پی سی بی ایوارڈز: نوجوان کھلاڑیوں نے سینئرز کو پیچھے چھوڑ دیا

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سالانہ ایوارڈز میں زیادہ تر ایوارڈز نوجوان کھلاڑیوں نے جیت کر میدان مار لیا، شعیب ملک، یاسر شاہ، محمد عامر اور محمد حفیظ کے حصے میں کچھ نہ آیا۔

بدھ کی شب مقامی ہوٹل میں ہونے والے ایوارڈز میں سابق کھلاڑیوں شاہد آفریدی اور دیگر نے کامیاب کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کئے۔

امتیاز احمد اسپرٹ ایوارڈ پاکستانی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کو دس لاکھ روپے کے ساتھ ملا۔ انہوں نے اپنا اعزاز چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی سے وصول کیا۔

سال کے بہترین ٹیسٹ کھلاڑی فاسٹ بولر محمد عباس منتخب ہوئے۔ ان کو رواں سال ٹیسٹ میچز میں 27 وکٹیں حاصل کرنے پر ایوارڈ سے نوازا گیا۔

سال کے بہترین ون ڈے کھلاڑی حسن علی، سال کے بہترین ٹی ٹوئینٹی کھلاڑی بابر اعظم، بہترین خواتین ون ڈے کھلاڑی ثناء میر، بہترین ٹی ٹوئنٹی خواتین کھلاڑی جویریہ خان قرار پائیں۔

سال کے بہترین ایمرجنگ کھلاڑی فہیم اشرف اور بہترین ایمرجنگ خواتین کرکٹر ڈائنا بیگ قرار پائیں۔ان تمام کھلاڑیوں کو چھ چھ لاکھ روپے بھی ملے۔

سال کے بہترین ڈومیسٹک بیٹسمین شان مسعود، سال کے بہترین ڈومیسٹک بولر اعزاز چیمہ اور بہترین وکٹ کیپر کامران اکمل قرار پائے۔

سال کی بہترین ڈومیسٹک بیٹر جویریہ خان بہترین بولر جویریہ خان اور وکٹ کیپر سدرہ نواز قرار پائیں۔

بلائنڈ کرکٹ ٹیم میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے عامر اشفاق کو ایوارڈ دیا گیا، بیسٹ پلیئر آف دی ایئر کا ایوارڈ محمد نوید قمر کو دیا گیا۔

سال کے بہترین ڈس ایبلڈ کرکٹر کا ایوارڈ نہار عالم کے حصے میں آیا۔سال کے بہتر ین ڈومیسٹک اسکورر اظہرحسین، بہترین کیوریٹر پنڈی کے ریاض احمد، بہتر ین امپائر آصف یعقوب بہترین میچ ریفری محمد انیس اور بہترین ڈومیسٹک کوچ سجاد اکبر قرار پائے۔

پی ایس ایل تھری ایلی مینٹر راؤنڈ کے ٹاس کوائنز 55 ہزار جبکہ فائنل ٹاس کوائن 65 ہزار روپے میں نیلام ہوئے، شعیب ملک کا ٹی ٹوئنٹی میں 2 ہزار رنز والا بیٹ ایک لاکھ 63 ہزار میں نیلام ہوا، سرفراز احمد کے چیمپئنز ٹرافی والے گلوز اور بیٹ 6 لاکھ روپے میں نیلام ہوئے جبکہ سرفراز کا بیٹ فخر زمان نے خریدا۔

شاہد آفریدی نے ایدھی فاونڈیشن کے لئے پچاس لاکھ روپے اور فیصل ایدھی نے شاہد آفریدی فاونڈیشن کے لئے پچاس لاکھ روپے عطیہ کا اعلان کیا۔

اس موقع پر نجم سیٹھی نے کہا کہ پاکستانی ٹیم میں ڈسپلن کی جو کمی تھی اسے پورے کردیا گیا جس نے ٹیم کا گراف مسلسل اوپر کردیا، اب یہی ڈسپلن اور پروفیشنل ازم لانے کے لئے خواتین ٹیم کے ساتھ بھی غیر ملکی کوچز لارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ کے لئے اگلے دو تین ماہ اہم ہیں۔اس دوران ہمیں 8,9 حقوق فروخت کرنا ہیں اگر خد انخواستہ پھسل گئے تو پاکستان کرکٹ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا، یہ مرحلہ ہمیں اعتماد سے طے کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فوج، حکومت، گورننگ بورڈ کے اراکین اور شائقین کا شکریہ جن کی وجہ سے پاکستان میں انٹر نیشنل کرکٹ واپس آئی ہے۔کراچی والوں کا جس قدر شکریہ ادا کروں کم ہے جنہوں نے مثالی نظم وضبط کی وجہ سے پاکستان سپر لیگ کو کامیاب کیا۔پاکستان سپر لیگ سے ہم نے کروڑوں روپے کمائے اور اسی رقم سے کرکٹ کو فروغ دے رہے ہیں۔