برطانوی رکن پارلیمنٹ بورس جانسن کےخلاف تحقیقات کا آغاز

برقعہ پوش خواتین کی توہین کرنے والے برطانوی رکن پارلیمنٹ بورس جانسن کےخلاف تحقیقات کا آغاز کردیا گیا وزیراعظم ٹیریزا مے کی جانب سےسابق وزیرخارجہ پرسخت تنقید کی گئی اور کہا کہ لباس کاانتخاب خواتین کاحق ہے۔ادھر خواتین کا احتجاج بھی شروع ہوگیا ہے۔
کنزریٹو پارٹی کےضابطہ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزی پر برطانوی رکن پارلیمنٹ بورس جانسن کے خلاف تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔بورس جانسن نے ڈنمارک کی جانب سےبرقعہ پرپابندی کی مخالفت کی تھی مگر کہا تھا کہ برقعہ پوش افراد بینک لٹیروں اور لیٹر باکس جیسے نظر آتے ہیں۔
بورس جانسن کےاس بیان کے خلاف انکے حلقہ انتخاب میں بھی مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاج کرنیوالوں کا کہنا تھا کہ ٹوری پارٹی اسلامو فوبیا پھیلا رہی ہے اور بورس جانسن کو ٹوری پارٹی سے نکالا جائے۔
برطانیہ کی وزیراعظم ٹیریزامے نے بھی بورس جانسن کےبیان پر تنقید کرتے ہوئے کہاہے کہ کسی کوبھی اس بات کاحق نہیں ہے کہ وہ خواتین کوان کےلباس پر ٹوکے،بورس جانسن نے جو الفاظ اس حوالے سے استعمال کیے وہ ناپسندیدہ تھے، انہیں ایسانہیں کرنا چاہیے تھا۔
ادھر لندن اور دیگر شہروں میں خواتین نے احتجاج کیا ہے اور بورس جانسن کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے انکا کہنا تھاکہ ایسے شخص کو سخت سزا ملنی چاہئے جو معاشرتی تفریق کا سبب بن رہا ہے اعلی عہدوں پر رہنے کے باوجود انہوں نے کچھ نہیں سیکھا اس موقع پر خواتین نے شدید نعرے بازی بھی کی۔