ہراساں کرنے کو روکنے کیلئے معاشرے کی ذہنیت تبدیل کرنے کی ضرورت ہے

وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ ہراساں کرنے کو روکنے کرنے کے لیے قوانین پر عملدرآمد کے علاوہ معاشرے کی ذہنیت تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں ہراساں ہونے والی معذور خواتین سے متعلق سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ ’ہماری وزارت قوانین کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے پر کام کر رہی ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو الگ ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ معذور خواتین کو ہراساں کرنا ایک عالمی مسئلہ ہے اور ریاست پاکستان کوئی امتیازی سلوک نہیں رکھتی بلکہ اہل خانہ اور معاشرے کی سطح پر انہیں اصل تفریق کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مزید پڑھیں: میں بھی ہراساں ہو چکی ہوں، مومنہ مستحسن
شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ ’ہماری قوانین خواتین کو برابری کے حقوق فراہم کرتے ہیں اور ہمیں اصل مسائل جس میں خواتین خاص طور پر ایسے لوگ جو معذور ہیں اور وہ معاشرے اور اہل خانہ سے اس رویے کا سامنا کر رہے ہیں کو ترجیح بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔
اس موقع پر انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ ان کی وزارت معذور لوگوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی پر کام کر رہی ہے۔
وزیر انسانی حقوق نے کہا کہ معذور افراد کے حقوق سے متعلق بل پر پارلیمانی عمل کے ذریعے جلد پاس ہونے کے بعد عمل درآمد ہوگا، اس بل میں عام طور پر معذور افراد کے حقوق جبکہ خاص طور پر خواتین، بچوں اور خواجہ سراؤں کے حقوق پر بھی توجہ مرکوز کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: جنسی ہراساں کرنے کا الزام،علی ظفر نے میشا شفیع کو جھوٹاقرار دیدیا
قبل ازیں انہوں نے اقوام متحدہ کی خواتین کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر پھمزلے ملاببو گیکا کی سربراہی میں اقوام متحدہ کے خواتین وفد نے ملاقات کی۔
ملاقات میں دونوں نے مختلف انسانی حقوق کے مسائل اور باہمی تعاون سے متعلق معاملات خاص طور پر خواتین کو بااختیار بنانے، صنفی بنیادوں پر تشدد، بچوں سے زیادتی اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے موجود قوانین کے نفاذ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے بنیادی انسانی حقوق خاص پر خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔