پاکستان اور آئی ایم ایف کے مذاکرات، پاکستان کی معیشت کو درپیش چیلنجز کا جائزہ لیا جائے گا

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات آج سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے، جس کے دوران پاکستان کی معیشت کو درپیش چیلنجوں کا جائزہ لیا جائے گا۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات میں آئی ایم ایف مشن کی سربراہی ہیرالڈ فنگر کریں گے جبکہ پاکستانی وفد میں سیکریٹری خزانہ، گورنر اسٹیٹ بینک، سیکریٹری اقتصادی امورشریک ہوں گے۔
آئی ایم ایف مشن ایک ہفتے تک پاکستان میں قیام کرے گا۔ اس دوران آئی ایم ایف وفد کی خزانہ، تجارت، توانائی، پیٹرولیم، سرمایہ کاری اور ایف بی آر حکام سے مذاکرات ہوں گے۔
واضح رہے کہ پاکستان کو رواں سال 8 ارب ڈالر کی مالی معاونت درکار ہے، تاہم پاکستان نے تاحال آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکج کی درخواست نہیں کی۔
گزشتہ دنوں وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے عرب نیوز کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان کو ایسی کسی ایمرجنسی کا سامنا نہیں کہ اسے بیل آؤٹ پیکج کے لیے آئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑے۔
ان کا کہنا تھا، ‘ہم نے درآمدات نہیں روکیں اور نہ ہی مالیاتی پابندیاں لگائی ہیں’۔ تاہم وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں بہتر فیصلے کرنے کی ضرورت ہے اور جلدبازی یا ایمرجنسی میں فیصلے نہیں کرنے چاہئیں۔
27 ستمبر کو آئی ایم ایف اسٹاف مشن کے شیڈول دورہ پاکستان کے حوالے سے اسد عمر نے کہا، ‘ہم ان کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں، لیکن یہ بات چیت قرض کے لیے نہیں ہے، ہمارا مقصد یہ ہے کہ اگر کسی مرحلے پر ہم اُن سے رابطہ کریں تو اس سے پہلے ہم اپنا ہوم ورک کرلیں-