خواتین ووٹرز کا کم ٹرن آؤٹ: پی کے 23 شانگلہ میں دوبارہ انتخابات کا حکم

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبرپختونخوا اسمبلی کے حلقے پی کے 23 شانگلہ میں خواتین کے 10 فیصد سے کم ووٹ کاسٹ کرنے پر انتخابات کالعدم قرار دیتے ہوئے دوبارہ الیکشن کا حکم دے دیا۔
یاد رہے کہ پی کے 23 شانگلہ سے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار شوکت علی یوسفزئی 17 ہزار 399 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے۔
اس حلقے میں خواتین ووٹرز کی تعداد 86698 ہے لیکن 25 جولائی کو پولنگ کے دن صرف 3505 خواتین نے ووٹ ڈالے، جو کہ الیکشن کمیشن کے قوانین کے خلاف ہے۔
مذکورہ کیس کی 7 اگست کو ہونے والی سماعت کے دوران الیکشن کمیشن نے اس حلقے سے پی ٹی آئی امیدوار شوکت علی یوسفزئی کی کامیابی کا نوٹیفکیشن روکنے کا حکم دیا تھا۔
چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمد رضا کی سربراہی میں 5 رکنی کمیشن نے آج پی کے 23 شانگلہ میں خواتین ووٹرز کا ٹرن آؤٹ کم ہونے کے معاملے پر سماعت کی۔
سماعت کے دوران شوکت یوسفزئی کے وکیل پیش ہوئے اور دلائل کے دوران کہا کہ پی کے 20 میں خواتین کا ٹرن آؤٹ 10 فیصد سے کم رہا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہر پولنگ اسٹیشن پر بڑی تعداد میں سیکیورٹی اور پولنگ اہلکار تھے۔
وکیل کے مطابق ولی خان کے سوا کسی نے خواتین کے کم ووٹ کاسٹ کیے جانے کی شکایت نہیں کی۔
جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ‘اگر کوئی بھی شکایت نہ کرتا تو ہم اپنے ریکارڈ سے از خود نوٹس لے سکتے ہیں’۔
ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ‘آپ کے خیال میں ہم اپنی اس مہم میں کامیاب نہیں ہوئے کہ خواتین آکر ووٹ ڈالیں’۔
چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ ‘گزشتہ انتخابات میں دیر میں خواتین کے ووٹ پول نہ ہونے پر ضمنی انتخاب کروایا گیا تھا، آپ نے دیکھا اس بار دیر سے کتنا اچھا ٹرن آوٹ رہا اور اپر دیر میں خواتین کا ٹرن آؤٹ 30 فیصد ہے’۔
سماعت کے بعد الیکشن کمیشن نے اس معاملے پر فیصلہ محفوظ کرلیا اور بعدازاں فیصلہ سناتے ہوئے پی کے 23 کے انتخابی نتائج کو کالعدم قرار دے کر دوبارہ انتخابات کو حکم دے دیا۔