تحریک لبیک ایک بار پھر بپھر گئی ، اب کس بات پر دھرنوں کی دھمکی دے دی ؟ تازہ ترین خبر

لاہور (ویب ڈیسک) تحریک لبیک نے پاکستان میں ایک مرتبہ پھر سے دھرنوں کی دھمکی دے دی۔ تفصیلات کے مطابق تحریک کی مجلس شوریٰ کا اجلاس گذشتہ رات منعقد ہوا جس میں علامہ خادم حسین رضوی، پیر افضل قادری، علامہ فاروق الحسن اور دیگر مرکزی رہنماؤں نے شرکت کی۔ تحریک لبیک کے وفد کی رات گئے

حکومتی عہدیداروں سے ملاقات بھی ہوئی۔ تحریک لبیک ذرائع کے مطابق اگر حکومت کی جانب سے کارکنوں کی گرفتاریوں اور کارروائیوں کا سلسلہ نہ رکا تو آئندہ دو روز میں لاہور سمیت مختلف شہروں میں احتجاج اور دھرنوں کا سلسلہ شروع ہو جا ئے گا۔ اس حوالے سے تحریک لبیک بڑے پیمانے پر احتجاج کی تیا ری کر چکی ہے۔ تحریک لبیک کی مجلس شوریٰ کے اجلاس کے دوران حکومت و تحریک کے مرکزی قائدین کا متعدد بار رابطہ ہوا ہے جس کے بعد تحریک کے وفد کی حکومتی عہدیداروں سے ملاقات بھی ہوئی جس میں تحریک کی جانب سے تمام کارکنوں کی رہائی و معاہدہ پر عملدرآمد کا کہا گیا۔ آج تحریک لبیک کا وفد وفاقی حکومت کے وزرا کے ساتھ ملاقات کرے گا جس کے بعد آئندہ روز تحریک کی جانب سے اگلا لائحہ عمل دیا جائے گا۔

دوسری جانب سرگرم کارکنوں کی گرفتاری پر دھرنا قائدین بھی تشویش میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ دھرنا قائدین کی جماعتیں جہاں ایک طرف توڑ پھوڑ کرنے والوں اور املاک کونقصان پہنچانے والوں کی گرفتاری میں حکومت کی مدد کر رہی ہیں وہیں ان جماعتوں کے قائدین اس تشویش میں مبتلا ہو گئے ہیں کہ توڑ پھوڑ ، جلاؤ گھیراؤ اور املاک کونقصان پہنچانے میں تو تنظیموں اور جماعتوں کے کئی سرگرم کارکنان بھی ملوث ہیں جن کی نشاندہی تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے کی گئی ہے۔ دھرنا پارٹیوں کی قیادت اگر ایسے کارکنان سے لاتعلقی کا اظہار کرتی ہے تو اس سے عام کارکنان میں مایوسی پھیلنے کا اندیشہ ہے ، اور یہ تمام ایسے کارکنان ہیں جو اپنے قائدین کی ایک آواز پر جان کی بازی لگانے پر بھی تیار ہو جاتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق تحریک لبیک کی قیادت نے اپنی سوشل میڈیا ٹیم کو اس کام کے متحرک ہونے کی ہدایات کر دی ہیں اور انہیں کہا ہے کہ وہ بند کیے جانے والے اکاؤنٹس کے متبادل اکاؤنٹس بنائیں اور آفیشل اکاؤنٹس کا بیک اپ بھی محفوظ کیا جائے تاکہ اگر ایک اکاؤنٹ بند ہو تو بیک اپ کی مدد سے نیا اکاؤنٹ کھولا جا سکے۔