Home » عمران حکومت کے 100 دن پورے ہونے میں تقریباً 20 دن باقی : اگر ایمانداری سے بات کی جائے تو ۔۔۔۔۔ صف اول کے میڈیا گروپ میں آج شائع ہونے والا خصوصی تبصرہ ملاحظہ کریں

تازہ ترین

Advertisment

مقبول خبریں

متفرق کالمز

عمران حکومت کے 100 دن پورے ہونے میں تقریباً 20 دن باقی : اگر ایمانداری سے بات کی جائے تو ۔۔۔۔۔ صف اول کے میڈیا گروپ میں آج شائع ہونے والا خصوصی تبصرہ ملاحظہ کریں

لاہور (ویب ڈیسک) آج عمران خان کی حکمرانی کو 80 دن پورے ہونے جا رہے ہیں 20 دن بعد 100 دنوں کا پنڈورا باکس بھی کھل جائے گا ۔ 80 دنوں میں صرف دو گہرے در کسی پیر کا ہو یا یار دوست کا مراد بر آئے تو لطف کچھ اور ہوتا ہے۔

نامور کالم نگار پروفیسر خالد محمود ہاشمی روزنامہ نوائے وقت میں اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔عمران خان سعودی عرب اور چین سے بامراد لوٹے ہیں۔ سعودی عرب سے دوہرا فائدہ ملا ہے۔ حرمین شریفین سے بے پایاں فیوض و برکات بھی اور امداد بھی۔ پاکستان کو 22واں وزیراعظم ملا تو اس کے سر پر 20 کھرب روپے کے قرضوں کا بوجھ تھا۔ 1971ء میں پاکستان صرف 30 ارب روپے کے بوجھ تلے دبا تھا۔ قسطوں پر پلاٹ، گاڑیاں، موٹرسائیکلیں خریدنے والے جانتے ہیں کہ قسط کی ادائیگی سے بڑا بوجھ کوئی اور نہیں ہوتا۔قرضوں کی قسطوں کی بروقت ادائیگی کے لئے فوری اور پہلا آپشن یہ تھا کہ آئی ایم ایف سے التجا کی جائے اس کی ناروا شرائط کی کڑوی گوی نگل لی جائے۔ بجلی، گیس، تیل کی قیمتیں بڑھنے سے عوام چند دن حکومت کو برا بھلا کہہ کر بالآخر خاموش ہو جاتے ہیں اسی طرح آئی ایم ایف کی باتیں مان لینے میں کیا حرج ہے۔ دنیا میں ساہو کاروں کے لئے لو اور دو کا اصول کار فرما ہے۔ عمران خان نے ساہوکار سے پہلے جگری دوستوں سے اپنی مجبوری بیان کرنے کا فیصلہ کیا۔ 23اکتوبر کو سعودی عرب نے چھ ارب ڈالر کا پیکج حوالے کیا۔ عمران دمکتے چہرے سے پاکستان لوٹے۔

اگلے ہی روز سٹاک مارکیٹ بھی چمکنے لگی۔ 1556 پوائنٹس کا اضافہ معمولی بات نہ تھی۔ ہاؤسنگ، زراعت، برآمدات اور بیرون ملک پاکستانیوں سے ڈالر نکلوانا حکومتی ترجیحات اور اقتصادی حکمت عملی ہے۔ عہد عمران میں 50 لاکھ گھروں کی تعمیر شیر شاہ سوری کی طرح تاریخ میں رقم کیا جانے والا کارنامہ ہو گا بھٹو کی روٹی کپڑا مکان کی خواہش بھی ناتمام رہی اس عوامی دور میں ایسا وقت بھی آیا تھا جب لوگ کلو آدھا کلو گھی خریدنے کے لئے دکانداروں کی منتیں کیا کرتھے۔ زراعت 60 ارب ڈالر کی انڈسٹری ہے جو اب زیادہ نفع بخش نہیں رہی۔ زعی ٹیوب ویلوں کے لئے بجلی کا ٹیرف 10.35 روپے فی یونٹ سے کم کر کے 5.35 روپے فی یونٹ کر دیا گیا ہے۔ پچھلے 5 سال میں برآمدی آمدنی 25 ارب ڈالر سالانہ سے گھٹ کر 20 ارب ڈالر رہ گئی ہے۔ 2018-23ء کے لئے برآمدی آمدنی کا ہدف 46 ارب ڈالر مقرر کیا گیا ہے حوالہ ہنڈی سے معیشت کو سالانہ 10 ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔ مولانا سمیع الحق کی شہادت معمولی واقع نہیں۔ طالبان کے والد مولانا سمیع الحق کو جس بے دردی سے قتل کیا گیا ہے تو دوسرے رہنماؤں کی زندگی کی سلامتی کی کیا ضمانت دی جا سکتی ہے۔ ناموس رسالتؐ کو نہ کبھی خطرہ تھا نہ ہے نہ ہو گا

جیسے قرآن پاک کی حفاظت کا ذمہ خود پروردگار نے لے رکھا ہے اسی طرح ناموس رسالتؐ بھی کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہئے۔ برائی، فساد، اسلام دشمنی، مسلمان دشمنی، قرآن دشمنی، رسولؐ دشمنی، پاکستان دشمنی کے خلاف دینی قوتیں دراصل مزاحمتی قوتیں ہیں۔ ہل عالم کو پتہ چل گیا ہے کہ کلمہ گو لوگ اپنے رسولؐ کی شان میں ذرا سی بے ادبی اور گستاخی سننے کو تیار نہیں ان کے زندہ ہیں۔ زندہ اور مردہ میں فرق احتجاج سے ہی واضح ہوتا ہے۔ ہمارے اعمال کتنے ہی کمزور کیوں نہ ہوں لیکن ہم ناموس رسالتؐ اور ختم نبوتؐ کے بارے میں سیسہ پیلائی ہوئی دیوار ہیں۔ پرامن احتجاج سے دنیا بھر میں کوئی کسی کو نہیں روک سکتا۔ فسطائی قوتیں حق کی آواز کو دباتی ہیں، فسطائی قوتیں ہی میڈیا کا گلا گھونٹتی ہیں۔ ہمیں شکر کرنا چاہئے کہ سواد اعظم کا ضمیر زندہ ہے تاہم جہاں زبان درازی ہے اس کا انسداد ممکن ہے۔ سپریم کورٹ کا فرمان ہے سرکاری افسر غلط حکم نہ مانیں، غلط احکامات ماننے کے ہولناک نتائج سامنے ہیں۔ ایف ایس ایف نے بھٹو کے غلط احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے احمد رضا خان قصوری کے والد گرامی محمد احمد خان کو گولیوں کا نشانہ بنایا تھا اور پھر خون کا بدلہ خون ہوتا ہے اس مقدمہ قتل میں ایف ایس ایف کے پانچ اہلکار ہی نہیں خود قائد ذوالفقار علی بھٹو تختہ دار تک لائے گئے۔

ماڈل ٹاؤن کیس میں کئی پولیس افسر قانون کے شکنجے میں آئے ہوئے ہیں۔ عمران دور میں ڈی پی او پاکپتن کا تبادلہ اور اس کے بعد اسلام آباد کے آئی جی کے تبادلے پر تو چیف جسٹس سے بھی نہ رہا گیا۔ اعلان کر دیا سرکاری افسر ریاست کے ملازم ہیں ذاتی نہیں۔ یہ ہے نیا پاکستان؟ انہوں نے حکومت وقت پر واضح کیا پاکستان کسی کی ڈکٹیشن نہیں قانون کے مطابق چلے گا۔ پولیس میں سیاسی مداخلت برداشت نہیں، مرضی سے تبادلے نہیں ہو سکتے، کسی سینئر وزیر یا اس کے بیٹے کی وجہ سے اداروں کو کمزور نہیں ہونے دیں گے۔ عدالت عظمٰی کے ریمارکس کے بعد واضح ہو گیا کہ وزیراعظم آل ان آل نہیں ان کے اوپر بھی ظاہری اور پوشیدہ کیمرے لگے ہیں بلکہ ان کے سارے رفقائے کار بھی کیمروں کی زد میں ہیں۔ سب سے بڑا کیمرہ تو عدالت عظمٰی کا ہے۔ نیب بھی ایک کیمرہ ہے۔ اس کے علاوہ بھی کئی باریک بیں کیمرے ہیں جن کے پاس لمحاتی یعنی لمحے لمحے کی ریکارڈنگ ہوتی ہے۔ کوئی بچ کر کہاں جائے گا۔ عابد باکسر جیسے کردار حکمرانوں کی تعمیل ارشاد کی دو ہی وجوہ ہوتی ہیں لالچ یا مجبوری۔ نوکری جانے کا خوف اور حکم عدولی کی سزا مجبوری کہلاتی ہے۔

لالچ میں جعلی پولیس مقابلے اور سیاسی مخالفوں کے جلسوں، ریلیوں اور خود ان پر گولیاں برسا دی جاتی ہیں۔ حالیہ مثال کسٹم گروپ کے گریڈ 21 کے افسر شوکت علی کی برطرفی ہے جنہوں نے قطری شاہی خاندان کی گاڑیوں کو عدم ڈیوٹی کی ادائیگی کی وجہ سے ریلیز کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ یہی سیاسی دباؤ کی مثال ہے۔ سندھ میں سرکار کی ناجائز حکم عدولی سے انکار پر اے ڈی خواجہ کو لوگ نہیں بھولے۔ مولانا سمیع الحق کا قتل بیرونی عناصر پر ڈالا تو قاتل بچ جائیں گے۔ حالیہ دھرنوں میں قومی معیشت غریبوں کے رکشے، موٹرسائیکل، گاڑیاں جلیں ان کا کیا قصور تھا؟ آخرہمارے علمائے کرام معاشرے کے لئے کب رول ماڈل بنیں گے۔ دھرنوں کا نقصان کون بھرے گا؟ وزیراعظم کا دھرنے کے دوران ہنگامہ آرائی کرنے والوں کی گرفتاری کا حکم، کریک ڈاؤن شروع ہو گیا، خادم رضوی، افضل قادری سمیت سینکڑوں افراد کے خلاف مقدمات درج ہو گئے۔ دھرنے کے خاتمے کے لئے معاہدے عارضی حل ہیں، مستقل حل کے لئے حکومتی اتحاد اور اپوزیشن اتحاد کو ایک پیج پر آنا ہو گا۔ جتھے یا پریشر گروپس حکومتوں کو کب تک نیچے لگاتے اور بلیک میل کرتے رہیں گے۔ وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ کام نہ کرنے والا وزیر گھر جائے گا۔ وزراء کے اداروں کے دوروں سے حکومت کاامیج بہتر ہو گا۔ مریضوں ان کے لواحقین اور ڈاکٹروں سے ملنا ان کے لئے چشم کشا ثابت ہو سکتا ہے۔