روس نے کروز ’میزائل معاہدے‘ سے متعلق امریکی دھمکی مسترد کردی

روس کے صدر نے سرد جنگ دور میں طے پانے والے میزائل معاہدے سے متعلق امریکی دھمکی کو مسترد کردیا۔
روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے کہا کہ ماسکو انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلیئرفورسزٹریٹی، یعنی درمیانی فاصلے تک مارکرنے والے جوہری ہتھیار کی خلاف ورزی نہیں کررہا۔
انہوں نے واشنگٹن پر الزام لگایا کہ وہ روس کو ’محدود‘ کرنا چاہتا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکا نے روس کو 60 دن کی مہلت دیتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ اگر ماسکو واشنگٹن کے تحفظات دور کرنے میں ناکام رہا تو سرد جنگ دور کے جوہری معاہدے سے دستبراری کا عمل شروع ہو جائےگا۔
امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ روس نے انٹر میڈیٹ رینج کروز میزائل ایس ایس سی 8 تیار کرے لیے جو معاہدے کے خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے نیٹو اتحادی ممالک سے ملاقات کے بعد صحافیوں کو بتایا تھا کہ ’مذکورہ روسی میزائل یورپ کے شہروں میں اپنا ہدف حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘۔
روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے روسی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ’پہلے امریکا نے معاہدہ ختم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا اور پھر اس کے لیے جواز تلاش کیا‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’امریکا نے ابتدائی جواز پیش کیا کہ روس معاہدے کی خلاف ورزی کررہا ہے اور اسی دوران اپنے موقف کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا، جیسا کہ امریکا کرتا ہے‘۔
واضح رہے کہ امریکی اور روسی صدر رونلڈ ریگن اور گورباچوف نے 1987 میں معاہدے پر ستخط کیے تھے۔
اس سے قبل اکتوبر میں امریکا کے ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘ہم نے معاہدے کی پاسداری کی اور معاہدے کا احترام کیا لیکن افسوس کے ساتھ روس نے معاہدے کا احترام نہیں کیا اس لیے ہم جوہری معاہدہ منسوخ کررہے ہیں’۔
انہوں نے مزید کہا تھا کہ ‘روس نے معاہدے کے خلاف ورزی کی اور وہ کئی برسوں سے مسلسل معاہدے کو نقصان پہنچاتا رہا تھا، مجھے نہیں معلوم کہ سابق صدر بارک اوباما نے روس کے ساتھ اس معاملے پر مذاکرات یا معاہدہ سے دستبرداری کا اعلان کیوں نہیں کیا؟’۔
اس ضمن میں واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے ماسکو کے 9ایم 729 میزائل سے متعلق شکایت کی اور کہا تھا کہ مذکورہ میزائل 500 کلومیڑ سے زائد دور پر موجود اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے جو کہ آئی این ایف معاہدے کے خلاف ورزی ہے۔
گزشتہ پانچ دہائیوں میں امریکی اور روس نے جوہری ہتھیار کی تعداد اور رفتار سے متعلق متعدد معاہدے کیے ہیں۔