خان جی : میں بتاتا ہوں آپ میں اور نواز شریف میں کیا فرق ہے ۔۔۔۔؟ نامور کالم نگار نے شریفوں کو دھونے کے ساتھ ساتھ باتوں ہی باتوں میں عمران خان کو بھی شاندار مشورہ دے دیا

اللہ تعالیٰ، بلاول کو عمر خضرعطا فرمائے ، یہ بات میں صدق دل اور پورے خلوص سے کررہا ہوں، میرے خیال میں لاکھوں لوگ بھی ان کے لیے دعا گو ہوں گے، اور ان کے والد بھی بلاول کے لیے دعا مانگتے ہوں گے، جیسا کہ میں ہمیشہ سے یہ کہتا آیا ہوں،

نامور کالم نگار نواز خان میرانی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں۔۔۔کہ اختلاف کا مطلب یہ نہیں، کہ کسی کے بارے میں بھی انسان اپنے ذہن میں منفی خیالات رکھے، اسی لیے منصف کو چاہیے کہ وہ فیصلہ سناتے وقت ان چیزوں سے پاک ہو اور یہ ایک حقیقت ہے کہ پورے پاکستان کے سیاستدانوں میں بلاول سب سے زیادہ پڑھا لکھا ہے، اور اس سے قبل ان کی والدہ بھی بلاول زرداری کی طرح آکسفورڈ یونیورسٹی سے پڑھی ہوئی تھیں۔ بلاول کے بارے میں، میں نے جب سوچا ، تو مجھے یوں لگا کہ جب بھی بلاول زرداری کو کسی نے ”ڈکٹیٹ‘ کیا تو وہ پٹڑی سے اتر جاتے ہیں کیونکہ ان کا ذہن، اور زبان ایک دوسرے کا ساتھ نہیں دے رہے ہوتے مگر جب وہ فی البدیہ تقریر کرتے یا کسی موضوع پر اظہار خیال کررہے ہوتے ہیں تو موضوع پہ ان کی گرفت متاثر کرتی ہے، مگر جب بھی کسی نے ان کے لیے تقریر لکھی، اور انہیں یہ بھی کہا گیا، کہ اپنا لہجہ ”ممی ڈیڈی“ والا بنانا ہے، اور یہ ظاہر کرنا ہے کہ مجھے سندھی، یا اردو نہیں آتی، تو پھر یوں لگتا ہے، کہ جیسے گیارہ بجے رات کو شروع ہونے والا

کوئی مزاحیہ پروگرام دیکھ رہا ہوں۔ اگر میں بلاول کے بارے میں یہ سوچ کر مثبت رائے رکھتا ہوں کہ وہ بہت چھوٹی عمر میں ماں کے پیار سے محروم ہوگیا، ہوسکتا ہے کہ وہ اس میدان کارساز میں خود نہ آنا چاہتا ہو۔ مگر میں حضرت عثمان علی ہجویری ؒ کے اس فرمان کو دل میں بٹھائے بیٹھا ہوں، وہ فرماتے ہیں کہ بُرا ہے وہ دوست جسے یہ کہنا پڑے کہ مجھے اپنی دعاﺅں میں یاد رکھنا ، کہ ایک ساعت کا حق صحبت کاتقاضا یہ ہے، کہ اسے ہمیشہ دعاﺅں میں یادرکھا جائے۔ پیغمبرنے فرمایا کہ آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، اس لیے تم میں سے ہرایک کو سوچنا چاہیے کہ اس کا ہم نشین کون ہے، کیونکہ اگر کوئی نیک لوگوں کا ہم نشین ہے، تو باوجود ”بُرا“ ہونے کے نیک کہلائے گا اور اس کی ہم نشینی اسے نیک کردے گی، اور بُروں کی صحبت میں بیٹھنے والا نیک بھی ہو، تو برا ہوجائے گا…. اور آپ کی پارٹی میں مست ، الست اور ملنگ بکثرت پائے جاتے ہیں ایک شخص کعبے کا طواف کررہا تھا، اور یہ دعا اس کے لب پہ تھی، اے اللہ میرے بھائیوں کی اصلاح فرما، لوگوں نے کہا،

اس بلند مقام پر اپنے لیے دعا کیوں نہیں کرتا، اس نے جواب دیا، وہ میرے بھائی ہیں، جن کے پاس میں واپس لوٹ کر جاﺅں گا، اور درست ہوئے تو میں بھی ان کی صحبت میں درست ہو جاﺅں گا ، اور اگر وہ خراب ہوئے، تو لامحالہ میں بھی خراب ہوجاﺅں گا۔ کیونکہ جس محفل یا مجلس میں انسان ہوگا ، اس کی عادات اور افعال جذب کرلیتا ہے عادت ایسی سخت چیز ہے کہ آدمی فیض صحبت سے عالم ہوجاتا ہے۔ طوطا تعلیم سے آدمی کی طرح بولنا سیکھ لیتا ہے، گھوڑامحنت سے ”حیوانیت“ چھوڑ کر انسانی عادات اختیار کرلیتا ہے۔

اب ہمارے امیدواران وزیراعظم ذرا اپنے ہم نشینوں کے ناموں پہ غور کریں، تو عوام یہ عقدہ حل کرسکتے ہیں، بلاول زرداری کو ”نقش کہن“ مٹانا ہوں گے عمران خان، اپنی پارٹی کے بڑوں کی ”توتکار“ اور اپنے جلسوں میں ”نسوانی چیخ و پکار“ خود سن چکے ہیں، مگر ہم پہ طرز حکومت جمہوریت مسلط کردی گئی ہے جو ترکی سے لے کر اب ریگستان عرب وعجم میں ان کے ایوانوں، اور ریگستانوں میں بازگشت کی طرح سنی ، بلکہ سنوائی جارہی ہے۔ مگر میراخیال ہے کہ بلاول کچھ اپنے لیڈروں کے ناموں پہ سختی سے پابندی عائد کریں ،

اور اس سلسلے میں اپنے والد کو بھی قائل کرنے کی کوشش کریں، پاکستان میں جس قسم کے منفی حالات پائے جاتے ہیں۔ مگر ڈاکٹر سلمان کہتے ہیں کہ الیکشن ہوں گے اور وقت پہ ہوں گے، ہم نے الیکشن کمیشن والوں کو بتادیا ہے کہ کس کو کہاں خطرہ ہے، جس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ انسان کی جان کی خیر ہے، چونکہ انتخابات کا وقت ”طے“ ہے لہٰذا وہ وقت پہ ہی ہوں گے مگر راقم کا اصرار ہے کہ ”انتخاب “ تو ہوچکا ہے۔ خیر میں بلاول سے یہ گزارش کررہا تھا ، کہ وہ اپنے لیڈران جماعت کے ناموں پہ مثلاً مولا بخش چانڈیو کو کہیں کہ وہ صرف ”مولابخش “ لکھا کریں، کیونکہ یہ ایک مکمل اور جامع نام ہے، چانڈیو لکھنے سے اس کی دہشت ختم ہوجاتی ہے اس طرح ”شیریں رحمان“ نام تو ٹھیک ہے، مگر یوسف رضا گیلانی کہتے ہیں کہ یہ جلسوں ، جلوسوں میں شیریںرحمان کو بہت مہنگا پڑتا ہے، لہٰذا نام میں ”شیریں“ ہٹا دیں وغیرہ وغیرہ میرا خیال ہے کہ اس کی بجائے اگر اعتزاز احسن کے فتنہ انگیزبیانات پہ پابندی لگادیں، تو مستقبل میں اس کے بڑے دوررس نتائج سامنے آئیں گے، ورنہ ”قدر“کے بارے میں

حضرت علی کرم اللہ وجہہ‘ کے کہے ہوئے بیان کا مجھے حوالہ دینا پڑے گا، جن پہ آپ کا بھی ایمان ویقین ہے۔ بہرحال بلاول کو ”اپنا خیال“ رکھیے گا پہ سختی سے عمل کرنا چاہیے، ان حالات میں احتیاط انتہائی ضروری ہے، اور تحریک انصاف کے ” انصاف“ کو ابھی مشکوک سمجھیں اب جہاں تک میرے خیالات کا تعلق ہے، میں سمجھتا ہوں کہ جب انسان اتنا بے بس ہے کہ اسے یہ نہیں پتہ کہ اسے یہ مہلت دی گئی ہے، کہ نہیں کہ وہ اگلا قدم اُٹھا سکے گا، یا سانس لے سکے گا یا نہیں، جہاں حضرت سلیمان علیہ السلام اس بات سے لاعلم تھے کہ وہ اگلا قدم اُٹھا سکیں گے یا نہیں۔ جہاں کونین کے سردار ہمارے محمدﷺ اپنے قریب ترین رشتہ داروں کے حق میں کہ وہ فلاح کے راستے پہ آکر مسلمان ہوجائیں، مگر وہ بھی امر الٰہی کے آگے خاموش تھے، بلکہ اُنہیں ان کے حق میں دعا مانگنے سے بھی منع کردیا گیا ۔جہاں حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام کے بیوی اور بچے ان کی خواہش کے برعکس حکم عدولی کی راہ میں چل پڑیں، یہ تو نبیوں اور پیغمبروں کی اللہ سبحانہ‘ وتعالیٰ کے آگے

بے بسی کی باتیں ہیں، وہاں ہم جیسے انسانوں کا خدا کی مرضی کے آگے سرجھکا دینے کے علاوہ اور کیا چارہ ہے ؟

اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا، اور دنیا میں اپنا خلیفہ بنا کر بھیجا، مگر حقیقت میں آدم زاد اپنے جدامجد آدم علیہ السلام کی طرح صرف مجبور ہی نہیں، مجبورمحض ہے، اور بقول حضرت علامہ اقبالؒ مسلمان کو جنت میں ہمیشہ کے لیے زندہ رہنے کی پابندی ہے، اور دنیا میں مخصوص مدت کے بعد مرنے کی پابندی ہے۔ اپنے خلیفے کو اللہ نے اختیار دیا کہ وہ دنیا میں اچھے کام کرے یا بُرے یہ اس کی اپنی مرضی یا صوابدیدی اختیار ہے، مگر ہم اللہ سے شکوہ نہیں کرسکتے ،کیونکہ انہوں نے صراط مستقیم کے بارے میں بتادیا ہے، اور اختیار کے بارے میں سابق آرمی چیف آصف نواز جنجوعہ اور جنرل حمید گل اس بات کی بہترین مثال ہیں، اللہ تعالیٰ نے دونوں کو مہلت نہیں دی، عمران خان کی باتیں، اور ان کے منشور سے کوئی اختلاف نہیں کرسکتا کو ایسا شہری ہوگا، جسے یکساں نظام تعلیم پسند نہ ہو، کون سا ایسا بدبخت ہوگا، جسے بدعنوانی اور کرپشن کے خاتمے کی بات بری لگے، کونسا ایسا بے حس ہوگا،

جسے پاکستان کے سرپہ چڑھے قرضوں کو اُتارنے کی فکر نہ ہو، اور کون سا ایسا مسلمان ہوگا، جس کو ملک کو اسلامی فلاحی مملکت بنانے کا درد نہ ہو…. مگر ہماراسوال تو یہ ہے، کہ حکومت مل جانے کی باوجود بھی نہ تو مولانا فضل الرحمن نے خیبر پختونخوا میں اسلام نافذ کیا، اور نہ ہی سراج الحق صاحب نے عمران خان کا سینئر وزیر ہونے کے باوجود کوئی عملی قدم اٹھایا، جبکہ حضور کی شریعت ، فقہ ، احادیث اور قرآن پاک موجود ہے، محض شرعی عدالتیں، اور مولانا شیرانی کو سربراہ بنالینے سے ملک اسلامی نہیں بن جاتا، ان سب کی بیگمات بھی مسلمان ہیں۔ اور الحمدللہ، آپ کی بیگم بھی سنا ہے، عملاً مسلمان ہیں، زرداری، نواز شریف وغیرہ کے پیروں پہ تو آپ کی تنقید جائز ہے، مگر کیا شریعت اس بات کی اجازت دیتی ہے، کہ ایک عورت کے ہاتھ پہ باقاعدہ بیعت کرلی جائے، جبکہ گھر میں سکون کی خاطر ہرکوئی رن مرید بنا ہوا ہے مگر ملک میں سکون کی خاطر صرف اسلامی فلاحی مملکت نہیں ،اسلامی نظام اور انصاف نافذ کرنا پڑے گا، انشاءاللہ میں آپ کو بتاﺅں گا کہ نواز شریف، اورآپ کا جرم ایک جیسا ہے، تھوڑے سے فرق کے ساتھ ۔