کرنسی اسمگلنگ کیس میں دھماکہ خیز پیش رفت : گرفتاری کے وقت میں اکیلی نہیں تھی بلکہ ۔۔۔۔۔ ایان علی کے بیان نے ملک میں ہلچل مچا دی

لاہور (ویب ڈیسک) کرنسی سمگلنگ کیس پر ایان علی کے نئے اقدام نے منی لانڈرنگ مافیا کی نیندیں اڑادیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایان علی ایک بار پھر سے خبروں کی زنیت بننے لگی ہیں، ایان علی ابھی تک عدالت میں تو پیش نہیں ہورہیں تاہم سوشل میڈیا پر دئیے گئے

ایان علی کے حالیہ بیان نے ہل چل مچا دی ہے۔ایان علی کا وعدہ معاف گواہ بننے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ایان علی نے سوشل میڈیا پر خاموشی توڑتے ہوئے سب کو یاد دلایا ہے کہ گرفتاری کے وقت ائرپورٹ پر وہ اکیلی نہیں تھیں۔ میری صحت اور ذہنی حالت ایسی نہیں تھی کہ میں اپنے خلاف مقدمات کا ویسا دفاع کرپاتی جو میں کرنا چاہتی تھی۔ میں اپنا وکیل تبدیل کرچکی ہوں اور زیرسماعت دیگرمقدمات میں بھی اپنے وکلا تبدیل کر رہی ہوں۔ میرے خلاف تمام مقدمات کا اب سے ایک نیا آغاز ہوگا۔ ماڈل نے سوشل میڈیا پوسٹ پر بتایا کہ بغیر کسی ثبوت کے منی لانڈرنگ سے متعلق الزامات اور 4 سال سے اس خوفناک صورتحال کا سامنا کرنے پرمیں کچھ پوچھنا چاہتی ہوں۔ ” اسلام آباد ائرپورٹ کے راول لاؤنج کی ویڈیو کے مطابق اگر سابق صدر کے پی اے اور رحمان ملک کے بھائی خالد ملک میرے ساتھ تھے تو انہیں گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟ ان کا نام میرے خلاف درج ایف آئی آرمیں کیوں شامل نہیں اور وہ کسی بھی بھی تفتیش کا حصہ کیوں نہیں۔ ایان علی نے اہم سوالات اٹھانے کے بعد اپنی پوسٹ میں مزید واضح کیا کہ

میری ذات سے میرے ملک اور اس کے لوگوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ وہ لوگ جوکچھ بھی کہہ کر اسے مذاق سمجھ رہے تھے، انہیں تمام جوابات مل جائیں گے۔اور اب کرنسی سمگلنگ کیس پر ایان علی کے نئے اقدام نے منی لانڈرنگ مافیا کی نیندیں اڑادی ہیں۔ ایان علی نے جان کا تحفظ دینے پر وعدہ معاف گواہ بننے پر نیم رضا مندی بھی ظاہر کر دی ہے۔ ایان علی کے پاکستان واپس آنے پر اہم ثبوت بھی سامنے آئیں گے، ایان علی کے سابق وفاقی وزیر رحمان ملک کے بھائی کے کاروبار سے مبینہ تعلقات کی حقیقت بھی سامنے آ جائے گی۔ ذرائع کے مطابق ایان علی کو مکمل تحفظ کی یقیقن دہانی کروا دی گئی ہے۔ واضح رہے ایان علی کو 14مارچ 2015 میں دبئی جاتے ہوئے پانچ لاکھ ڈالرز اسمگل کرنے کی کوشش کے الزام میں بینظیر بھٹو ائرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ منی لانڈرنگ کے الزام میں ایان علی نے تقریبا دو سال تک پیشیاں بھگتیں اور سپریم کورٹ کے حکم پرای سی ایل سے نام نکلتے ہی گزشتہ سال فروری میں دبئی روانہ ہوگئی تھیں۔ جس کے بعد عدالت نے مسلسل 33 سماعتوں سےغیرحاضر ہونے پر ملزمہ کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کررکھے ہیں۔