پناہ گزینوں کی خدمت پر سوڈانی ڈاکٹر کو اقوام متحدہ کا ایوارڈ

جنوبی سوڈان میں کمزور بجلی سے چلنے والے آپریشن تھیٹر اور آپریشن کے لیے بے ہوشی کے ضروری آلات کے بغیر پرہجوم ہسپتال چلانے والے ڈاکٹر نے اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کا باوقار ‘نینسن ایوارڈ’ جیت لیا۔
اقوام متحدہ کے پناہ گزین ایجنسی (یو این ایچ سی آر) کا کہنا تھا کہ جنوبی سوڈان کے علاقے بنج میں قائم ایوان اتار اداحا کے مابان ہسپتال میں پڑوسی ملک سوڈان کے بلو نیل ریاست کے 1 لاکھ 44 ہزار سے زائد پناہ گزینوں کا علاج کیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہسپتال کا ایکسرے مشین خراب ہے تاہم اتار اور ان کی ٹیم ایک بلب کی روشنی میں ہر ہفتے تقریباً 60 سرجریاں کر رہے ہیں جہاں ان کی جانب سے بے ہوشی کے لیے استعمال ہونے والی عام ادویات کے بجائے کیٹامائن انجیکشنز اور اسپائنل اپی ڈیورلز کا استعمال کیا گیا۔
ایجنسی کے سربراہ فلپو گرانڈی کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر اتار نے بے لوث انسانی خدمت کرکے ہزاروں زندگیاں بچائی ہیں۔
ڈاکٹر اتار بنج کے شمال مشرقی علاقے میں 2011 سے مابان ہسپتال چلارہے ہیں جو ایک زمانے میں متروک کلینک ہوا کرتا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ جب میں پہلی مرتبہ یہاں آیا تھا تو یہاں کوئی آپریشن تھیٹر نہیں تھا اور ہمیں ٹیبلوں پر آپریشن کرنا پڑتا تھا۔
برسوں کی محنت کے بعد انہوں نے ہسپتال کا نقشہ تبدیل کرتے ہوئے اس میں زچہ وارڈ اور غذائیت سینٹر کے قیام کے علاوہ نوجوانوں کو نرسنگ کی ٹریننگ بھی دینا شروع کردیا۔
مابان کا 120 بستروں پر مشتمل یہ ہسپتال اس وقت 2 لاکھ افراد کو علاج کی خدمات فراہم کررہا ہے جس میں سے 70 فیصد افراد سوڈان کے پناہ گزین ہیں۔