یوٹرن۔۔۔۔۔۔وزیر اعظم…تحریر : محمد شاہد محمود

وزیراعظم عمران خان نے کہا جو لیڈر حالات کے مطابق یوٹرن نہ لے وہ لیڈر ہی نہیں ہوتا، کیونکہ ہٹلر اور نپولین نے یوٹرن نہ لے کر بڑی شکست کھائی، وزیراعظم نے اپنے کرکٹ کے دور کی مثال دیتے ہوئے کہا ہم ایک حکمت عملی بنا کر میدان میں اترتے تھے اگر اس کیخلاف ہماری مخالف ٹیم کوئی اور حکمت عملی بنالیتی تھی تو ہمیں ایک دم اپنی حکمت عملی بدلنا پڑتی ،جب ہم جارہے ہوں اور سامنے دیوار ہو تو آپ کو ادھر ادھر راستہ تلاش کرنا چاہیے۔ جو لیڈر حالات کے مطابق یو ٹر ن نہ لے وہ لیڈر ہی نہیں ہوتا، جو یوٹرن لینا نہیں جانتا اس سے بڑا کوئی بے وقوف نہیں ہوتا۔وزیر اعظم عمران خان اب تک جتنے یوٹرن لے چکے ہیں ان کی تفصیلات سامنے آ چکی ہیں۔عمران خان کو دوسرے لفظوں میں یوٹرن وزیر اعظم کہا جا سکتا ہے۔ 30اکتوبر کو سپریم کورٹ نے آسیہ بی بی کو رہا کرنے کا حکم دیا، اس فیصلے کیخلاف احتجاج شروع ہوا، جس کے بعد وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب میں سخت پیغام دیا، عمرا ن خان نے کہا ریاست کی رٹ پر کو ئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔وزیراعظم کے اس بیان کو میڈیا، وزیراطلاعات فواد چوہدری اور شیری مزاری نے بہت سنجیدہ لیا۔مگر وزیراعظم کے بیان کے دو دن بعد ہی حکومت نے احتجاج کرنیوالوں کیساتھ معاہدہ کرلیا۔ وزیراعظم نے غیر ملکی قرضہ خا ص طور پر آئی ایم ایف کے پاس جانے کے حوالے سے یوٹرن لیا۔ ماضی میں اقتدار میں آنے سے پہلے وزیراعظم عمران خان غیر ملکی قرضہ لینے کے حوالے سے کہہ چکے ہیں ”یہ کبھی امید نہ کرنا عمران خان آپ کا پرائم منسٹر ہو اور بھاگتا پھرے دنیا میں پیسے مانگتے ہوئے ، میں خود کشی کرلوں گا ،عمران خان مرجائے گا کبھی پیسے نہیں مانگے گا۔

سچ میں نے اپنے والد سے بھی کبھی پیسے نہیں مانگے،ہم نے کبھی نہ امریکہ، نہ آئی ایم ایف کسی سے بھکاریوں کی طرح قرضے نہیں لینے، ایڈ نہیں لینی”۔عمران خان کی ان باتوں کو سنجیدہ لیتے ہوئے پارٹی کے رہنما دعوے کر نے لگے کہ جیسے خان صاحب حکومت میں آئیں گے 200 ارب ڈالر ملک میں آئیں گے، 100 ارب ڈالر ادھار واپس کریں گے ، 100 ارب ڈالر پاکستان کی عوام پر لگائیں گے۔ مگر پھر عمران خان اقتدار میں آئے اور موقف بدلتے ہوئے کہا ” جو قرضہ دیتا ہے، وہ آپ کی آزا د ی لے جاتا ہے، آپ کو کتنا برا لگے گا، مجھے کتنا برا لگے گا کہ میں باہر جاکر لوگوں سے پیسے مانگوں، کبھی کسی ملک جارہا ہوں، کبھی کسی ملک جارہا ہوں،پھر اچانک حکومت نے آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ کرلیا، اس وقت آئی ایم ایف کا وفد پاکستان میں ہے۔ اس کے علاوہ جب سعودی عرب سے امداد مل گئی تو وزیراعظم عمران خان نے اسے بڑی کامیابی قرار دیا۔ پھر چین گئے اور واپسی پر دعوے کئے کہ دورہ چین بہت کامیاب رہا وہاں سے امداد مل گئی۔

رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کے حوالے سے بھی بڑا یوٹرن لیا۔ اقتدار میں آنے سے پہلے وزیراعظم عمران خان نے واضح کیا تھا کہ ان کی کابینہ 20اراکین سے زیادہ نہیں ہوگی مگر اقتدار میں آنے کے بعد اس وقت صورتحال یہ ہے کہ کابینہ میں وفاقی وزراء کی تعداد 24 ہے۔ 6وزرا مملکت،4مشیر، 5معاون خصوصی ہیں یعنی 39 رکنی کابینہ ہے۔ ا س کے علاوہ حکومت میں آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے فیصلہ کیا کہ عاطف میاں حکومت کی اکنامک ایڈوائزری کاؤنسل میں شا مل ہوں گے، فواد چوہدری نے پھر عمران خان صاحب کو بہت زیادہ سنجیدہ لے لیا کہ فیصلہ خان صاحب کا ہے تو وہ اپنے فیصلے پر قائم بھی رہیں گے ، اسلئے فواد چوہدری صاحب لیڈ کرتے رہے، فیصلے کا دفاع کرتے رہے اور یہاں تک کہہ دیا کہ جو لوگ اعتراض کررہے ہیں وہ بنیادی طور پر ایکسٹریمسٹ اور ہم نے ایکسٹریمسٹوں کے سامنے بالکل نہیں جھکنا اور انشاء اللہ تعالیٰ پاکستان میں جو اقلیتیں ہیں انکی حفاظت یقینی بنانا ہماری ذمہ داری ہے مگر پھر حکومت دباؤ میں آگئی۔ 7 ستمبر کو وزیراعظم نے یوٹرن لے لیا، عاطف میاں کی نامزدگی واپس لے لی گئی۔یہ بھی بات قابل ذکر ہے کہ عمران خان ماضی میں شیخ رشید احمد کے حوالے سے مختلف رائے رکھتے تھے، اب ان کی رائے مختلف ہے۔

وزیر اعظم عمران خان اقتدار میں آنے سے پہلے شیخ رشید کے بارے میں کہا اللہ انہیں شیخ رشید جیسا سیاست دان نہ بنائیاور کہاکہ ” ہم الیکشن لڑیں نواز شریف کے نام لے کر اور اس کے بعد لوٹا ہوکر دوسری طرف چلے جائیں، ایسی حرکت نہیں تھی۔ شیخ صاحب آپ کامیاب سیاستدان ہیں نا۔ میں ٹی وی پر کہتا ہوں کہ اللہ مجھے شیخ رشید جیسا کامیاب سیاستدان کبھی نہ کرے، اس سے بہتر ہے میں فیل ہی رہوں ہمیشہ، یہ کامیابی ہے کہ پہلے آپ نواز کے ووٹ اکٹھے کرتے ہیں اور لوٹا ہوکر ادھر چلے جاتے ہیں”۔ مگر اب یہی شیخ رشید وزیراعظم عمران خان کی کابینہ کا حصہ ہیں اور وزیر ریلوے ہیں۔اسی طرح اقتدار میں آنے سے پہلے وزیراعظم عمران خان کی چوہدری پرویز الہٰی کے حوالے سے رائے ٹھیک نہیں تھی ، عمران خان پرویز الہٰی کو ڈاکو قرار دیتے تھے۔مگر اب وزیراعظم عمران خان نے پرویز الہٰی کی جماعت کیساتھ مل کر الیکشن لڑا، ق لیگ کی پنجاب میں تحریک انصاف کی اتحادی ہے۔

پرویز الہٰی کو وزیراعظم عمران خان نے سپیکر پنجاب اسمبلی بنادیا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے آزاد امیدواروں کے حوالے سے بہت سے دعوے کئے اور اعلان کیاتھاآزاد امید و ا ر و ں کو پارٹی میں کوئی گنجائش نہیں ملے گی، آزاد امیدواروں کو ووٹ نہ دینے کی کارکنان کو ہدایت کرتے ہوئے ان کا کہناتھا تحریک انصاف میں آنے کی کوشش نہ کرنا آپ کی جگہ نہیں ہوگی تحریک انصاف میں، اگر آپ جیت بھی گئے لیکن پنجاب میں حکومت بنانے کیلئے آزاد امید و ا ر وں کی ضرورت پڑی ، رابطے کئے گئے، بڑی تعداد میں آزاد امیدواروں نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی بلکہ انتخابات کے بعد (ن) لیگ پنجاب کی بڑی جماعت تھی مگر آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد تحریک انصاف بڑی جماعت بن گئی اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ زیادہ تر وزارتیں بھی آزاد امیدواروں کو دی گئیں۔ اقتدار میں آنے سے پہلے وزیراعظم عمران خان پنجاب حکومت کی میٹرو بس منصو بو ں پر تنقید کرتے رہے اور کہامیٹرو پر نہیں، انسانوں پر پیسہ خرچ کرنا ہے، یہ تک کہتے رہے اگر خیبرپختونخوا میں میٹرو بس بنائی تو میں خود جا کر احتجاج کروں گا مگر پھر بعد میں میٹرو بس بنی، خیبرپختونخوا کے میٹرو کے بارے میں عمران خان نے بتایا ان کی میٹرو پنجاب حکومت کی میٹر وبس سے مختلف ہے۔رپورٹ کے مطابق حال یہ ہے پشاور میٹرو ابھی تک نہ تو بن سکی ہے اس کا خرچہ بھی سب سے زیادہ ہے، سڑسٹھ ارب کی لاگت سے زیادہ ہوچکا ہے اور بار بار کی ڈیڈ لائنز وہ میٹ نہیں کرسکی اور اب تک چل نہیں سکی۔

شاہزیب خانزادہ کے مطابق اسی طرح عمران خان نے جہانگیر ترین کی نااہلی کے حوالے سے موقف میں بدلتے رہے، جہانگیر ترین کی نااہلی سے پہلے انہوں نے کہا نااہلی جس کی بھی ہوئی وہ گھر جائے گا۔پھر جب سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد جہانگیر ترین نااہل ہوگئے تو عمران خان نے کہا جہانگیر ترین کو ٹیکنیکل گراؤنڈ پر نکالا گیا۔ اسی طریقے سے انسائیڈڈ ٹریننگ کا جو معاملہ تھا اس کا دفاع کرتے رہے، پھر ریویو پٹیشن کا انتظار تحریک انصاف کرتی رہی اس میں بھی نااہل ہوگئے تو اب بھی جہانگیر ترین پارٹی کے اجلاسوں میں جاتے ہیں۔اسی طرح ماضی میں عمران خان نے دھر نے کے دنوں میں پارلیمنٹ کو بھی جعلی قرار دیا اور کہا وہ اس جعلی پارلیمنٹ کا حصہ نہیں بن سکتے۔مگر بعد میں عمران خان اور پوری تحریک انصا ف پارلیمنٹ کا دوبارہ حصہ بن گئی۔ جب پارلیمنٹ میں آئے اس وقت کے وفاقی وزیر خواجہ آصف نے کہا ”آٹھ مہینے کنٹینر پر گالیاں دیتے رہے ہو اور پھر آکر بیٹھے ہو۔

خدا کا خوف کرو کوئی اخلاقیات بھی ہوتی ہے، کوئی ایتھکس ہوتی ہے، کوئی شرم بھی ہوتی ہے۔ ایک دوسرے کی شکلیں کیوں دیکھتے ہو ، کوئی شرم کرو۔وزیراعظم عمران خان کا آئین کے آرٹیکل 62,63کے حوالے سے بھی موقف تبدیل ہوا۔ ماضی میں آرٹیکل 62,63 کا معاملہ خود عمران خان صاحب کے حوالے سے آیا تو اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ” آٹیکل 62,63 امپلیمنٹ ایبل نہیں ہے، یا تو آپ فرشتے بٹھا دیں اسمبلی میں تو وہ شاید ہوجائیں، انسانوں کے اوپر وہ امپلیمنٹ نہیں ہوتی۔ پھر جب یہی آرٹیکل 62,63 نواز شریف پر لگنے کی بات آئی تو کیسے موقف بدلا اور کہا ” آرٹیکل 62,63 بنیادی چیز ہے لیڈر شپ کے اندر صادق اور امین، ایک لیڈر کیلئے یہ بنیادی ضروریات ہیں۔