بزدار کو عزت دو باعث افتخار انجینئر افتخار چودھری

مسئلہ یہ نہیں ہے کہ عثمان بزدار ہیلی کاپٹر پر کیوں بیٹھا ہے یا اس کی وجہ سے ایک بچی چل بسی ہے۔اور بے شمارجھوٹے الزامات اس بے چارے وزیر اعلی پر دھر دیئے گئے ہیں ایک جان چھٹتی نہیں دوسرا آن ٹپکتا ہے۔اس سارے کھیل میں میڈیا کا ایک گروہ جو ہمیشہ عمران خان کے خلاف رہا اب وہ عمران خان کے اس دلیرانہ فیصلے کو ناکام بنانے تلا ہوا ہے۔عمران خان نے روائتی مافیا سے اس کی پگ چھین کر پنجاب کے اس پسماندہ علاقے کے ایک معمولی سردار کے سر پر رکھ دی جسے یہ لوگ اپنے برابر بھی نہیں بٹھانا پسند کرتے تھے آخر بزدار ہی کیوں؟وہ صرف اس لئے کہ سنٹرل پنجاب کی بالا دستی چھین کر اس پسے ہوئے طبقے کی طرف موڑ دی گئی جو اس سے پہلے اساں قیدی تخت لاہور دے ہاں کا نعرہ لگاتے تھے۔جو روہی میں کرلاتے تھے۔معاف کرنا میں متعصب نہیں ہوں اور پارٹی کا مرکزی عہدے دار بھی ہوں میری بات قابل مواخذہ ہو سکتی ہے۔لیکن میں نے محسوس کیا پی ٹی آئی کی صفوں سے غریب سردار کی کوئی بات نہیں کر رہا۔وزیر اطلاعات دوست ہے مگر سر منڈاتے ہی اولے پڑنے کی وجہ سے فیاض چوہان کی آواز بھی دبا دی گئی ہے اس کی گھن گرج بھی اداس سی کونے میں لگی ہے۔شائد بزدار کو کسی پرنٹ میڈیا دلیر کی ضرورت ہے۔پی ٹی آئی کو یہ بات سمجھ میں ہی نہیں آرہی کہ عثمان بزدار کو نشانے پر کیوں رکھا گیا ہے ؟پہلے ایک قتل کا کیس لایا گیا جس میں وہ بری ہو چکے تھے چالاک لوگوں کے تانے بانے دیکھو وہ ماڈل ٹائون کے چودہ شہیدوں کی بات نہیں کرتے،وہ اس بچے کو شہید جمہوریٹ کہہ کر بچ نکلتے ہیں جو کیوں نکالا کی جیپوں کے نیچے کچل دیا گیا، کرپٹ میڈیا ہائوس اور چند لفنٹر ایک ایسے کیس کو لے کر دوڑ اٹھے کہ جناب یہ قتل میں ملوث رہے ہیں۔کاش کوئی انہیں بتاتا کہ کیس تو چودھری ظہور الہی پر بھی بنا تھا انہیں بھینس چوری میں دھر لیا گیا تھا کیس تو سید مودودی پر بھی بنا اور سزائے موت سنائی گئی مولانا عبدالستار نیازی کو بھی ختم نبوت میں دھر لیا گیا۔اللہ سمجھے پنجاب پولیس کو یہ ہاتھی کو پھینٹا لگائے تو وہ اقرار صالح کر لیتا ہے ہاں میں چوہا ہوں جی میں چوہا ہوں۔دوستو! میں جانتا ہوں کہ پیڑ ہے درد ہے کیسا؟

یاد رکھئے اس لڑائی میں پی ٹی آئی کے وہ ارسطو بھی شامل ہو گئے ہیں جو گھر بیٹھے پیکیج لگا کر تن بن بونجا کر رہے ہیں۔انہیں جان لینا چاہئے کہ بزدار کی شکست در اصل عمران کو ہرانے کی لڑائی ہے شیخ رشید کو بد دماغ اور متکبر ظاہر کرنا بھی عمران خان کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے برابر ہے۔بزدار اگر اس طوفانی مہم کے نتیجے میں گھر چلے گئے تو پھر پڑھتے رہنا کہ ابھی جام عمر بھرا نہ تھا کف دست ساقی چھلک پڑا رہی دل کی دل ہی میں حسرتیں کہ نشان قضا نے مٹا دیا۔

بہت سوں کو ان کا ہیلی استعمال کرنا کھٹک رہا ہے۔حضور حکومت کے نئے دن ہیں بنی گالہ میں وزیر اعلی کا آنا ضروری ہے۔لاہور سے بنی گالہ پانچ گھنٹے لگتے ہیں اگر تیز سواری استعمال کر لی جائے تو کیا حرج ہے اصل مسئلہ گورننس کا ہے ۔میڈیا کے وہ لوگ جنہوں ازل سے منفیت کا روگ ہے اگر عثامن سائیکل پر بھی آئے تو اعتراض ہو گا کہ ٹائروں کی ہوا انڈیا سے آئی تھی ۔ہیلی کاپٹر تو عمران مخالفوں کی آنکھ میں روڑا بن کے اٹکتا ہے،جہاں ہیلی وہاں پھڈہ اسی ہیلی کے ایک مالک نے نے پنجاب حکومت بنائی اور مرکز میں کردار ادا کیا۔بابا ہیلی کاپٹر رکھنا جرم ہے اگر یہ سنگین جرم ہے تو جہاز تو مریم بی بی کے سمدھی چودھری منیر کے پاس بھی ہے ۔ہاں اس مالک کے پاس جو عزم اور جو حوصلہ تھا وہ شائد ناپید تھا۔اس بندے نے نہ اپنا ٹکٹ لیا نہ اپنے بیٹے کا اور آج میں جہانگیر ترین کے بارے میں ایک ایسی بات لکھ رہا ہوں جو بہت کم لوگوں کو معلوم ہے وہ اسلام آباد کی ایک معروف سیاسی شخصیت جو اس شہر کی منتحب وائس چیئرمین ہے میری مراد سیمی ایزدی سے ہے،اس شخص نے اس کی کبھی مدد نہیں کی ۔حتی کے خواتین کی مخصوص نشستوں میں اسے نظر انداز کیا گیا تو بھائی سے بات کی جواب ملا میں کسی کو اپنی بہن کے بارے میں نہیں کہہ سکتا۔سچ پوچھیں جہانگیر ترین میری پارٹی کے سیکرٹری جنرل رہے میں نے آج تک ان سے کوئی الگ سے ملاقات نہیں کی مگر اتنا معلوم تھا کہ یہ شخص دریا دل ہے اور بڑے حوصلے والا ہے۔اسی لئے تو صدر پاکستان نے مشکل میں انہیں ہی بلایا ہے۔آج کے اس دور میں اسی پی ٹی آئی میں ایک ایک گھر میں تین تین ٹکٹ دئے گئے جہانگیرخان ترین چاہتا تو سیمی قومی اسمبلی میں بیٹھ سکتی تھی مگر اس نے ایم پی اے کے لئے بھی سفارش نہیں کی مگر دوسری جانب وہ آزاد اراکین کو بھر بھر کر لاتا رہا ۔اور انہیں بنی گالہ میں بیٹھے لیڈر کے سامنے پیش کرتا رہا جس کے نتیجے میں حکومت بنی۔

لوگ کہتے ہیں کہ یہ حکومت نہیں چلنے والی جی ہاں ایسی ہی باتیں 1947میں کی گئیں کہ پاکستان چھ ماہ سے زیادہ نہیں چل سکتا۔اور اسی اللہ نے قائد اعظم کی مدد کی وہ پاکستان چلا اور انشاء اللہ رہتی دنیا تک رہے گا۔
عمران خان کے پائوں سے سیڑھی نکالنے کی کوشش جاری ہے۔میں دشمنوں اور مخالفوں کی بات نہیں کرتا لیکن اپنے اس انصافینز بھائیوں سے درخواست کرتا ہوں خدا را عمران خان کا ساتھ دو۔ڈاکٹر غلام حسین مرحوم آف جہلم نے ایک بار کہا تھا ہم مانتے تو سب خدا کو ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم اس کی ایک بھی نہیں مانتے ۔یہی بات عمران خان کے بارے میں سوچتا ہوں کہ اس کی پارٹی کا دم بھرنے والے تو کروڑوں میں ہیں مگر اس کے فیصلوں کے پیچھے کھڑے ہونے والے کوئی کوئی ہیں۔

عثمان بزدار کو مجھے اور آپ نے کھڑے کرنا ہے۔سنٹرل پنجاب کے چیرہ دستوں کے ہاتھوں اسے بچانا ہے۔جنوبی پنجاب کی آواز کو مرنے نہیں دینا ایسا ہوا تو پوٹھوہار اور ہزارہ کے دبے ہوئے لوگ مزید دب جائیں گے۔جنوبی پنجاب کا صوبہ بھی خواب ہو کر رہ جائے گا۔
ایک بات کا اضافہ کرتا چلوں وہ اس غلط تصور کا کہ پنجاب ایک منہ زور گھوڑا ہے اس پر کوئی بڑا سخت ایڈمنسٹریٹر چاہئے حضور پنجاب نے آج تک کون سی مزاحمت کی ہے خاص طور پر مرکزی پنجاب نے افغانی جب بھوکے ہوئے میدان میں اترے تو انہیں شمالی پنجاب میں راجہ پورس کے بعد جا کے پانی پت میں روکا گیا۔باقی تو سارے جی حضوری کرتے رہے۔معاف کرنا میں بھی ہزارے وال ہوں اور گجرانوالہ کا باسی اور حال کا پنڈی وال لیکن مجھے یہ کہتے ہوئے شرم آتی ہے کہ مزاحمتی تحریکیں سنٹرل پنجاب میںبہت کم دیکھنے میں آئیں اکا دکا لوگ سامنے آئے۔

تخت لاہور کی چولیں ڈھیلی اگر ایک مرد کوہستانی کر رہا ہے اور جس نے بندہ ء صحرائی کو آگے کیا ہے تو پڑ لگنے دیں میدان سجنے دیں ۔دیکھنا چند دنوں میں جب یہ دھول چھٹے گی تو مرد میداں ہی موجود ہوں گے۔بیورو کریسی کی چیخیں نکل رہی ہیں شیخ رشید سے اس کے بھتیجے کے ٹکٹ پر اختلاف سہی ،صرف میرا نہیں پورا پنڈی خلاف ہیِ اس لئے کہ موصوف گھر میں ہی ریوڑیاں بانٹ رہے ہیں۔ مگر انہوں نے ریلوے کے بے لگام افسروں کی طنابیں کھینچی ہیں اس پر ان کے

ساتھ ہوں۔37ارب کے خسارے والی ریلوے کی دو بوگیاں خوبصورت بن گئیں مگر شرم ان کو نہیں آتی جنہوں نے پورے چکوال کی پٹڑی بیچ ڈالی۔یہ وہ ریلوے تھی جس پر سفر کر کے میں نے تعلیم حاصل کی۔لوگ اس کے ہارن کی آوقز سے گھڑیاں درست کرتے تھے۔
تخت لاہور اور ملحقہ علاقوں میں ابھی تبدیلی کا چاند نہیں طلوع ہوا اس لئے کہ ابھی انڈسٹری میں گیس چوروں اور بجلی چوروں کی بھرمار ہے۔ابھی گلوبٹوں کا راج ہے رضوان اسلم جیت رہا تھا اسے پومی بٹ ہرا گئے۔مجھے اللہ کے ہاں پوری امید ہے کہ جب گجرانوالہ شہر کے کوڑے سے تعفن مٹے گا اور وہ کوڑا اٹھے گا تو تازہ ہوا کے جھونکے ذہنوں کو معطر کریں گے تو تبدیلی بھی آ ہی جائے گی۔
فی الوقت عثمان بزدار کو عزت دو۔جی ہاں بزدار کو عزت دو اس لئے

کہ وہ جیت کے آیا ہے اس نے بھی ووٹ لئے ہیں۔جی ہاں اس کا ووٹر گرچہ پھٹے پرانے کپڑوں میں اسے ووٹ ڈالنے آیا اس کے پاس گاگلز نہیں تھے۔آرامس اور گوچی کا پرفیوم نہیں لگا تھا مگر اس کی آواز تگڑی ثابت ہوئی جس نے عمران خان کو متآثر کیا ۔بزدار کو عزت دو