’ایکسچینج ریٹ پر اسٹیٹ بینک کو حکومت سے مشاورت کرنی چاہیے‘

روپے کی قدر میں کمی اور شرح سود میں اضافے کے بعد اٹھتے سیاسی سوالات کے پیشِ نظر حکومت نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کو شرح تبادلہ پر وفاقی حکومت سے مشاورت کرنے کے لیے میکینزم تشکیل دینے کو کہا ہے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کی مطابق مذکورہ معاملہ وزیر خزانہ اسد عمر کی سربراہی میں ہونے والے مانیٹری اینڈ فسکل پالیسی بورڈ (ایم ایف پی سی بی) کے اجلاس میں زیر غور آیا۔
ذرائع کے مطابق وزیر خزانہ نے حالیہ مانیٹری پالیسی کے وقت پر تحفظات کا اظہار کیا اور اسٹیٹ بینک پاکستان کے گورنر طارق باجوہ کو کہا کہ حکومت مرکزی بینک کے آزادانہ کردار کی بھرپور حمایت کرتی ہے لیکن اسے اس طرح کے معاملات پر مشاورت کرنی چاہیے۔
واضح رہے کہ ایم ایف پی سی بی کا آخری اجلاس 29 نومبر کو ہوا تھا جس میں بجٹ خسار ے اور مہنگائی میں اضافے، حکومت کی جانب سے اسٹیٹ بینک سے ادھار لینے اور ریونیو کی کم ہوتی ہوئی کارکردگی پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔
اور اسی دن اسٹیٹ بینک نے اپنے پالیسی ریٹ میں 150 بیسس پوائنٹس سے 10 فیصد کا اضافہ کردیا تھا جسکی وجہ سے روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے 3.8 رہ گئی تھی۔
اس ضمن میں ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بورڈ کے ایک رکن کا کہنا تھا کہ وزیر خزانہ نے شرح تبادلہ کی حکمت عملی کا ایک طویل مدتی روڈ میپ بنانے کی خواہش کا بھی اظہار کیا اور کہا کہ برآمداتی شعبہ میں بہتری کرنسی کی قدر میں کمی سے نہیں بلکہ تونائی کی بہتر فراہمی سے ہونی چاہیے۔
ایک اور رکن کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر گورنر اسٹیٹ بینک نے مرکزی بینک کی خودمختار مانیٹری پالیسی کمیٹی(ایم پی سی) کا دفاع کیا اور کہا کہ شرح تبادلہ ایڈجسٹ کرنا ایک عالمی سطح پر کیا جانے والا اقدام ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتے شرح تبادلہ ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے اٹھنے والا سیاسی ہنگامہ اس کی ’ٹائمنگ‘ کی وجہ سے تھا جو پاکستان تحریک انصاف کے 100 روز پورے ہونے کا وقت تھا۔
خیال رہے کہ موجودقانونی انتطام کے تحت ایم پی سی 10 اراکین پر مشتمل ہے لیکن سیکریٹری خزانہ اب اس کمیٹی کے ممبر نہیں اور وہ اس میں وفاقی حکومت کے اثر و رسوخ کا مظہر ہیں۔
ذرائع کے مطابق وائس چانسلر پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (پی آئی ڈی ای) نے بھی گورنر اسٹیٹ بینک کے موقف کی تائید کی اور کہا کہ ادھر اُدھر سے مختصر مدت کے لیے دستخط کروانے کے باوجود اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ طویل مدتی برآمدی کارکردگی شرح تبادلہ سے ہوگی۔
اس وجہ سے ان معاملات میں مرکزی بینک پر کوئی دباؤ نہیں ہونا چاہیے۔