شہزادہ محمد بن سلمان کس طرح منافقت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور حالیہ تبدیلیوں کے پیچھے کیا سازش کارفرما ہے ؟ امام کعبہ صالح ابی طالب نے امت مسلمہ کو خبردار کر دیا

لاہور (ویب ڈیسک) مغرب میں خاندانی نظام کو بالخصوص اور معاشرتی نظام کو باالعموم جو جھٹکا لگا ہے اس کی شکل بگڑنے کے بعد اس کی اصلیت کی جانب واپسی ممکن نہیں رہی۔ اس کی اکلوتی وجہ عریانی اور فحاشی ہے موجودہ مغربی تہذیب کا آغاز اورانجام دونوں اس عریانی و فحاشی کے سبب سے جانے پہچانے جاتے ہیں۔

نامور کالم نگار ڈاکٹر اے آر خالد روزنامہ نوائے وقت میں اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔مغربی معاشرہ جس حد تک زندگی سے بد دل ہو گیا ہے یہی تہذیب اس سے جینے کا ہر حوالہ چھین رہی ہے اور اس نے اب فرسٹریشن میں عریانی و فحاشی کو مختلف انداز سے ان ممالک میں برآمد کرنا شروع کر دیا ہے۔ جہاں خاندانی نظام ایک مضبوط اکائی کے طور پر موجود تھا جہاں معاشرہ معقول مذہبی اقدار پر استوار تھا ۔کہیں آزادی کے نام پر فحاشی تو کہیں بنیادی انسانی حقوق کے نام پر بے مہار آزادی اس کی تازہ یلغار برادر اسلامی ملک سعودی عرب پر ہے۔ سعودی عرب اور پاکستان مغربی دنیا کو مذہب سے اپنے فکری، قلبی اور خدا داد تعلق کی وجہ سے بہت کھٹکتے رہے۔ یہاں جمہوریت کے نام پر بھی مذہب پر وارکئے گئے اور آمریت جن میں مشرف اور یحیٰی کی آمریت کا ذکر نہ کرنا ان آمروں کی عیاشیوں اور اخلاقی دیوالیہ پن کو نظر انداز کر نا ہے۔ پاکستان کبھی مرزائیوں کو غیر مسلم کی، آئینی حیثیت کو تبدیل کرنے کبھی ناموس رسالت کے قانون میں تبدیلی اور کبھی اسلامی قوانین کے بقاء کی راہ میں بنیادی انسانی حقوق کے مذہبی تصور کو خالق کائنات اور اپنے رب کے دیئے ہوئے حقوق پر فوقیت دے کر

پاکستان کے قیام کی اکلوتی وجہ پر ضرب لگانے میں بے مہار آزادی کا پارلیمنٹ میں اور میڈیا میں استعمال کے حوالے سے نام نہاد لبرل اور سوڈو دانشوروں کی بے موسمی بحثیں یہاں نوجوان نسل میں کنفیوژن پھیلانے میں اپنا کردار ادا کرتی رہیں اور ہمارے حکمران الا ماشاء اللہ اس حوالے سے اپنے فرائض کی انجام دہی اور وطن عزیز کی نظریاتی سرحدوں کی محافظت میں اپنی ملی اور دینی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں بری طرح نا کام رہے۔ قرار داد مقاصد کو تین دساتیر میں ابتدائیہ کی حیثیت دینے اور اسے آئین کا قابل عمل حصہ نہ بنانے والے روز قیامت یقیناً اس حوالے سے جوابدہی کے کٹہرے میں کھڑے ہونگے مگر 1985ء کے بعد اس قرارداد کو آئین کا قابل عمل حصہ بنانے کے بعد اس پر عمل نہ کرنے اور عمل نہ کرانے والے ان سے زیادہ بڑے مجرم کی حیثیت سے جوابدہی کے کٹہرے میں نظر آئیں گے۔ معمولی معمولی دنیاوی آسائشوں اور معمولی ذاتی فائدے کے لئے آئین کے اس سب سے اہم حصہ کو جو پاکستان کی بنیاد اور یہاں قائم ہونے والے نظام حکومت کے متعلق رہنمائی کرتا ہے پس پشت ڈالنا بہت بڑا قومی مذہبی اخلاقی آئینی اور قانونی جرم ہے یہاں اس جرم پر کوئی چیف جسٹس ازخود نوٹس نہ لے

تو بھی جس سے لاالہ الا اللہ کے نام پر یہ الگ آزاد ملک حاصل کر کے اس کے نظام کو نافذ کرنے کا وعدہ تھا وہ ازخود نوٹس ضرور لے گا۔ دوسرا ملک سعودی عرب جس سے دنیا بھرکے اہل ایمان کا ایک ایسا قلبی اور روحانی تعلق ہے وہاں خلاف شرع کسی بات کا نسبتاً تیزی سے نوٹس لیا جاتا ہے جس کی نوبت ماضی میں بہت کم دیکھنے کو ملے گی اس کی وجہ وہاں بادشاہت کا نظام نہیں تھا۔ جسے کنٹرولڈ نظام حکومت کہہ کر اس کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والے اپنی ناکامی پر ماتم کرنے کے علاوہ کچھ نہ کرسکے، مگر شاہ سلمان اور بالخصوص ولی عہد شہزادہ محمد کے بعض ایسے فیصلوں پر بھی جن سے شاید شریعت کے قوانین پر حرف بھی نہ آئے اس لئے تنقید کی گئی کہ صدیوں سے نافذ قوانین اور رسم و رواج میںجہاں ذرا سی بھی تبدیلی ہو گی وہاں اسے ہضم کرنا مشکل ہو گا۔ چنانچہ قدم اول کے طور پر خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت شاید شریعت میں اگر وہ پردہ کو ملحوظ رکھ کر ڈرائیونگ کریں تو ممانعت نہ ہو مگر اس کے بعد فیصلے جن میں سینما گھر قائم کرنے سے لے کر اسی جانب بڑھنے والے تیز قدم علماء کی برداشت سے باہر ہو گئے

اور سب سے اہم گزشتہ کم از کم چودہ پندرہ سال سے امام کعبہ کے منصب پر فائز مکہ ہائیکورٹ کے جج ڈاکٹر صالح ابی طالب کی تقریرہے ۔وہ تقریر اور اسی کا ترجمہ بھی سوشل میڈیا پر آ گیا۔ ڈاکٹر صالح ابی طالب نوجوان امام ہونے کے باوجود سینئر اماموں میں شمار ہوتے ہیں ان کی قرأت میں جو روانی اور سوز اور تقریر میں الفاظ کی دروبست اور اتار چڑھائو سے پیغام کو مؤثر بنانے کا ہنر بہت کم لوگوں کو نصیب ہو گا ۔ چند ماہ پہلے پاکستان کا دورہ کرنے والے اس امام کعبہ ڈاکٹر صالح نے اپنی خوبصورت سیرت وصورت اور قرآن پڑھنے کے انداز سے لوگوں کے جو دل موہ لئے تھے ۔ ان کی تقریر میں بظاہر کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔ انہوں نے یہی کہا ہے کہ اے مسلمانوں اپنے آپ کو بچا لوچوکنا رکھو منافق مرد اور منافق عورتوں کے سرداروں کے مغربی تہذیب کے پروردہ لوگوں سے سرکش شہوت پرستوں اور آسائشوں کے چاہنے والوں سے۔ بچائو‘ اپنے آپ کو ننگے ناچ والی محفلوں سے گھٹیا محفلوں سے ننگے پن سے مردوں اور عورتوں کے اختلاط والی جگہوں سے۔ یہ باتیں اگر امام کعبہ نہیں کرینگے تو کون کرے گا۔ اگر امام کعبہ خلاف شرع کاموں پر اامربالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ ادا نہ کرینگے تو اپنے دینی فرض سے اغماض برتیں گے جو ڈاکٹر صالح ابی طالب جیسے جید عالم دین کبھی نہیں کریں گے ۔