شام پر امریکی جارحیت، 8 عام شہری جاں بحق

مشرقی شام کے صوبے دیرالزور کے ایک علاقے پر داعش مخالف نام نہاد امریکی اتحاد نے ایک بار پھر بمباری کی ہے۔
موصولہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دیرالزور کے شہر ہجین پر امریکی اتحاد کے جنگی طیاروں کی بمباری میں کم از کم آٹھ عام شہر مارے گئے ہیں۔
داعش مخالف نام نہاد امریکی اتحاد کی جانب سے ہجین پر بارہا بمباری کی جاتی رہی ہے اور اس بمباری میں ممنوعہ فاسفورس بم بھی استعمال کئے گئے ہیں۔
حکومت شام نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے چیئرمین کے نام بارہا اپنے مراسلوں میں شام میں امریکی اتحاد کی جارحیت بند کرائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔
داعش مخالف یہ نام نہاد امریکی اتحاد بارک اوباما دور حکومت میں قائم ہوا تھا جس کے قیام کا مقصد عراق و شام میں داعش کے خلاف مہم قرار دیا گیا تھا مگر اس اتحاد کے حملوں میں زیادہ تر عام شہری ہی مارے جاتے رہے ہیں۔
عراق و شام میں امریکی اتحاد کے حملوں پر نظر رکھنے والے گروپ نے بھی حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ عراق و شام میں دو ہزار چودہ سے جاری امریکی اتحاد کے حملوں میں اب تک پانچ ہزار سے زائد عام شہری مارے جا چکے ہیں۔