دمے کی بیماری سے پریشان نہ ہو اب علاج بہت ہی آسان

دمہ ہمارے ملک کی عام بیماریوں میں سے ایک ہے اس کے تین بڑے اسباب ہوتے ہیں الرجی جراثیم کا حملہ اور نفسیاتی عوامل الرجی بے شمار اشیا کی وجہ سے ہوسکتی ہے.
 ان میں گرد،پھولوں کا بور،حیوانی بال بالخصوص گھوڑے اور بلی کے بال اور بالعموم کتے بھیڑ بکری کے اور انسانی بال سوتی اونی اور ریشمی کپڑے کے کارخانوں سے اُڑنے والا رﺅاں خوشبوئیں گندم باجرا مکئی اور چاول وغیرہ کے بھٹوں کا بور سانس کے راستے مریض کے جسم میں داخل ہوکر الرجی پیدا کرسکتے,
ہیںجس کا اظہار دمے کے دورے کی صورت میں ہوتا ہے مچھلی انڈا گوشت دودھ اسپرین وغیرہ کھانے سے بھی الرجی ہوسکتی ہے اس کے علاوہ پنسلین انسولین اور سائٹامین کے ٹیکے بھی الرجی کا سبب بن سکتے ہیں,
موسم کی اچانک تبدیلی سخت سردی ،سخت گرمی یا تیز دھوپ بھی دمے کا سبب بن سکتے ہیں جراثیمی دمہ بھی ایک قسم کی الرجی ہی کی وجہ سے ہوتا ہے ہمارے جسمانی دفاع کو توڑتے وقت بے شمار جراثیم ہلاک ہوجاتے ہیں اور ان کے ٹوٹ پھوٹ جانے سے حاصل ہونے والا موادالرجی کو جنم دیتا ہے,
اس طرح ناک منہ گلے اور پھیپھڑوں کی بیماریاں بھی دمے کے اسباب میں نفسیاتی عوامل کو اہم حیثیت حاصل ہے تمام مذکورہ بالا اسباب ہر آدمی پر ایک جیسا اثر نہیں کرتے بلکہ ہر شخص ان میں سے چند خاص اسباب سے الرجک ہوتا ہے مراض کے لیے ان اسباب سے الرجک ہوتا ہے مریض کے لیے ان اسباب کا پتا لگانا عموماً مشکل نہیں ہوتا
یہ چیز علاج میں ضرور مدنظر رکھی جانی چاہیے عموماً دمے کے دورے سے دو تین گھنٹے پہلے مریض بے چینی محسوس کرتا ہے اور اس کی ناک میں یا ٹھوڑی پر کھجلی محسوس ہوتی ہے وہ نفاہت محسوس کرتا ہے لیکن یہ سگنل ہر بار دیکھنے میں نہیں آتے اور ہر مریض کے لیے مختلف ہوسکتے ہیں دمہ کا دورہ عموماً رات کو نیند کی حالت میں پڑتا ہے مریض گلا گھٹتا ہوا محسوس کرتا ہے
سانس پھول جاتی ہے مریض کو سانس لینے میں کافی دقت پیش آتی ہے وہ لمبی سی سانس اندر کھینچتا ہے اور جلدی سے پھیپھڑوں کی سانس باہر نکال دیتا ہے سانس کے ساتھ پیدا ہونے والی آواز کافی دور تک سنی جاسکتی ہے۔ علاج:بنیادی ضرورت یہ ہے کہ دمے کا سبب تلاش کریں اور پھر اس سبب سے بچے کی حتیٰ الوسع کوشش کریں معمولی سی توجہ سے سبب تلاش کیا جاسکتا ہے نفسیاتی تناﺅ سے بچنے کی کوشش کریں منہ ناک گلے اور پھیپھڑوں کی بیماریاں کا فوری طور پر علاج کرائیںاگر آپ کو کوئی دل کی بیماری ہو تو دمے کے متعلق ڈاکٹر سے مشورہ کریں
ایفیڈرینEphedrin ایمائنو فائلن Aminophyline یا میتھیڈرینMethedrine کی گولیاں استعمال کریںپہلے ایک گولی کھائیے اگر بالکل افاقہ نہ ہو تو تقریباً 15 منٹ بعد ایک اور گولی استعمال کی جاسکتی ہے
لومینالLuminol یا ایمی ٹالAmitol کی گولیاں بھی دمے کے لیے بہت موثر ثابت ہوتی ہے اگر دورہ زیادہ شدید ہو اور ان گولیوں سے افاقہ نہ ہو تو فوری آرام پانے کے لیے قریبی ڈاکٹر یا ہسپتال سے ایمائنو فائلن اور گلوکوز Glucose کا ٹیکہ بھی لگوایا جاسکتا ہے ایفریلیکس سیرپ Ephrelex Syrup کا ایک چمچہ دمے کا تیر ہدف علاج ہے۔

کیٹاگری میں : صحت