کرتار پور راہداری۔۔۔پاکستان کی سرجیکل سٹرائیک۔۔۔تحریر:محمد شاہد محمود

کرتارپور راہداری کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ماضی صرف سیکھنے کیلئے ہے، رہنے کیلئے نہیں، آگے بڑھنے امن اور بھارت سے تعلقات پر پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں، فوج اور ادارے متفق اور ایک پیج پر ہیں۔ ارادہ ہو تو مسئلہ کشمیر بھی حل ہو سکتا ہے، انہوں نے غربت ختم کرنے کیلئے سرحد کھولنا اور تجارت کرنا ناگزیر قرار دیدیا۔ دونوں طرف سے غلطیاں ہوئیں، ہمیں ماضی کی زنجیر کو توڑنا ہوگا۔ ہم نے اچھے ہمسایوں کی طرح رہنا ہے، ماضی نے ہمیں آگے بڑھنے سے روکا ہوا ہے۔ فرانس اور جرمنی اتحاد بنا کر آگے بڑھ سکتے ہیں تو پاکستان بھارت کیوں نہیں؟ مسئلہ کشمیر حل کرنے کیلئے مضبوط ارادہ چاہیے، سرحد کھل جائے تو غربت میں تیزی سے کمی ہوگی۔ چین کی قیادت دور اندیش ہے، چینی قیادت نے فیصلہ کیا کہ پہلے غربت کو کم کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان، بھارت ایک قدم آگے بڑھ کر دو قدم پیچھے چلے جاتے ہیں، دوستی کیلئے بھارت ایک قدم بڑھائے، ہم دو بڑھائیں گے دونوں ممالک کے درمیان بنیادی تنازعہ کشمیر ہے اور دونوں ممالک کی قیادت کی قوت ارادی سے یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ امن کیلئے پاکستان کی حکومت، سیاسی جماعتیں، فوج اور تمام ادارے ایک صفحہ پر ہیں، کرتارپور کو دوربین سے دیکھنے والے گوردوارہ دربار صاحب کی یاترا کر سکیں گے، سکھ برادری کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ تقریب میں گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، وفاقی کابینہ کے ارکان، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، صوبائی وزرائ، بھارتی پنجاب کے وزیر اور سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو، بھارت کی وزیر ہرسمرت کور بادل، سکھ برادری کے ارکان اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔پاکستان گوردوارہ ایسوسی ایشن اور پنجابی سنگھ سنگت کے چےئرمین گوپال سنگھ چاولہ نے انکشاف کیا ہے کہ سکھ یاتریوں کیساتھ ”را “کے ایجنٹس ہوتے ہیں جو کمزوریاں تلاش کرتے ہیں۔ بھارت سے آئے سکھ یاتری آتے ہوئے ڈرے اور سہمے ہوئے ہوتے ہیں مگر یہاں کی مہمان نوازی دیکھ کر سفیر بن کر جاتے ہیں خالصتان کی تحریک دبی نہیں خالصتان بھی بنے گا اور کشمیر بھی آزاد ہوگا۔میرے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے مصافحہ کو بھارتی میڈیا بلاوجہ اچھال رہا ہے۔ گوپال چاولہ نے کہا کہ عمران خان نے جو وعدہ کیا میں ان کا اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا شکرگزار ہوں۔ سندھو صاحب کا پاکسان آنا خوشگوار ثابت ہوا۔دوسری طرف بھارتی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے گوپال چاولہ نے کہا ہے کہ پاکستانی آرمی چیف ہماری جان ہیں وہ ہمارے دلوں میں رہتے ہیں،ان سے ملنے کو اپنی خوش قسمتی سمجھتے ہیں،جنرل قمر جاوید باجوہ سے ہاتھ ملایا اورجپھی بھی ڈالی اس کو غلط رنگ نہ دیں،یہ پروگرام ہم نے ہی منعقد کیا تھا،آپ اس بات کو غلط رنگ مت دیں،ہمارا حافظ سعید کے ساتھ کوئی تعلق نہیں،ہم بارڈر کھولنا چاہتے ہیں، اس وقت سدھو صاحب اور عمران خان صاحب کے بارے میں بات کرنے کی ضرورت ہے،اگر آپ کوئی منفی رنگ دینا چاہتے ہیں تو مجھ سے بات نہ کریں۔ پاکستان اور انڈیا دونوں ایٹمی قوتیں ہیں اس لئے جنگ کی بات کرنا بے وقوفی ہے۔ میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملا ہوں وہ ہمارے اپنے آرمی چیف ہیں ، میرے ان سے مصافحہ کو میڈیا بلاوجہ اچھال رہا ہے۔ ان سے مصافحہ میری خوش قسمتی ہے۔ آج کل 300سے اوپر لوگ ہندوستان سے آئے ہیں مجھے یقین ہے کہ ان میں سے کم از کم 100افراد کا تعلق ہندوستانی خفیہ ایجنسی راءسے ہوگا یہ لوگ ہماری کمزوریاں ڈھونڈتے ہیں۔ سکھ یاتری جب باہر کے ممالک سے پاکستان آتے ہیں تو ان کو ان کے میڈیا نے بہت ڈرایا ہوتا ہے لیکن بعد میں پاکستانیوں کی مہمان نوازی سے ان کے خیالات بدل جاتے ہیں۔ بھارت میں سکھوں کے حالات بہت خراب ہیں اس وقت پنجاب پورے بھارت کو 60فیصد گندم فراہم کررہا ہے۔ بھارت کی پالیسیاں سکھوں کو دبانے کیلئے ہیں بھارت میں کسان خود کشیاں کررہے ہیں۔ سکھوں کو طاقت سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ ماضی میں سکھوں کی نسل کشی کی گئی ، انہوں نے کہا کہ میری حق سچ کی بات کرنے پر بھارتی میڈیا مجھے دہشت گرد قرار دے رہا ہے۔ ہندوستان کی تقسیم سے پنجاب کا نقصان ہوا ہے۔ ہندوستان کی حکومت اب دوبارہ پنجاب کو ملتا ہوا نہیں دیکھ سکتی۔ خالصتان کی تحریک نہ دبی تھی اور نہ دبے گی ، انشاءاللہ کشمیر بھی آزاد ہوگا اور خالصتان بھی آزاد ہوگا۔ سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو نے کہا ہے کہ ہمیں سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے، عمران خان نے اپنے فرض کو پورا کیا، مذہب کو سیاست اور دہشت گردی کی نگاہ سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ پاکستان جیوے ہندوستان جیوے، ہنستا بستا ساراجہاں جیوے، میرا یار دلدار عمران خان جیوے۔ نوجوت سنگھ سدھو نے کہا کہ 73 سال کے انتظار کو پل بھرمیں ختم کردیا اور یاری بھی نبھائی، کوئی فرشتہ ہوتا ہے، جو ایسے اقدامات کرتا ہے، امن اور خوشی کے لئے آگے بڑھنے کے لئے سوچ کو تبدیل کرنا ضروری ہے۔ ہماری جھولی خوشی سے بھردی گئی، ساری کائنات جھولی میں ڈال دی گئی۔ مذہب کو سیاست اور طاقت کے چشمے سے کبھی نہیں دیکھیں۔ خون خرابہ بند ہونا چاہیے، امن واپس آنا چاہیے، جہاں دوست مل جائیں وہ دہلیز مقدس ہوجاتی ہے، بہت نقصان اور بہت خون خرابہ ہوگیا، آگ پر کوئی پانی ڈالنے والا ہونا چاہیے۔کرتارپور کوریڈور کو ایک بہت اچھا مستقبل دیکھ رہا ہوں، یہ معجزہ ہے جو 73سال میں نہیں ہوا وہ 3ماہ کے اندر اندر ہوگیا۔ عمران خان نے اپنا وعدہ نبھایا ہے۔ حکومت اور پاک فوج کا شکرگزار ہوں۔ وزیراعظم عمران خان ایسی چابی بن گئے ہیں جو ہر تالے کو کھول سکتی ہے۔ دونوں ملکوں کو احساس ہونا چاہیے تاکہ ہم ایک ہوسکیں۔کرتارپور راہداری کھلنے کے باوجود بھارتی ہٹ دھرمی برقرار ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا ہے کہ کرتار پور راہداری کھلنے کا مطلب یہ نہیں کہ اب پاکستان سے دوطرفہ مذاکرات کا آغاز ہو جائیگا، دوطرفہ بات چیت اور کرتار پور بارڈر دونوں مختلف معاملات ہیں۔نئی دہلی پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ دوطرفہ بات چیت اور کرتار پور بارڈر دونوں مختلف معاملات ہیں۔ گزشتہ 20 برسوں سے بلکہ کئی برسوں سے بھارت پاکستانی حکومتوں سے کرتارپور کوریڈور کھولنے کا مطالبہ کر رہا ہے، پہلی بار کسی پاکستانی حکومت نے اس معاملے پر مثبت جواب دیا ہے تاہم بارڈر کھلنے کا مطلب یہ نہیں کہ اب دوطرفہ تعلقات کا آغاز ہو جائے گا۔ انہوں نے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ ہم سارک کانفرنس میں شرکت کے لیے پاکستان کی جانب سے دعوت نامے پر کوئی مثبت جواب نہیں دیں گے، جب تک پاکستان بھارت میں دہشت گرد کارروائیاں بند نہیں کرتا بھارت پاکستان سے کوئی بات چیت نہیں کرے گا اور نہ ہی سارک کانفرنس میں شرکت کرے گا۔ وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے کہا کہ میری مراد بابا گرونانک ہیں، آپ نے زندگی بھر توحید کی بات کی،پاکستان اقلیتوں کیلئے محفوظ ملک ہے، نیا پاکستان اور عمران خان کا پاکستان بہت ہی محفوظ ہے، کرتارپور کے گوردوارے کو سٹیٹ آف دی آرٹ گوردوارہ بنائیں گے۔ آج ہم تاریخ کی بہت عظیم شخصیت کی یادگارپر کھڑے ہیں، جہاں پر انہوں نے اپنی زندگی کے 18سال گزارے ہیں، میری مراد بابا گرونانک ہیں، آپ نے زندگی بھر توحید کی بات کی، انسانیت کی بات کی، خدمت خلق اور اخلاق کی بات کی، آج ایک بہت بڑا تاریخی اقدام ہونے جا رہا ہے، امن کے سفر کا ایک بہترین سنگ میل عبور کرلیا۔ پاکستان اقلیتوں کیلئے محفوظ ملک ہے، نیا پاکستان اور عمران خان کا پاکستان بہت ہی محفوظ ہے، کرتارپور کے گوردوارے کو سٹیٹ آف دی آرٹ گوردوارہ بنائیں گے، اگلے سال نومبر میں 550واں گورونانک کا جنم دن ہو گا،پاکستان حکومت اس کے یادگار منانے کا اہتمام کر رہی ہے۔ سکھوں کو ان کی مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لئے کرتار پور راہداری کھول دینا ایک اچھا اقدام ہے لیکن وزیراعظم عمران خان کو اپنی تقریر میں جس طرح سے کشمیر کے مئلے کے حل کیلئے اور بھارت پاکستان میں جو دہشت گردی کے نیٹ ورک چلا رہا ہے اس پر کوئی بات نہیں کی جبکہ بھارت تو ان کی امن کی دعوت کو مسترد کردیتا ہے۔ وزیراعظم کی تقریر میں صرف یہ کہہ دینا کہ کشمیر کا مسلہ حل ہونا چاہئے اتنا کافی نہیں ہے ان کو اس ایشو پر کھل کر بات کرنی چاہئے تھی کہ ہم تو بارڈر کھول رہے ہیں تو دوسری طرف بھارت مقبوضہ کشمیر میں معصوم کشمیریوں کا قتل عام کررہا ہے اور مسلسل ہٹ دھرمی کا مظاہرہ بھی کررہا ہے بھارتی ہٹ دھرمی کے روئیے کو دنیا کے سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ یہ بات درست ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر ظلم و ستم کررہا ہے اور پوری دنیا بھارت کے اس کردار کو بھی دیکھ رہی ہے لیکن پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کرتار پور کا سنگ بنیاد رکھ کے ایک تاریخی کام کیا ہے اور یہ کام کرکے انہوں نے دنیا کو بتا دیا ہے کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے اسی لئے پاکستان نے کرتار پور والا کام کیا ہے جس کی وجہ سے آج پوری دنیا میں مقیم سکھ برادری آج پاکستان کی سفیر بن گئی ہے ، پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے اس بڑے کام کی وجہ سے آج بھارتی وزیراعظم کو بھی پاکستان کے لئے ایک مثبت سوچ رکھنے پر مجبور کردیا ہے اور مودی کو یہ فکر لا حق ہو گئی ہے کہ اگر وہ اس کی حمائت نہیں کریں گے تو انڈیا کی سکھ برادری جس کے ووٹ کروڑوں میں ہے وہ اس کے خلاف ہو جائیں گے اس لئے اس کو پاکستان کے ساتھ بات چیت کے لئے میز پر آنا پڑے گا۔کشمیر سمیت تمام مسائل حل ہونا ناگزیر ہیں،کشمیر کے حوالے سے بھارت کو اقوام متحدہ کی قرادادوں پر عمل کرنا ہو گا تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان امن اور دوستی بڑھے۔ انہوں نے کہا کہ کرر تاپورا راہداری کو کھولنا پاکستان کاایک مثبت ا قدام ہے پاکستان ہمیشہ سے امن کا خواہاں رہا ہے پاکستان امن چاہتاہے تا کہ برصغیر کی ساری اقوام معاشی ترقی کر سکیں کرتا رپورا راہداری کا کھلنا خوشی کی خبر ہے اور حکومت پاکستان کا ایک قابل تحسین اقدام ہے۔