Home » بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ہوں گی،پاکستان کے اہم ترین ادارے میں اربوں روپے کی کرپشن کا بھانڈا پھوٹ گیا

تازہ ترین

Advertisment

مقبول خبریں

پاکستان

بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ہوں گی،پاکستان کے اہم ترین ادارے میں اربوں روپے کی کرپشن کا بھانڈا پھوٹ گیا

اسلام آباد (ویب‌ڈیسک) کرپشن اور بددیانتی پر نااہل ہونے والے سابق وزیراعطم نواز شریف کے دور میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں33ارب ٹیکس چوری سکینڈل کی تحقیقات مکمل کر لی گئی ہیں اور مفصل تحقیقاتی رپورٹ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کو فراہم کردی گئی ہے، پاکستان ٹوبیکو کمپنی کے مافیا اور ایف بی آر مافیا نے ملی بھگت کرکے سگریٹ پر عائد فیڈرل ایکسائیز ڈیوٹی کے قواعدو طریقہ میں ترامیم کرکے قومی خزانہ کو 33ارب روپے کا نقصان پہنچایا تھا اس سکینڈل کا انکشاف آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا جبکہ پی اے سی نے اس سکینڈل کی تحقیقات کرانے کا حکم دیا تھا، پاکستان تحریک انصاف نے

حکومت نے اس سکنڈل کی تحقیقات کا حکم دیا اور ایف بی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیول کے ایک اعلیٰ افسر کو تحقیقات کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، تحقیقات افسر نے اپنے فرائض سنبھالتے ہوئے سکنڈل کی تحقیقات مکمل کرکے حتمی رپورٹ وزیر خزانہ اسد عمر کے حوالے کر دی ہے، رپورٹ میں سابق چیئرمین ایف بی آر طارق پاشا کے علاوہ چار افسران کو اس سکنڈل کا مرکزی کردار کی نشاندہی کی ہے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آر کے کرپٹ افسران نے پاکستان ٹوبیکو کمپنی اور فلپ مورس کے ساتھ سازباز کرکے سگریٹ پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی وصول کے قواعد تبدیل کر دیئے تھے اور سگریٹ کی مختلف اقسام کو تین کٹیگری میں تقسیم کر دیا جبکہ ماضی میں سگریٹ کو دو کیٹیگری رکھی گئی تھیں، ایف بی آر حکام نے قومی خزانہ کو33ارب کا نقصان پہنچانے کیلئے بڑی باریک بینی سے کام کیا اور عام آدمی کی سمجھ سے بالاتر چالاکی کھیلی، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ33ارب کا نقصان پہنچانے والے مافیا کے بڑے بڑے افسران نے پاکستان ٹوبیکو کمپنی میں اپنے رشتہ داروں کو بھاری تنخواہ پر بھرتی کرایا جن کی تفصیلات رپورٹ میں فراہم کر دی گئی ہیں

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سگریٹ کمپنیوں سے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی وصولی کئے، ’’تھرڈٹائر‘‘ سامنے لانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی، لیکن ایف بی آر کے کرپٹ افسران نے تھرڈٹائرایجاد کرکے قومی خزانہ کو 33ارب روپے کا نقصان دیا ہے، جس کا ریکوری فوری کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے، ذرائعے کے مطابق اس سکنڈل کا سب سے بڑا ملزم سابق چیئرمین ایف بی آر طارق پاشا کو قرار دیا گیا ہے، جس نے سگریٹ کمپنی مافیا کی دھن پر ڈانس کرتے ہوئے قوانین بدلے اور پھر اپنے رشتہ داروں کو پی ٹی سی میں بڑی بڑی تنخواؤں پر بھرتی بھی کرایا، پاکستان میں ہرسال86ارب سگریٹ عوام پھونک جاتے ہیں، نوازشریف دور حکومت سے پہلے سگریٹ شعبہ سے ہر سال126ارب روپے کے ٹیکس اکٹھا ہوتا تھا، نواز شریف دور میں قواعد بدلنے سے سگریٹ کے سیکٹر سے صرف60ارب روپے کے ٹیکس اکٹھے ہوئے تھے، جس سے براہ راست 33ارب روپے کا نقصان خزانہ کو دیا گیا جبکہ طارق پاشا اینڈ مافیا نے ذاتی اکاؤنٹس بھی بھر رکھے ہیں، وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے تحقیقات کرانے کا حکم دیا اور یہ تحقیقات اب مکمل ہوکر رپورٹ ان کے حوالے کر دی گئی ہے اور رپورٹ میں لوٹ مار کرنے والے ایف بی آر کے افسران کی نشاندہی بھی کی گئی ہے، اور اب اسد عمر پر بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ کرپٹ افسران سے لوٹ مار کے دولت واپس لے، اس حوالے سے طارق پاشا سے بار بار رابطہ کیا گیا لیکن انہوں نے وضاحت نہیں دی ہے، ذرائعے کے انکشاف کیا ہے کہ تحقیقات میں سامنے آنے والے ایف بی آر کے بڑی بڑی5افسران کو فوری گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے۔