مظاہرین کے ظلم کا نشانہ بننے والے کم سن ریڑھی بان کی تفصیلات سامنے آگئیں

شیخوپورہ (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 03 نومبر 2018ء) :آسیہ بی بی سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پنجاب سمیت ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا جو تین روز تک جاری رہا۔ سوشل میڈیا پر ان مظاہروں کی کئی ویڈیوز وائرل ہوئیں گذشتہ روز وائرل ہوئی ایک ویڈیو میں دیکھا گیا کہ مشتعل مظاہرین نے کیلوں سے بھری ریڑھی پر ہلہ بولا اور کئی کیلے بھی اُٹھا لیے۔

ریڑھی کا مالک کم سن بچہ مشتعل مظاہرین کے آگے بے بس نظر آیا اور ریڑھی بھگانے کی کوشش تو کی لیکن ناکام رہا اور کئی مظاہرین نے دیہاڑی دار کم سن ریڑھی بان کی ایک دن کی کمائی لُوٹ لی جبکہ کم سن بچہ ان کا منہ تکتا رہ گیا۔ سوشل میڈیا پر یہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کمسن ریڑھی بان کو لوٹنا بے حسی قرار دے دیا اور پنجاب حکومت سے درخواست کی کہ اس بچے کو تلاش کرکے اس کے نقصان کی مکمل تلافی کی جائے۔

تاہم اب اس بچے کی رہائش گاہ کا پتہ لگا لیا ہے ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق بچہ شیخوپورہ کے پسماندہ علاقہ رحمان پورہ کا رہائشی ہے۔ بچہ پانچویں جماعت کا طالبعلم ہے صبح کے وقت اسکول جاتا جبکہ شام کے وقت چیزیں فروخت کر کے اپنا گھر چلاتا ہے۔ اسکول سے چھٹی تھی تو دن میں کیلے بیچنے کے لیے گھر سے نکلا لیکن مظاہرین کے ہجوم نے کم سن ریڑھی بان کی ریڑھی پر ہلہ بولا اور سارے کیلے لوٹ لیے۔

بچے کا کہنا ہے کہ ہجوم نے میرے سارے کیلے چھین لیے ، میں پیسے کمانے گیا تھا لیکن خالی ہاتھ روتا روتا گھر واپس لوٹ آیا۔ بچے کا کہنا ہے کہ میں اپنے والد کا ہاتھ بٹانے کے لیے کام کرتا ہوں جبکہ ساتھ ساتھ اپنی پڑھائی بھی جاری رکھے ہوئے ہوں۔ کم سن ریڑھی بان کی گذشتہ روز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ویڈیو آپ بھی ملاحظہ کیجئیے:

بعد ازاں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک اور ویڈیو میں اس واقع کے مرکزی کردار ٹھیلے والے بچے کا ایک انٹرویو موجود ہے جس میں انہوں نے بتایا کہ ان کے ٹھیلے سے کیلے نہیں لوٹے گئے تھے بلکہ ایک فرد نے انہیں مذکورہ کیلوں کی قیمت ادا کی گئی تھی تاکہ انہیں مظاہرین میں تقیسم کردیا جائے۔