وزارت عظمیٰ ملنے میں بڑی رکاوٹ! این اے 53 میں عمران خان کی کامیابی لٹک گئی!معافی نامہ بھی مسترد۔۔۔ کپتان کو ایک اور بُری خبر سنادی گئی

لاہور (ویب ڈیسک) ووٹ کی رازداری پامال کرنے سے متعلق کیس میں الیکشن کمیشن نے عمران خان کا تحریری جواب مسترد کر دیا،،الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ عمران خان 10 اگست کو اپنے دستخط کے ساتھ بیان حلفی جمع کروائیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق الیکشن کمیشن نےووٹ کی رازداری ظاہر کرنے سے متعلق سماعت کل تک ملتوی کر دی ہے۔اور الیکشن کمیشن نے عمران خان کے وکیل بابراعوان کی جانب سے جمع کرایا گیا تحریری جواب مسترد کردیا ہے اور حکم دیا ہے کہ عمران خان معافی نامہ اپنے دستخط کے ساتھ جمع کروائیں۔

واضح رہے بیلٹ پیپر پر مہر لگائی جس کا الیکشن کمیشن نے نوٹس لیا تھا۔ آج چیف الیکشن کمشنر سردار رضا کی سربراہی میں 4 رکنی بینچ عمران خان کے خلاف انتخابی رازداری ظاہر کرنے کے از خود نوٹس کی سماعت کی۔
جس سلسلے میں عمران خان کے وکیل بابر اعوان کمیشن کے سامنے پیش ہوئے اور تحریری جواب جمع کروایا تھا۔تحریری جواب میں کہا گیا کہ عمران خان نے جان بوجھ کر ووٹ نہیں دکھایا۔

اور نہ ہی ان کی مرضی سے ووٹ کی تصاویر لی گئی تھیں۔ رش کے باعث مہر لگانے والی جگہ کا پردہ گرگیا تھا، عمران خان نے پوچھا تھا کہاں کھڑے ہوکر مہرلگاؤں۔۔۔عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جب عمران خان ووٹ دینے آئے تو میزیں ٹوٹ گئیں اور اسکرینیں بکھر گئیں۔ تحریری جواب میں استدعا کی گئی ہے کہ ووٹ دکھانے میں میرے مؤکل کی مرضی شامل نہیں لہٰذا ووٹ کی رازداری افشا کرنے والا کیس ختم کرکے این اے 53 سے روکا گیا نوٹی فکیشن جاری کیا جائے۔
الیکشن کمیشن نے عمران کے خلاف ووٹ کی رازداری ظاہر کرنے کے کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ واضح رہے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے 817 امیدواروں کی کامیابی کے نوٹیفکیشن جاری کردیے ہیں۔۔۔عمران خان کی کامیابی کا نوٹیفکیشن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے باعث روکا گیا ہے۔۔۔عمران خان نے اسلام آباد میں پولنگ اسٹیشن پرووٹ کاسٹ کرتے وقت میڈیا کے سامنے دکھا کرووٹ دیا تھا۔جس پران کااین اے 53اور لاہورسے این اے 131سے کامیابی کا نوٹیفکیشن روک لیا گیا ہے۔جبکہ این اےبنوں 35، این اے 95،،،، این اے 243سے انتخابات میں کامیابی کا مشروط نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔