چین نے ایران پر امریکی پابندیوں کی مخالفت کر دی

چین نے ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کے حوالے سے اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے باور کرایا ہے کہ وہ جانبدارانہ پابندیوں کی مخالفت کرتا ہے۔
عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق بدھ کو چینی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ تجارتی تعاون سے سلامتی کونسل کی کسی بھی قرارداد کی خلاف ورزی نہیں ہوتی ہے اور چین کے قانونی حقوق کا تحفظ ہونا چاہیے، چینی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ چین ہمیشہ سے جانبدارانہ پابندیوں اور لانگ آرم پالیسی کا مخالف رہاہے۔
ادھر عراقی صدر فواد معصوم نے ایک عراق ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراق علاقے میں اس وقت کسی قسم کی کشیدگی نہیں چاہتا، عالمی برادری کے رکن کی حیثیت سے ایران پر لاگو امریکی پابندیوں کا احترام کرے گا، ہمیں عراقی عوام کا مفاد فی الوقت عزیز ہے۔
دوسری جانب امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان ہیذر نوورٹ نے ایک پریس کانفرنس میں ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام پھیلا رہا ہے اور اپنے عوام پر توجہ نہیں دے رہا ہے۔
امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان نے مزید کہا کہ امریکا ایک ایسا معاہدہ چاہتا ہے جو صرف جوہری پروگرام سے متعلق نہ ہو بلکہ تہران کا برتاؤ اور اس کا بیلسٹک میزائل پروگرام بھی اس میں شامل ہو۔
انھوں نے کہا کہ ہم ایرانی حکمراں نظام کے برتاؤ میں تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کو چاہیے کہ اپنے عوام پر توجہ دیں اور اپنا پیسہ دہشت گردی کی فنڈنگ نہیں بلکہ اپنے عوام پر خرچ کریں۔
سائبر سیکیورٹی اور انٹیلی جنس ماہرین نے کہا کہ ایران پر پابندیوں کی بحالی کے بعد ایسے امکانات ہیں کہ ایران امریکا کو سائبر حملوں کا نشانہ بنائے گا۔