آصف زرداری اور فریال تالپور کو سماعت کے پہلے ہی دن خوشخبری مل گئی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) : سپریم کورٹ آف پاکستان میں جعلی بنک اکاؤنٹس سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ہم نے آصف علی زرداری اور فریال تالپور کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایسا کوئی حکم جاری نہیں کیا جس سے کسی کی شہرت متاثر ہو۔

ہم اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کرتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ذرا آرڈر پڑھیں کہ کس کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم ہے؟ جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جن کے نام کرمنل کیس رجسٹرڈ ہیں ان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا کہا گیا تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آرڈر میں آصف زرداری اور فریال تالپور کا نام ملزمان کی فہرست میں ہے؟ تو پھر کیا آصف علی زرداری اور فریال تالپور کا نام ای سی ایل میں ڈالنا چاہئیے تھا ؟ چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی ان جعلی اکاؤنٹس کی تحقیقات ہونی ہیں۔

اگر اسکینڈل میں کچھ ہے تو تحقیقات ہونی چاہئیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جو عدالت کا حکم ہی نہیں تھا اس پر شور مچا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ نگران وفاقی وزیر داخلہ اعظم خان نے بدھ کے روز اپنے بیان میں کہا کہ سابق صدر آصف زرداری کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا ہے، ان کا نام سپریم کورٹ کے حکم پر ای سی ایل میں ڈالا گیا ہے۔ بدھ کو نگران وفاقی وزیر داخلہ اعظم خان نے آصف زرداری کا نام ای سی ایل میں ڈالنے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ آصف زرداری کا ام سپریم کورٹ کے حکم پر ای سی ایل میں ڈالا گیا ہے۔
گذشتہ رات موصول ہونے والی خبروں کے مطابق سابق صدر آصف علی زرداری نے منی لانڈرنگ کیس میں سپریم کورٹ میں پیش ہونے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سابق صدر نے وکلاء سے مشاورت کے بعد عدالت میں پیش ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی کے سینئر رہنما نیئر بخاری ، سردار لطیف کھوسہ اور فرحت اللہ بابر ان کے ہمراہ ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق آصف علی زرداری کے ہمراہ ان کی وکلاء کی ٹیم بھی ہو گی۔

وکلاء ٹیم میں فاروق ایچ نائیک اور اعتزاز احسن شامل ہیں۔ واضح رہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کو سپریم کورٹ نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں طلب کر رکھا ہے۔ تاہم اب سپریم کورٹ نے سابق صدر آصف علی زفرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم جاری کرنے کی تردید کر دی ۔