بابری مسجد کی شہادت کا واقعہ، نام نہاد سکیولر ریاست بھارت کے ماتھے پر کلنگ کا ٹیکہ

بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے تاریخی بابری مسجد کی شہادت کو چھبیس برس بیت گئے۔ بابری مسجد کی شہادت کا واقعہ آج بھی نام نہاد سکیولر ریاست بھارت کے ماتھے پر کلنگ کا ٹیکہ ہے۔
بابری مسجد کی شہادت کا واقعہ بھارت کے چہرے پر بد نما داغ ہے، صرف بابری مسجد ہی نہیں بلکہ بھارت بھر میں پُرتشدد واقعات کے دوران اوچھے ہتھکنڈوں سے مسلمانو ں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔
تاریخی بابری مسجد کی تعمیر مغل بادشاہ ظہیر الدین محمد بابر کے حکم پر ان کے سپہ سالار میر باقی نے ریاست اتر پردیش کے شہر ایودھیا میں کرائی، ہندوستان میں بابری مسجد اور رام مندر تنازع تقریباً پانچ سو سال پرانا ہے، انتہا پسند ہندوؤں کے من گھڑت دعوے پر انیس سو انچاس میں مسجد کو بند کرا دیا گیا، جس کی وجہ سے چالیس سال سے زائد عرصے تک یہ مسجد متنازع رہی۔
چھے دسمبر انیس سو بانوے کو انتہا پسند ہندوؤں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما ایل کے اڈوانی کی قیادت میں انتہا پسند ہندو تنظیموں وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل اور شیو سینا کے ساتھ مل کر مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کیلئے بابری مسجد پر حملہ کرکے شہید کردیا۔
بابری مسجد کی شہادت کے بعد ہندوستان کی تاریخ کے بدترین فرقہ وارانہ فسادات بھڑک اٹھے، جن میں تین ہزار سے زائد لوگوں کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا، جن میں تقریباً دو ہزار مسلمان شامل تھے۔ بابری مسجد کا تنازعہ اب بھی بھارتی نام نہاد جمہوری چہرے پر بدنما داغ ہے۔