عمران خان وزیراعظم کا حلف اُٹھا سکتے ہیں یا نہیں؟ الیکشن کمیشن نے تمام قیاس آرائیوں کا خاتمہ کردیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) : الیکشن کمیشن آف پاکستان نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی کامیابی کے نوٹیفکیشن روکنے سے متعلق وضاحت پیش کردی ہے،ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ عمران خان رکن قومی اسمبلی کا حلف اٹھا سکتے ہیں،،الیکشن کمیشن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کیس کی سماعت 9اگست کوکرے گا، الیکشن کمیشن یا عدالت کی جانب سے سزا سنانے پر عمران خان وزیراعظم کا حلف نہیں اٹھا سکیں گے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عام انتخابات 2018ء میں جن امیدواروں کی کامیابی کے نوٹیفکیشن روکے ہیں یا پھر جن امیدواروں کی کامیابی کے مشروط نوٹیفکیشن جاری کیے ہیں ان سے متعلق وضاحت کی ہے کہ عمران خان سمیت ایسے تمام امیدوارممبر قومی اسمبلی کا حلف اٹھا سکیں گے ۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان بھی وزیراعظم کاحلف اٹھا سکتے ہیں ۔

ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کیس کی سماعت 9اگست کوکرے گا۔تاہم الیکشن کمیشن یا عدالت کی جانب سے سزا سنانے پر عمران خان قومی اسمبلی کا حلف نہیں اٹھا سکیں گے۔۔الیکشن کمیشن نے مزید وضاحت پیش کی ہے کہ اگر الیکشن کمیشن یا عدالت نے فیصلہ عمران خان کیخلاف فیصلہ جاری کردیا توپھر عمران خان نااہل ہوجائیں گے۔
واضح رہے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے 817 امیدواروں کی کامیابی کے نوٹیفکیشن جاری کردیے ہیں۔ان میں قومی اسمبلی کے 261، بلوچستان اسمبلی کے 47کامیاب امیدوارو ں کے نوٹیفکیشن جاری، خیبرپختونخواہ کے 92 امیدواروں کی کامیابی کے نوٹیفکیشن جاری کیے گئے ہیں۔قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے 23کامیاب امیدواروں کے کامیابی کے نوٹیفکیشن روکے گئے ہیں۔
ان میں 13قومی اسمبلی کے امیدوار شامل ہیں جن کے نوٹیفکیشن روکے گئے ہیں۔دوسری جانب جن کامیاب امیدواروں کے نوٹیفکیشن روکے گئے ہیں ان میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان بھی شامل ہیں۔۔تحریک انصاف ملک کی عددی لحاظ سے الیکشن میں جیتنے والی اکثریتی جماعت ہے۔۔پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی نے انہیں وزیراعظم کیلئے بھی نامزد کردیا ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق الیکشن کمیشن نے عمران خان کی 2حلقوں سے کامیابی کا نوٹیفکیشن روک لیا ہے۔
عمران خان کی کامیابی کا نوٹیفکیشن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے باعث روکا گیا ہے۔۔عمران خان نے اسلام آباد میں پولنگ اسٹیشن پرووٹ کاسٹ کرتے وقت میڈیا کے سامنے دکھا کرووٹ دیا تھا۔جس پران کااین اے 53اور لاہور سے این اے 131سے کامیابی کا نوٹیفکیشن روک لیا گیا ہے۔جبکہ این اے بنوں 35، این اے 95،، این اے 243سے انتخابات میں کامیابی کا مشروط نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔
الیکشن کمیشن نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی کامیابی کا نوٹیفکیشن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پر روکا ہے۔انہوں نے ووٹ کاسٹ کرتے وقت میڈیا کے سامنے دکھا کرووٹ دیا۔ جبکہ اس موقع پرانہوں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے میڈیا سے گفتگو بھی کی تھی ۔ جس پرالیکشن کمیشن نے نوٹس لیتے ہوئے ان سے جواب طلب کیا تھا۔ تاہم الیکشن کمیشن نے آج تمام کامیاب امیدواروں کے نوٹیفکیشن جاری کردیے ہیں لیکن عمران خان کی 2 حلقوں میں کامیابی کانوٹیفکیشن روک لیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق عمران خان کی کامیابی کا نوٹیفکیشن دوحلقوں سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پرروکا گیا ہے۔تاہم تین حلقوں سے عمران خان کی کامیابی کے مشروط نوٹیفکیشن جاری کردیے ہیں۔ان حلقوں میں این اے 35بنوں ،این اے 95میانوالی، اور این اے 243کراچی کے حلقے شامل ہیں۔ان حلقوں میں عمران خان کی کامیابی کا نوٹیفکیشن ضابطہ اخلاق کیس کے فیصلوں سے مشروط کردیا ہے۔اسی طرح عدالتوں کی جانب سے جن کامیاب امیدواروں کے نوٹیفکیشن روکنے کا حکم دیا تھا ان کے نوٹیفکیشن بھی جاری نہیں کیے گئے۔جبکہ جن حلقوں میں حکم امتناع نہیں دیا گیا ان حلقوں کے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیے ہیں۔