست کر دیا تعویزدھاگہ ،دم درود، جنسی ادویات لینے والے افسران کی سفارش نہ چلی

لاہور(رپورٹ :اسد مرزا) پولیس افسران اور لوگوں تعویزدھاگہ ،دم درود، جنسی ادویات دینے اور قسمت کا حال بتانے والا ڈی ایس پی اپنے مستقبل سے بے خبر رہا ۔آئی جی پنجاب سید کلیم امام نے ڈی ایس پی بابربن دلاور کو اردل روم کے دوران کرپشن کے الزامات ثابت ہونے پر ملازمت سے برخاست کر دیا ۔ بتایا گیا ہے کہ بابر بن دلاور جو پولیس افسر ہے لیکن دم درود کرنے،ہاتھ لی لکیریں دیکھ کر لوگوں کا انکی قسمت کا حال بتانے،ہومیو پیتھک ادویات کی آڑ میں جنسی ادویات دیکر قابو کرنے کا ماہر ہے ۔

ڈی ایس پی اپنے ان کارناموں کے باعث کئی پولیس افسران بھی اس کے مرید بنے ہوئے ہیں۔بتایا گیا ہے کہ بابر بن دلاور کی بہادری کی بہت سی مثالیں قائم ہیں موصوف جب انسپکٹر تھا تو ہوٹلوں پر اکیلاباوردی چھاپے مارکر لڑکوں اور لڑکیوں کو پکڑتا اور پھر ’’چھوڑ دیتا ‘‘ لاہور میں واقع معروف شاہ تاج ہوٹل اور لاثانی ہوٹل لکشمی چوک میں بھی باقاعدگی سے چھاپے مارتا لیکن اس سے زیر اثر افسران کی وجہ سے اسکے خلاف کوئی کاروائی نہیں کرتا ۔تاہم وزیر آباد میں تعیناتی کے دوران پل پر ناکہ کے دوران ٹرکوں سے سبزی اور پھل کی پیٹیاں اتارنے کی شکایات پر اسے ملازمت سے برخاست کر دیا گیا ۔جس کے بعد ٹربیونل میں اپیل کے بعد بحال ہو گیا ۔

بتایا گیا ہے کہ ڈی ایس پی بابر بن دلاور کو ایک شہری سے 5لاکھ رشوت لینا مہنگا پڑا تاہم ڈی ایس پی کو مستقبل کا علم ہوا تو اس نے رشوت کی لی رقم واپس کردی لیکن شہری نے ان کے خلاف افسران کو تحریری شکایت کر دی، جس کے باعث اس معاملے کی انکوائری ہوئی تو تحقیقاتی افسر نے ڈی ایس پی کو گنہگار قرار دیا ۔ڈی ایس پی نے اپنے ’’محسن ‘‘ افسران سے انکوائری تبدیل کروائی تودوسرے تحقیقاتی افسر اور پھر تیسرے تحقیقاتی افسر نے بھی انہیں گنہگار قرار دیا۔ بتایا گیا ہے کہ گزشتہ روز آئی جی پنجاب سید کلیم امام کے اردل روم میں ڈی ایس پی بابر بن دلاور پیش ہونے سے قبل پڑھائی کرتا رہا اور آئی جی پیش ہونے پر وہاں دم دورد کام نہ آیا جو آئی جی پنجاب نے 3انکوائریز میں گنہگار ثابت ہونے پر اسے ملازمت سے برخاست کر دیا ۔