چین نے پاکستان کوامداد دینے کی بجائے کون سا موٴقف اپنایا؟ وزیراعظم عمران خان کے دورہٴ چین کا بھانڈا پھوٹ گیا

لاہور(ویب ڈیسک) پاکستان پیپلزپارٹی نے وزیراعظم کے دورہ چین کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے؟ پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنماء نیئر بخاری نے کہا کہ چین نے پاکستان کوامداد دینے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا، امداد دینے کی بجائے مزید بات چیت کا مئوقف اپنایا گیا، قرضوں پر معیشت چلانا عارضی حل ہے، قرض اور امداد کی شرائط بھی پارلیمنٹ میں پیش کی جائیں۔

انہو ں نے وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر کی کامیاب دورہ چین سے متعلق پریس کانفرنس پر اپنے ردعمل میں کہا کہ چین نے پاکستان کوامداد دینے کا باضابطہ طور پراعلان نہیں کیا۔ چین نے پاکستان کومالی امداد دینے کی بجائے مزید بات چیت کا مئوقف اپنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم چین کے ساتھ معاہدوں اورسمجھوتوں کی تفصیلات سے پارلیمنٹ کو آگاہ کریں۔

قرض اور امداد کی شرائط بھی پارلیمنٹ میں پیش کی جائیں۔ نیئر بخاری نے کہا کہ ملکی معیشت کو پاؤں پر کھڑا کرنے کے اپنے دعوؤں کو سچ ثابت کریں۔ حکومت کا کوئی معاشی وژن ہے اور نہ ہی کوئی پالیسی ہے۔خراب معاشی صورتحال گھمبیر ہوتی جارہی ہے۔ قرضوں پر معیشت چلانا عارضی حل ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈالر کی قیمت میں اضافہ سے صنعتکاروں کے اربوں ڈوب گئے۔

معاشی ، زرعی، تجارتی اور صنعتی پیدوار میں بتدریج کمی آرہی ہے۔ واضح رہے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے دورہ چین کے بعد وطن واپس پہنچ کر وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو درپیش کرنٹ خسارے کا بحران ٹل گیا ہے۔ادائیگیوں کے توازن کا بحران عارضی طور پر ختم ہوگیا۔ ہم کرنٹ خسارے کے بحران کو مستقل بنیادوں پر ختم کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کرنٹ خسارے کے بحران سے نکلنے کیلئے 12ارب ڈالر کی ضرورت تھی۔ سعودی عرب نے 6 ارب ڈالر فراہم کیے مزید ذرائع سے بھی رقم آئی ہے۔ سعودی عرب سے 6 ارب ڈالر رواں سال مل جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ادائیگیوں میں توازن لانے کیلئے برآمدات بڑھانا ضروری ہے۔ حکومت کا اعلیٰ سطح کا وفد 9 نومبر کو چین جارہا ہے۔ یہ وفد چین میں توازن ادائیگی کے حوالے سے خدوخال طے کرےگا۔ اسد عمر نے کہا کہ دو ماہ سےشور مچا ہے کہ معیشت تباہ کردی۔ برآمدات کے لیے ہم نے دو اڑھائی ماہ میں بہت سے اقدامات کیے۔