ملک بھر میں دہشتگردی کے واقعات میں بتدریج کمی آ رہی ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کرتار پور راہداری کا منصوبہ 6 ماہ میں مکمل ہوگا، کرتار پور راہداری کے حکوتی اقدام پر منفی رنگ دیا گیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں میں اضافہ ہو رہا ہے، بھارتی فوج شہری آبادی کو نشانہ بناتی ہے، جنگ بندی معاہدے پر دونوں ممالک کے تعلقات پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا حکومت نے کرتار پور راہداری کا آغاز کیا، بھارت کرتار پور راہداری پر بھی منفی ردعمل دے رہا ہے، سکھ برادری کا داخلہ صرف ایک راستے سے ہوگا، 4 ہزار سکھ یاتری روزانہ آسکیں گے، امید ہے ہمارے خیرسگالی جذبے کا انڈیا مثبت ردعمل دے گا۔
پاک بھارت تعلقات:
میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا بھارت کی جانب سے مذاکرات پر رضا مندی نہیں ہوتی، ملک بھر میں دہشتگردی کے واقعات میں بتدریج کمی آ رہی ہے، کراچی میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی۔ انہوں نے کہا دہشتگردی کےخلاف زیادہ تر جنگ کے پی میں لڑی گئی، دعا ہے وہ دن آئے جب پاکستان میں دہشتگردی کا کوئی واقعہ نہ ہو، گزشتہ 15 سال میں دہشتگردی کے واقعات بتدریج کم ہوئے، وہ وقت قریب ہے جب ہم مکمل امن کی طرف چلیں گے۔
کرتارپورمیجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ کرتارپور کے معاملے پر بھارت نے منفی پراپیگنڈا کیا، یہ راہداری صرف ون وے ہوگی جس کے کھلنے سے 4 ہزار بھارتی یاتری روزانہ پاکستان آسکیں گے اور اسی راستے سے اسی روز واپس جائیں گے، لیکن پاکستان کی جانب سے کوئی اس راستے سے بھارت نہیں جا سکتا۔
بھارتی آرمی چیف کے پاکستان کو سیکولر بننے کے بیان سے متعلق سوال کے جواب میں میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بھارت پہلے خود سیکولر بنے پھر ہمیں بھاشن دے، بھارتی آرمی چیف کو بتانے کی ضرورت نہیں کہ پاکستان کیسا ملک بنے، بھارت خود سیکولر جمہوریہ ہے پہلے خود تو سیکولر بن جائے، بھارت خود کیسی سیکولر ریاست ہے، بیس کروڑ مسلمانوں کی وہاں کیا حالت ہے۔
بلوچستان: 
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا بلوچستان ہمارے جغرافیہ کا 43 فیصد ہے، یہاں پر دہشتگردی کا گراف نیچے آیا ہے، بلوچستان کے فراری قومی دھارے میں شامل ہو رہے ہیں، بلوچستان میں سکیورٹی آپریشن کیلئے حکمت عملی تبدیل کی ہے۔ انہوں نے کہا رینجرز نے جانفشانی سے کراچی کی روشنیاں لوٹائیں، قیام امن کو آگے لے کر چلیں گے، حالات مزید بہتر ہوں گے، آپریشن ردالفساد کے تحت ملک میں 44 بڑے آپریشن ہوئے، ردالفساد کے اہداف کے مطابق بھی کارروائی چل رہی ہے۔
افغان سرحد
میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ابھی تک سرحد پار دہشتگردی کا خطرہ کم نہیں ہوا، افغان سرحد سے خطرہ نہ تو 2 ہزار اہلکار واپس بلاسکتے ہیں، افواج پاکستان نے صورتحال میں بہتری پر چیک پوسٹوں میں کمی کی ہے، افغانستان حکومت کا سرحدوں پر پورا کنٹرول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا لاپتا افراد سے متعلق کمیشن 2011 میں بنایا گیا تھا، لاپتا 7 ہزار افراد کے کیسز میں سے 4 ہزار کا معاملہ حل ہوچکا ہے، پاک فوج نظم و ضبط پر مبنی فورس ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا پاک فوج میں ڈیوٹی پر تاخیر سے آنے کی بھی سزا ملتی ہے، ڈیوٹی میں تاخیر پر مختلف سزائیں دی جاتی ہیں، یہاں چین آف کمانڈ اور ڈسپلن ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان عظیم ملک ہے، اللہ تعالیٰ نے ہر نعمت سے نوازا، 70 سال سے کہا جاتا ہے ملک نازک دور سے گزر رہا ہے، ملک پر یہ نازک دور کیوں آیا ؟ ہماری کچھ اندرونی غلطیاں بھی ہیں جسے دشمنوں نے استعمال کیا، آدھا ملک گنوا دیا، سنبھل بھی گئے، ایٹی قوت بھی بن گئے۔
میجر جنرل آصف غفور نے کہا کیا اس نازک لمحے سے نکلنا ہے یا ایسے ہی رہنا ہے ؟ آج کی پاک فوج گزرے ہوئے دور سے مختلف ہے، 2 سال میں پاک فوج کے 400 افسروں کوسزا دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا سروس سے بر طرفی اور جیل کی حد تک بھی پاک افواج میں سزا ہوتی ہے، سزا پانے والوں میں ہر رینک کا افسر شامل ہے، انہیں جیل بھی بھیجا گیا، فوجی افسر کا احتساب جوان سے زیادہ سخت کیا جاتا ہے، میڈیا معاشرے میں شعور اجاگر کرے۔
کراچیشہر قائد کے بارے میں میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ کراچی میں 99 فیصد جرائم میں کمی آئی ہے اور رینجرز نے 9سال سے قربانیاں دے کر امن بحال کیا، شہر میں کاروباری سرگرمیاں تیزی سے بحال ہوچکی ہیں اور سرمایہ کاری آ رہی ہے۔
ردالفسادترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ آپریشن ردالفساد کو دو سال مکمل ہونے والے ہیں، پورے ملک میں 44 بڑے آپریشن ہوئے ہیں، پورے ملک سے 32 ہزار ناجائز اسلحہ پکڑا، کوئی بھی جنگ صرف آپریشن سے ختم نہیں ہوتی۔
راول پنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بھارتی فوج جان بوجھ کر پاکستان شہری آبادی کو نشانہ بناتی ہے، حکومت پاکستان نے امن کیلئے بہت قربانیاں دی ہیں۔
پشتون تحفظ موومنٹمیجرجنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ پی ٹی ایم کے ساتھ اب تک ہلکا ہاتھ رکھا ہے، ان کے تین مطالبات ہم نے ان کے کہنے سے پہلے ہی پورے کردیے تھے، پی ٹی ایم وہ لائن کراس نہ کرے جہاں ریاست کو اپنی رٹ قائم کرنا پڑے اور زور لگانا پڑے، وہ لاپتہ افراد کے معاملے سے بہت آگے چلے گئی ہے۔