Home » روپے اور یوآن میں تجارت کا معاہدہ ہونے کے بعد پاکستانی معیشت کیلئے ناقابل یقین خوشخبری

تازہ ترین

Advertisment

مقبول خبریں

کاروبار

روپے اور یوآن میں تجارت کا معاہدہ ہونے کے بعد پاکستانی معیشت کیلئے ناقابل یقین خوشخبری

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستانی معیشت کو بڑا سہارا مل گیا ہے، ماہرین معاشیات کے مطابق چین کی جانب سے مالی پیکج کے اعلان روپے اور یوآن میں باہمی تجارت سے مالی مشکلات کم ہونگی، پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ بہتر پوزیشن میں مذاکرات کریگا جبکہ پاکستان پر بیرونی ادائیگیوں کا دباو بھی کم ہوگا ،ماہرین معیشت کے مطابق ملک میں ڈالر کی ڈیمانڈ میں کمی ہوگی ڈالر کے ریٹس سے ادائیگیوں پر فرق نہیں پڑیگاروپے اور یوآن میں تجارت سے چینی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بڑھیگا اور پاکستان پر آئی ایم ایف کی شرائط نرم ہونگی

ماہر معیشت کا کہنا ہے کہ اس سے ادائیگیوں کا توازن یو آن کی قیمت پر ہوگااس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ مقامی کرنسی میں تجارت نہ صرف امریکہ کی خطے میں بالادستی چیلنج ہوئی ہے بلکہ معاہدے کے مطابق پاکستان اور چین نے مقامی کرنسی میں باہمی تجارت کا حجم دوگنا کر دیا ہے، پاکستانی کرنسی میں تجارتی حجم 165 ارب روپے سے بڑھا کر351 ارب روپے جبکہ چینی کرنسی میں تجارتی حجم 10 ارب یوآن سے بڑھا کر 20 ارب یوآن کیا گیا ہے۔

ڈالر کو پر اس وقت لگے جب1944 میں لندن کو عالمی مالیاتی لین دین کا مرکز کے ساتھ امریکی ڈالر کو عالمی اجناس اور کموڈیٹیز کی خریداری میں کلیدی کرنسی کہا گیاماہرین کے مطابق امریکا نے 1973سے سعودی عرب سے تیل کی خریداری میں لین دین کی کرنسی امریکی ڈالر رکھ دی تھی جس سے اب تیل کی کل تجارت 1.7 کھرب ڈالر کی عالمی تیل مارکیٹ کرے گی

اس کے بعد2000 میں صدر صدام حسین نے امریکی پیٹرو ڈالر کے خلاف تیل و گیس کی فروخت یورپی یونین کی کرنسی یورو میں کی تھی اسطرح چینی صدر شی جن پنگ نے سال 2016 میں دورہ سعودی عرب کے دوران تیل کی خریداری کے لیے یوآن کے استعمال پر سعودی عرب کو آمادہ کیاچینی اسٹاک مارکیٹس نے مارچ 2018 سے تیل کی خریداری کے مستقبل کے سودے ڈالر کے بجائے یوآن میں کی یوآن میں کیے جانے والے سودوں پر 2 فیصد کا مارجن بھی دیا جارہا ہے تاکہ اس کو سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش بنایا جائے

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے چینی کرنسی یوآن کو اپنے قرض کی باسکٹ کا حصہ بنادیا ہے جس کو اسپیشل ڈرائنگ رائٹس کہا جاتا ہے جبکہ جوہانسبرگ میں ہونے والی برکس (BRICS) سربراہ کانفرنس میں روس ترکی۔ترکی، جمیکا، انڈونیشیا، ارجنٹینا اور مصر کو اینٹی ڈالر بلاگ میں شامل کیا اب دیکھنا ہو گا کہ کیا امریکہ پاکستان کے اس ڈالر کے بجائے چینی کرنسی کے فیصلے پر کیا رد عمل کرتا ہے۔