خان صاحب :پانچ سال کچھ بھی نہیں ہوتے ،چند دن کے لیے کسی تنہا مقام پر چلے جاؤ اور اس ایک نکتے پر غور کرو، سارے مسائل کا حل تمہارے سامنے آ جائے گا ۔۔۔۔ہارون الرشید کا عمران خان کو انمول مشورہ

لاہور (ویب ڈیسک) تحریک انصاف کو حکومت میں آئے اور عمران خان کو وزیراعظم بنے لگ بھگ ڈیڑھ ماہ ہو گیا ہے ۔ انہوں نے اس مختصر عرصے میں کیا کھویا کیا پایا اس پر بحث جاری ہے ، ہر میڈیا گروپ اپنے اپنے انداز میں تبصرے مضامین اور کالم شائع کر رہا ہے ۔

صف اول کے کالم نگار ہارون رشید اسی حوالے سے روزنامہ دنیا میں اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔وقت آ گیا ہے کہ عمران خان فیصلے صادر کریں۔ چند دن کے لیے شاید انہیں تنہائی اختیار کرنی چاہیے‘ کسی الگ تھلگ مقام پہ چلے جانا چاہیے۔ اس تنہائی میں غیرسرکاری ماہرین سے مشورہ کرنا چاہیے۔ کوئی مہلت لامحدود نہیں ہوتی۔ جو ذمہ داری قبول کرتا ہے‘ معاملات اسی کو نمٹانا ہوتے ہیں۔ چیزوں کو معلق نہیں رکھا جا سکتا۔ زندگی اسی کا نام ہے‘ ہر چند قدم کے بعد دو میں سے کوئی ایک قدم۔ دائیں یا بائیں‘ شمال یا جنوب‘ مشرق یا مغرب۔ کسی غلط فیصلے کی تلافی ممکن ہے۔ آدمی متامل کھڑا نہیں رہ سکتا۔ یہ ادراک یا شخصیت کی کمزوری ہوتی ہے۔ ارادے باندھتا ہوں سوچتا ہوں توڑ دیتا ہوںکہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ایسا نہ ہو جائے ۔۔۔سٹیٹ بینک کی تازہ رپورٹ میں اس مرض کی واضح الفاظ میں نشاندہی ہے‘ جو پاکستانی معیشت کو لاحق ہے۔ اخراجات زیادہ ہیں اور آمدن کم۔ حالت یہی رہی۔ بنیادی فیصلے صادر نہ کیے گئے تو بحران بڑھتا رہے گا۔ مرض پھیلتا جائے گا۔ علاج اور بھی مشکل ہوگا۔بارہ سو ارب روپے سرکاری کارپوریشنوں پہ ضائع ہوتے ہیں۔ سٹیل مل‘ بجلی‘ ریلوے‘ پی آئی اے‘ یوٹیلیٹی کارپوریشن‘ سرکاری ٹیلی ویژن اور پاکستان ریڈیو وغیرہ وغیرہ۔

بتایا گیا ہے کہ وزیرخزانہ اسد عمر اداروں کی نجکاری کے خلاف ہیں۔ ایک سے زیادہ بار ناچیز نے اس موضوع پر ان سے بات کرنے کی کوشش کی۔ ہر بار انہوں نے ٹال دیا۔ کہا کہ کھانے کی میز پہ تبادلہ خیال ہو گا۔ جانے وہ لمحہ کب آئے گا کہ ان کا مافی الضمیر معلوم ہو سکے۔ خم آئے گا‘ صراحی آئے گی‘ تب جام آئے گا۔کیا فیصلہ کرنے والے آدمی کے ذہن میں وسوسوں کے سنپولیے رینگتے ہیں؟ اندیشوں میں مبتلا لوگ کارِحکمرانی انجام نہیں دے سکتے1200 ارب روپے سالانہ کی بچت اگر ممکن نہ ہو تو آدھی ہی سہی۔ معیشت سنگین علالت سے چھٹکارا پا لے گی۔ ایک بڑے مرض کا نام ایف بی آر ہے۔ ٹیکس وصولی کا قومی ادارہ کرپشن کا گڑھ ہے۔ بدقسمتی سے وزیراعظم نے ایک ایسے شخص کو سونپ دیا ہے‘ جس کی اپنی شہرت داغدار ہے۔ آخرکار اس سے چھٹکارا پانا ہوگا۔ آج ہی کیوں نہیں اور اس کی تشکیل نو کا آغاز کیوں نہیں؟عالی شان گھروں میں رہنے‘ بیرون ملک چھٹیاں گزارنے اور مہنگے سکولوں میں بچوں کو تعلیم دلانے والوں سے ٹیکس وصولی کا آغاز کب ہوگا؟ حکومت میں آنے سے پہلے منصوبہ بندی اگر نہ کی تو اب ہونی چاہیے۔ کب تک قوم حکمرانوں کا منہ دیکھتی رہے گی؟وقت آ گیا ہے کہ عمران خان فیصلے صادر کریں۔ چند دن کے لیے شاید انہیں تنہائی اختیار کرنی چاہیے‘ کسی الگ تھلک مقام پہ چلے جانا چاہیے۔ اس تنہائی میں غیرسرکاری ماہرین سے مشورہ کرنا چاہیے۔ کوئی مہلت لامحدود نہیں ہوتی۔