قصور:اینکر پرسن آفتاب اقبال کوغیر قانونی شکار پر روک لیا،،،اخلاقیات کا درس دینے والا تیتر اور ’’مگ ‘‘ کا شکار،،اعلی شخصیات کے دباؤ پر عملے نے معافی مانگ لی

FC9D8A97-EEFA-49AD-8538-BCAC2EC5FF72لاہور( رپورٹ :اسد مرزا) ڈی جی وائلڈ لائف ثنا اللہ کے حکم پر قصور میں تیتر اور پرندے ’’مگ‘‘ کا شکار کرنے پر اینکر پرسن آفتاب اقبال کو روک لیا تاہم اس دوران اہم شخصیات کی فونز کالز کے بعد وائلڈ لائف حکام نے عملے کو آفتاب اقبال سے معذرت کر کے جانے دیا جائے۔وائلڈ لائف کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ لوگوں کو اخلاقیات کا درس دینے والے اینکر آفتاب اقبال نے 3نومبر کو اپنی فیملی اور دوستوں کے ساتھ قصور بارڈر بیلٹ ایریا میں نایاب جانوروں اور پرندوں کے غیر قانونی شکار کیا جیسے ہی وہ شکار کر کے اپنی گاڑیوں پر للیانی ٹال پلازہ پہنچے تو وہاں وائلڈ لائف ٹیم نے انہیں رو ک لیا اور اسلحہ اور شکار کا پرمٹ دکھانے کی ہدایت کی جس پر اینکر پرسن آفتاب اقبال نے عملے کو دھمکیاں دیں اور پھر موبائل پر کالیں کرتے رہے اس دوران عاملے نے جاوید اقبال کی گاڑی کو چیک کیا تاہم فیملی کی گاڑی کے قریب نہیں گئے ۔ بتایا گیا ہے کہ ڈی جی وائلڈ ثنا اللہ کو اس حوالے سے صبح کی اطلاع کر دی گئی تھی جبکہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر وائلڈ لائف لاہورو قصور میاں رفیق اس کارروائی کی نگرانی کرتے رہے تاہم اعلی حکام کی جانب سے دباؤ کے بعد انہوں نے عملے کو آفتاب اقبال سے معافی مانگنے بلکہ انہیں عزت کے ساتھ وہاں سے روانہ کرنے کی ہدایت کی ۔واضع رہے کہ۔ اسی جگہ سے سابق گورنر پنجاب غلام مصطفیٰ کھر کو بھی غیر قانونی شکار کے جرم میں اسی ناکے پر روکا اور انکے ساتھی گرفتارکے کے انکا چالان کرنے کے بعد دو لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا۔ بعد ازاں غلام مصطفی کھر نے ڈسٹرکٹ وائلڈ لائف آفیسر عاصم کامران کو لاہور ہیڈ آفس بطور OSD اٹیچ کر دیا گیا اور قصور کا چارج اسسٹنٹ ڈائیریکٹر وائلڈ لائف لاہور میاں رفیق کو دے دیا گیا جن کی ہدایت پر آفتاب اقبال کو چالان کیے بغیر رہا کردیا گیا۔