Home » پولیس۔ احتساب ضروری ہے…تحریر : محمد شاہد محمود

تازہ ترین

Advertisment

مقبول خبریں

خاص تحریر کالم ومضامین محمد شاہد محمود

پولیس۔ احتساب ضروری ہے…تحریر : محمد شاہد محمود

سیاست دانوں اور بیوروکریٹس کے بعد پنجاب پولیس بھی نیب کے ٹارگٹ پرآگئی ہے اور نیب نے گھپلوں میں ملوث پنجاب پولیس کے کرپٹ افسران کے خلاف تحقیقات کے لیے باقاعدہ ایک ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ان پولیس افسران پر الزام ہے کہ انہوں نے گزشتہ دور حکومت میں کرپشن کے ذریعے لاہور میں کروڑوں روپے کی جائیدادیں خرید رکھی ہیں۔نیب ذرائع کے مطابق لاہور کے سابق سی سی پی او امین وینس ‘ سابق ڈی آئی جی آپریشن لاہور ڈاکٹرحیدر اشرف اور آرگنائزڈکرائم انویسٹی گیشن انچارج عمر ورک شامل ہیں۔ نیب حکام نے لاہور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کو ایک مراسلہ بھیجا اور حکم دیا کہ گزشتہ پانچ سال میں ان پولیس افسران کے نام پر خریدی گئی، بیچی گئی اور ٹرانسفر کی گئی جائیدادوں کی مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں۔گزشتہ دور میں پولیس حکام نے کرپشن کے نئے ریکارڈ قائم کئے تھے اور پولیس اہلکاروں کی فلاح و بہبود کیلئے مختص فندز کو ہضم کر گئے جبکہ مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث مجرموں سے بھاری رشوت کا الزام بھی ان افسران پر لگایا گیا کئی پولیس افسران اب ارب پتی بن چکے ہیں ان کی جائیدادیں ان کے ذرائع آمدن سے کئی گنا زیادہ ہیں اس لئے نیب حکام نے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

    نیب زرائع کے مطابق پنجاب پولیس افسران نے کرپشن کے ذریعے کس ہاوسنگ سوسائٹی میں کتنے گھر اور بنگلے بنائے ہیں ان کی تحقیقات بھی کی جا رہی ہیں۔ نیب نے ایس ایس پی عبد الرب چوہدری کی انکوائری رپورٹ کی بنیاد پر پنجاب پولیس میں 2012 سے 2015 کے دوران بلٹ پروف اور سردیوں کے جیکٹس کی خریداری کی چھان بین، ڈولفن ہیلمٹس، ہتھکڑیوں, چھتریوں اور اینٹی رائٹس فورس کے سامان کی خریداری میں مبینہ گھپلوں اور پولیس افسران نے کرپشن کے ذریعے ہاوسنگ سوسائٹی میں گھر اور بنگلے بنانے کی تحقیقات شروع کردی ہیں ۔ واضح رہے یہ اقدام سندھ پولیس کے اعلیٰ افسران کے جرائم میں ملوث ہو نے کے شواہد ملنے کے بعد کیا گیا ہے۔کراچی میں سابق آئی جی پولیس سندھ اور سیکریٹری داخلہ نے پولیس افسران کے کریمنل ریکارڈ کی ایک رپورٹ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں پیش کی۔ جس کے مطابق گریڈ 17 سے 18 تک کے افسران مختلف جرائم میں ملوث پائے گئے۔ اس رپورٹ کے بعدسپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سندھ پولیس افسران کے کریمنل ریکارڈ کا کیس کی سماعت بھی ہوئی۔ سابق آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے بتایا کہ جرائم میں ملوث گریڈ 17 کے پولیس افسران کی تعداد 31 ہے، گریڈ 18 سے 21 تک 35 افسران ایسے ہیں جن کے خلاف کارروائی ہونی ہے۔سابق آئی جی سندھ نے مزید بتایا کہ جرائم میں ملوث پولیس افسران کیخلاف کارروائی کرناتھی وہ ہم نے کی، گریڈ 16 اور اس سے کم گریڈ کے 184 پولیس افسران کو سزائیں دے دی ہیں، گریڈ 17 سے اوپر کے افسران کے خلاف کارروائی سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کرتا ہے، سابق آئی جی سندھ گریڈ 15 تک کے افسران کے خلاف کارروائی کا مجاز ہے، گریڈ 16 سے اوپر سینیر افسران کے خلاف کارروائی ان کا اختیار نہیں۔واضح رہے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی کرپشن کیسز میں ملوث گریڈ انیس اور بیس کے افسروں کو ترقی دینے والی فہرست میں شامل کرنے پر ناراضگی کا اظہا ر کیا تھا۔

گریڈ انیس سے بیس اور بیس سے اکیس میں مختلف سروسز گروپوں کے افسروں کو ترقیاں دینے کا جب سینٹرل سلیکشن بورڈ ہو نا تھا بورڈ سے قبل وزیر اعظم شاہد خاقان عبا سی نے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو ہدایت کی کہ صرف ان افسران کے نام پروموشن بورڈ کے سامنے پیش کئے جائیں جن پر کر پشن کا کوئی کیس نہ ہو اور ان کے خلاف نیب یا کسی دوسرے ادارے میں تحقیقات نہ ہو رہی ہوں۔ مگر ایسا نہ ہو سکا اور کر پشن میں ملوث ہو نے کے باوجود متعدد افسران ترقی حاصل کر نے میں کامیاب ہو گئے۔بدعنوانی ملک کی خوشحالی اور ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ بدعنوانی کے ملکی ترقی و خوشحالی پر مضر اثرات کے پیش نظر قومی احتساب بیورو کا قیام عمل میں لایا گیا تا کہ ملک سے بدعنوانی کے خاتمے اور بدعنوان عناصر سے لوگوں کی حق حلال کی کمائی ہوئی لوٹی گئی رقم برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کروائی جائے اور بدعنوان عناصر کو قانون کے مطابق سزا دلوائی جاسکے۔

یہ ہماری بدنصیبی ہے کہ آج وطن عزیز کو پولیس اسٹیٹ، دہشت گردوں کی جنت، کرہ ارض کا جہنم اور بالخصوص ایک ناکام ریاست کے القاب و خطابات سے نواز رکھا ہے۔ ملکِ خدادادپاکستان میں پولیس کا کردار انتہائی افسوسناک رہا ہے۔اس کی نمایاں وجہ سیاسی بصیرت سے عاری وہ افراد ہیں جنھوں نے ہر دور میں طاقت اور جبر کے بل پر پارلیمنٹ پر قبضہ جمائے رکھا اور عوام کے بنیادی حقوق غصب کرکے پاکستانیوں کو کبھی ایک قوم نہیں بننے دیا۔ پاکستان کے اعلیٰ ادارے ان اوباش تماش بینوں کے گھر کی لونڈیاں بنے رہے۔آج پولیس کا ادارہ ناقابلِ ادراک حد تک تباہ و برباد ہوچکا ہے۔ پولیس نے پاکستان کے معصوم شہریوں کو تختہ مشق بنارکھا ہے اور اس کے اسی شرمناک کردار کی وجہ سے آج ہر شریف شہری اس کے نام سے خوف کھاتا اور نفرت کرتا ہے۔ یہ پولیس کی ناکامی نہیں تو اور کیا ہے کہ معاشرہ بحیثیتِ مجموعی بے پناہ حد تک عدم تحفظ کا شکار ہوچکا ہے۔ شہروں، دیہاتوں، جنگلوں اور ویرانوں میں چہار دانگ، جابجاڈاکو، راہزن، چور، موالی اور دیگر ہر طرح کے جرائم کارعناصر آزاد اور بے لگام دندناتے پھرتے ہیں اوراپنی من مانیوں میں مگن پولیس ایسے مجرموں کی بلاجھجک پشت پناہی کرتی نظر آتی ہے۔ ریاست کے تمام پولیس اسٹیشنز تھانیداروں کے ذاتی ڈیروں اور تھوک پرچون کی دکانوں کا روپ دھارچکے ہیں۔وہاں صرف ان ہی کی داد رسی ہوتی ہے جن کی یا تو کوئی بہت بڑی سفارش ہو یا ان کی جیبوں میں نوٹوں کی گڈیاں چمکتی ہوں’ اس کے بغیر ان دکانوں پر جو بھی جاتا ہے سوائے بے عزتی اور بدسلوکی کے کچھ نہیں پاتا۔یہ وطیرہ بھی پولیس ہی کا ہے کہ مخالف پارٹیوں سے رقم ان ہی مظلوم اورکمزور لوگوں کو چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کر کے گھروں سے اٹھالیا جاتا ہے اور ان پرناکردہ جرائم ڈال کر بڑے بڑے خطرناک مقدموں میں پھنسا دیا جاتا ہے جن میں کچھ تو اپنے گھر بار بیچ کر جان بخشی کروالیتے ہیں اور بعض عمر بھر جیلوں میں سڑتے رہتے ہیں، یا پھر پولیس تشدد اور مقابلوں میں ماردیے جاتے ہیں جب کہ اصل مجرموں کو تفتیشوں اور انکوائریوں میں پاک دامن ثابت کرکے قانون کے شکنجوں سے بچا لیا جاتا ہے۔

یہ بڑا خوش آئند امر ہے کہ قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جناب جسٹس جاوید اقبال نے نیب کو ایک متحرک ادارہ بنا دیا ہے جو ہمہ وقت بدعنوان عناصر کے خلاف بلا تفریق قانون کے مطابق کارروائی کرنے کے لئے متحرک ہے۔ قومی احتساب بیورو کا صدرمقام اسلام آباد جبکہ اس کے آٹھ علاقائی دفاتر کراچی، لاہور ، کوئٹہ ، پشاور، راولپنڈی، سکھر، ملتان اورگلگت بلتستان میں کام کررہے ہیں جو بدعنوان عناصر کے خلاف اپنے فرائض قانون کے مطابق سرانجام دے رہے ہیں۔ قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جناب جسٹس جاوید اقبال بدعنوانی کے خاتمہ کو اپنی اولین ترجیح قرار دیتے ہیں۔ چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے ملتان میٹروپراجیکٹ میں پیپرا رولز کی خلاف ورزی،پنجاب میں 56پبلک لیمیٹیڈکمپنیوں میں مبینہ بدعنوانی کی شکایات پر انکوائری ،پاکستان سٹیل ملز کی بربادی اور اس کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کیلئے انکوائری اور ان کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کے علاوہ گوادر انڈسٹریل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں انڈسٹریل اور کمرشل پلاٹوں کی الاٹمنٹ میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں اور قومی خزانے کو کروڑوں کا نقصان کا نوٹس جیسے فیصلے قلیل عرصہ میں لینے سے ثابت ہوتا ہے کہ چیئرمین نیب ملک سے بدعنوانی کے خاتمے اور معاشی سرگرمیوں کی راہ میں کرپشن کے ذریعے روڑے اٹکانے والوں کو منطقی انجام تک پہنچانے کا عزم رکھتے ہیں۔ جبکہ با و ثو ق ذ را ئع کے مطا بق محکمہ داخلہ کی جانب سے تیار کی گئی رپورٹ کے مطابق 2011 سے اپریل 2015 تک مختلف گینگز ، دہشت گردوں سے اور سمگلنگ کیخلاف کارروائیوں کے دوران 2 ارب روپے سے زائد کا اسلحہ،منشیات و نقد ی ضبط کی گئی جسکاابھی تک نہ تو اندراج کیا گیا ہے نہ ہی پکڑا جانیوالاسامان مال خانہ میں جمع کروایاگیا۔اسلحہ میں3ہزار543 ہینڈ گرنیڈز، 5281کلاشنکوفیں ،48ہزار 47 رائفلیں، 73ہزار گنز،3 لاکھ 52 ہزار 487 پستول، 53 ہزار 739 کاربین، 31 لاکھ 20 ہزار 527 کارتوس اور 18 ہزار 965 شارپ ایج ویپن شامل ہیں۔اسی طرح اینٹی نارکوٹکس کی جانب سے ضبط کی گئی منشیات کا بھی اندراج نہیں کیاگیاجس میں 7 ہزار912 کلو گرام ہیروئن،7 ہزار 340 کلو گرام افیون ، 1 لاکھ 39 ہزار 908 کلوگرام چرس،26 لاکھ 68 ہزار 885 شراب کی بوتلیں ، 15لاکھ 43 ہزار 826 لٹر لا ئن ، 3لاکھ 21 ہزار 342 لٹرمارفین شامل ہے۔ علاوہ ازیں ملزموں سے برآمد کروڑوں روپے کی نقد رقم کا اندراج بھی نہیں کیاگیا۔اس مبینہ کر پشن کو چھپانے کیلئے مال خانہ کو ایک سا بق سینئر انویسٹی گیشن افسر نے کسی بھی متعلقہ افسر سے ہدایات لئے بغیرسیل کردیاتھا۔ بعض افسروں نے ایک اجلاس میں تحفظات ظاہر کئے تومبینہ طورپر معاملات آئی جی پنجاب کی جانب سے دبالئے گئے۔ اس ایشوکو ایجنڈے کا حصہ ہی نہ بنایاگیا۔ذرائع کا دعویٰ ہے محکمہ داخلہ پنجاب نے دو سال قبل رپورٹ تیار کی تھی جس پر تاحال کوئی ایکشن نہیں ہوا۔ ذرائع کے مطابق محکمہ پولیس کو تحفظ فراہم کرنے میں مبینہ طو ر پر حکومتی ایوانوں میں مو جو د سیاسی شخصیات شامل ہیں۔اس حوالے سے محکمہ داخلہ کے حکام کا کہناتھا معاملات مختلف کمیٹیوں میں زیر التواہیں تاہم تحقیقات کر رہے ہیں۔ جبکہ پنجاب پولیس حکام کا کہناتھا یہ گزشتہ برسوں سے متعلق رپورٹ ہے اورمعاملات کی تفتیش جار ی ہے۔

پنجاب بھر کے 28 پولیس افسران اور اہلکاروں کے خلاف 417 خطرناک اشتہاریوں کو پناہ دینے اور ان کی پشت پناہی کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔لاہور میں بھی ایسے ایس ایچ او تعینا ت ہیں جواشتہا ریو ں کی پشت پنا ئی پر کئی سال معطل ر ہے اور اب پھر تگڑی سفارش پر ایس ایچ او تعینا ت ہیں۔ صو با ئی دا ر الحکومت میںپو لیس کو مطلو ب ٹاپ ٹین کے اشتہاری ایسے گم ہوئے کہ پولیس بے بس ہو کر رہ گئی۔ دہشت گردی، قتل، اقدام قتل اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث ٹاپ ٹین اشتہاری گزشتہ 14 سال سے دندناتے پھر رہے ہیں لیکن پولیس تا حا ل گرفتار نہیں کر سکی ہے۔ پنجاب کے 28 پولیس افسران اور اہلکاروں کے خلاف 417 خطرناک اشتہاریوں کو پناہ دینے اور ان کی پشت پناہی کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرا ئع کے مطا بق لاہور سمیت دیگر شہروں فیصل آباد، گوجرانوالہ، شیخوپورہ، سیالکوٹ، ساہیوال، قصور، میانوالی، خوشاب، سرگودھا، راولپنڈی، بھلوال، منڈی بہائؤ الدین، حافظ آباد، خانیوال، نارووال اور اوکاڑہ کے پولیس افسران اور اہلکاروں نے متعدد سنگین کیسوں میں ملوث خطرناک اشتہاریوں کو اپنے خفیہ ڈیروں پر پناہ دے رکھی ہے۔ ان میں سے بعض نے اشتہاریوں کو اپنا کار خاص بنا رکھا ہے جبکہ ان کا حلیہ بھی تبدیل کر دیا گیا ہے۔ر پو رٹ میں بتا یا گیا ہے کہ لاہور کے متعدد پولیس افسران اشتہا ریو ں کی پشت پنا ئی اور انہیں پنا ہ د ینے کے الزا م میں معطل ہو چکے ہیں لیکن تگڑی سفا رشات کے تحت اب دوبا رہ ایس ایچ او کی سیٹ پر برا جما ن ہیں ۔رپورٹ کے مطابق کئی اشتہاری پولیس افسروں کے حکم پر سیاسی لوگوں کیلئے بھی کام کرتے ہیں۔ انہیں جدید اسلحہ اور گاڑیاں دی جاتی ہیں۔ر پو رٹ میں بتا یا گیا ہے کہ یہ انکشافات اس دوران ہوئے جب ایک ڈی پی اونے ناکہ کے دوران دو خطرناک اشتہاریوں کو گرفتار کیا۔ تفتیش سے پتہ چلا کہ وہ پولیس افسر کے کہنے پر اس کے مخالف کوقتل کرنے جا رہے تھے۔