صومالیہ: بم دھماکے میں 2 فوجی جنرلز، 7 محافظ ہلاک

نیروبی کے دارالحکومت موغادیشو میں ہونے والے ایک بم دھماکے میں 2 فوجی جنرلز سمیت 9 صومالی فوجی ہلاک ہوگئے۔
رپورٹ کے مطابق اسلامی انتہا پسند تنظیم الشہاب نے مذکورہ حملے کی ذمہ داری قبل کرتے ہوئے کہا کہ انہوں موغادیشو کے مضافات میں واقع گاؤں ’دھنانے‘ میں ایک فوجی پک اپ ٹرک کو تباہ کردیا جس میں دونوں جنرل اپنے 7 باڈی گارڈ سمیت سوار تھے۔
الشہاب کے فوجی ترجمان عبدیاسس ابو معصب نے اپنے بیان میں بتایا کہ حملے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے جنرل عمر عدن اور عابدی علی تھے ہم نے ان کی پک اپ کو سڑک کنارے نصب بم کا دھماکا کر کے نشانہ بنایا۔
ایک فوجی اہلکار کیپٹن محمد نے الشہاب کے دعوے کی تصدیق کی کہ دونوں جنرلز اپنے باڈی گارڈز کے ہمراہ مارے گئے جبکہ دیگر افراد زخمی ہیں۔ واضح رہے کہ اسلامی تنظیم الشہاب سالوں سے صومالیہ میں مغرب نواز حکومت گرانے کی کوشش کررہی ہے جبکہ ملک میں 1990 سے خانہ جنگی کی جاری ہے۔
حکام کے مطابق صومالیہ میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والی تنظیم الشہاب اور داعش سے تعلق رکھنے والے عسکری گروہوں کے درمیان خونریزی کا آغاز اس وقت ہوا، جب الشہاب نے داعش سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں پر حملے شروع کیے تھے جنہوں نے بڑے کاروباری اداروں سے رقم کا مطالبہ شروع کردیا تھا۔
اس حوالے سے کچھ مبصرین کا کہنا تھا کہ الشہاب، اب مافیا طرز پر اپنی اجارہ داری کا دفاع کرنے کے لیے کام کررہی ہے جو اس کے اعلی ترین حملوں کو فنڈ کرتی ہے اور اسلامی ریاست کے نفاذ کے اپنے طویل مدتی مقصد سے ہٹتی ہوئی نظر آرہی ہے۔متعدد صومالی انٹیلی جنس اداروں کے مطابق الشہاب کے مشتبہ قاتل اسکواڈ کی جانب سے داعش کی اعلیٰ قیادت کے قتل کے بعد ان حملوں کا آغاز ہوا تھا۔
گزشتہ ماہ داعش کے گروپ النبا نے ایک خط میں اپنے عسکریت پسندوں پر ہونے والے حملوں کا ذکر کرتے ہوئے خبر دار کیا تھا کہ جب خدا کی مرضی سے داعش کی جانب سے جواب آنا شروع ہوگا تو ہمیں کچھ نہ کہا جائے۔