امریکہ نے وزیر اعظم عمران خان کی امریکی وزیر خارجہ سے متنازعہ فون کال کا تحریری ریکارڈ پاکستان بھجوا دیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) ::امریکہ نے وزیراعظم عمران خان کی امریکی وزیرخارجہ سے گفتگو کا تحریری ریکارڈ پاکستان کو بھیج دیا۔ تحریری ریکارڈ آ جانے کے بعد پاکستان کو تاریخی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کی حکومت کو قائم ہوئے 2 ہفتے ہو چکے ہیں ۔ایک جانب عوام حکومتی فیصلوں سے متاثر نظر آتی ہے تو دوسری جانب تحریک انصاف کی حکومت پہلے ہی 2 ہفتوں میں بڑے تنازعات میں الجھ گئی۔

وزارت خارجہ بھی وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے اقدامات سے نالاں نظر آنے لگی۔۔امریکہ کے ساتھ شروع ہونے والا تنازع بھی دفترخارجہ کو اعتماد میں لئیے بغیر چھیڑا گیا۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم ،امریکی وزیرخارجہ کی گفتگوکا تنازع ترجمان دفترخارجہ کی جوابی ٹویٹ پرختم تھا۔
وزیرخارجہ نےاس معاملےپربات نہ کرنےکےدفترخارجہ کےمشورےکےباوجودپریس کانفرنس کی۔

وزیرخارجہ کےجواب درجواب سےامریکی وزیرخارجہ کادورہ متاثرہونےکا خدشہ ہے۔۔تحریک انصاف کی نئی حکومت کےسفارتی معاملات پردفترخارجہ میں حکام بھی پریشان ہیں۔امریکی وزیرخارجہ کی کال وزیراعظم نےکیوں سنی،فیصلہ کس نےکیا،دفترخارجہ لاعلم رکھا گیا۔فترخارجہ نےوزیراعظم ،امریکی وزیرخارجہ میں ٹیلیفونک رابطےکی مخالفت کی تھی۔دفترخارجہ نے وزیراعظم سے امریکی صدریانائب صدرکی گفتگو کی تجویز دی تھی۔

امریکی وزیرخارجہ کی کال ان کےہم منصب وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کو لینے کی تجویز دی گئی۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق امریکہ نے وزیراعظم عمران خان کی امریکی وزیرخارجہ سے گفتگو کا تحریری ریکارڈ پاکستان کو بھیج دیا۔ تحریری ریکارڈ آ جانے کے بعد پاکستان کو تاریخی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔۔امریکہ نے وزیرخارجہ مائیک پومپیو اور وزیراعظم عمران خان کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو کا تحریری ریکارڈ پاکستان کو بھیج دیا ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ گفتگو کے دوران کیا بات ہوئی تھی۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے تحریری ریکارڈ سے حکومت کو شرمندگی ہوئی ہے۔ امریکی دفتر خارجہ کی طرف سے بیان میں کہا گیا تھا کہ پومپیو نے عمران کے ساتھ بات چیت کے دوران دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا ذکر کیا تھا، پاکستانی وزارت خارجہ کے سینئر عہدیداروں کا کہنا ہے حکومت نے پومپیو کے 5 ستمبرکے دورے سے قبل ہی اس ایشو کو دفن کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ہم مزید غلط فہمیاں پیدا نہیں کرنا چاہتے۔