انسان تھے یا بھوت! ریسٹورنٹ میں 8 افراد کے ایک وقت کے کھانے کا بل 72 لاکھ اور مشروبات کا بل 86 لاکھ روپے کیسے بن گیا؟ جانئے

دوبئی کے ایک شہزادے نے شنگھائی میں اپنے 8 جاننے والوں کو کھانا کھلانے پر 4 لاکھ یوان (تقریباً 72 لاکھ پاکستانی روپے) خرچ کر دئیے۔ شہزادے کی یہ شاہ خرچی آج کل چینی سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔
چینی سوشل میڈیا پر ایک بل کی فوٹو گردش کر رہی ہے۔ بل میں کھانے کی 20 ڈشوں کا بل 4 لاکھ یوان دکھایا گیا ہے۔ یہ بل شنگھائی کے چانگنگ ضلع کے ایک ریسٹورنٹ کا ہے۔

یہ بل دوبئی کے ایک شہزادے کی طرف سے اپنے چینی دوستوں کے لیے دی جانے والی دعوت کا بل ہے۔ ریسٹورنٹ کے مالک نے دوبئی کے شہزادے کی شناخت ظاہر کیے بغیر بتایا کہ اس بل میں کھانے میں شامل کی جانے والے اُن خصوصی اجزا کا بھی ذکر ہے، جنہیں ساری دنیا سے جمع کیا گیا ہے۔ ان اجزا کو کھانے میں شامل کیے جانے کی ہدایات کھانے سے پہلے دی گئی تھی۔
ریسٹورنٹ کے مالک نے بتایا کہ دوبئی کے معیار کے مطابق یہ بل زیادہ نہیں ہے۔

بیجنگ نیوز کے مطابق اس کھانے سے ہٹ کر وہاں موجود لوگوں کے لیے 4 لاکھ 80 یوان یا تقریبا 86 لاکھ روپے کے مشروبات بھی پیش کیے گئے تھے۔
8 افراد کے کھانے کا اصل بل 418,245 یوان تھا، شہزادے نے رعایت کے بعد 4 لاکھ یوان ادا کیے۔ ریسٹورنٹ کے مالک نے بتایا کہ کھانا بناتے ہوئے گورنمنٹ قوانین کا خیال رکھا گیا تھا، کھانے کے اجزا میں کوئی ایسا جانور نہیں تھا، جس کے شکار پر حکومت نے پابندی لگائی ہو۔
ریسٹورنٹ کے مالک سے جب کھانے کے بل میں شامل مگرمچھ کی دم کے سوپ کے بارے میں پوچھا گیا تھا تو انہوں نے بتایا کہ مگرمچھ کے شکار پر پابندی نہیں۔ چین میں اس کی فارمنگ ہوتی ہے۔
چانگنگ ڈسٹرکٹ مارکیٹ سپرویژن بیورو اس کیس کی تحقیقات کر رہے ہیں جبکہ ریسٹورنٹ بھی معمول کے مطابق اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔