سوچا نہیں تھا کہ جہانگیرخان دس ٹائٹل جیت لیں گے؛ جیف ہنٹ

آسٹریلیا کے شہرۂ آفاق سکواش کھلاڑی جیف ہنٹ کے ذہن میں پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ اپنے سخت مقابلوں اور پاکستان کی روایتی مہمان نوازی کی یادیں آج بھی تازہ ہیں اور یہی یادیں انھیں ایک بار پھر کراچی لے آئیں۔

جیف ہنٹ کی کراچی آمد کی وجہ پاکستان اوپن سکواش چیمپیئن شپ میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت تھی جس کے لیے انھیں عظیم جہانگیر خان نے مدعو کیا تھا۔ جیف ہنٹ نے کراچی میں اپنے مختصر قیام کے دوران جہاں سکواش کے نئے کھلاڑیوں کو بہت قریب سے دیکھا وہاں وہ جہانگیرخان کی روایتی مہمان نوازی سے بھی لطف اندوز ہوئے۔

جیف ہنٹ نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں سکواش اور اس کے مختلف پہلوؤں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔

پاکستانی کھلاڑی سخت جاں حریف ہوا کرتے تھے

میں اپنے پورے کریئر میں پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ کھیل کر بہت لطف اندوز ہوا ہوں کیونکہ ہر کھلاڑی اپنے طور پر منفرد خصوصیت کا حامل تھا۔ محب اللہ خان کا کھیل میرے جیسا تھا اس لیے ان کے ساتھ کھیلتے ہوئے مجھے مشکل ہوتی تھی۔

قمرزمان کا گیند پر کنٹرول اور سٹروکس کھیلنے کا منفرد انداز کسی اور میں نہیں تھا۔ ہدی جہاں طاقتور شاٹس کھیلتے تھے۔ گوگی علاؤالدین ڈراپ شاٹس اور لاب کرنے میں کمال مہارت رکھتے تھے۔ پاکستانی کھلاڑیوں کے علاوہ جونا بیرنگٹن اور کین ہسکو بھی ورلڈ کلاس کھلاڑی تھے۔

آپ نے پاکستانی کھلاڑیوں کو جیتنے سے کیسے روکا رکھا؟

میرا خیال ہے کہ میں تکینکی اعتبار سے بہترین کھلاڑی تھا۔ میں صرف اور صرف جیت پر یقین رکھتا تھا۔ میری سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ میں گیند کو بہت پہلے سے دیکھ لیتا تھا اور تیزی سے اپنی پوزیشن بنا لیتا تھا جس کی وجہ سے میں حریف پر دباؤ ڈالتا تھا اور اسے موقع نہیں دیتا تھا۔

کیا سوچا تھا کہ جہانگیرخان آپ کا ریکارڈ توڑدیں گے؟

میں ریکارڈ کے بارے میں نہیں سوچا کرتا تھا البتہ میں نے ہاشم خان کے سات برٹش اوپن ٹائٹلز کے ریکارڈ کے بارے میں ضرور سوچا تھا جو میں نے توڑا۔ میں جو بھی ٹورنامنٹ کھیلتا تھا وہ جیتنا چاہتا تھا لیکن برٹش اوپن میرے لیے خاص اہمیت رکھتا تھا۔ جب جہانگیرخان منظرعام پر آئے ان کے خلاف میں نے چند میچز جیتے لیکن انھوں نے مجھے ورلڈ اوپن میں ہرایا۔ میں فٹ نہ ہونے کے سبب اگلی برٹش اوپن نہ کھیل سکا اور ریٹائر ہو گیا۔

جہانگیرخان نے صرف 16 سال کی عمر میں ورلڈ ایمیچر ٹائٹل جیتا تھا اور وہ ایک زبردست کھلاڑی کے طور پر سامنے آئے جو ساڑھے پانچ سال تک ناقابل شکست رہے۔ میں تو صرف ایک سال میں تمام کے تمام ٹورنامنٹ جیت کر خوش ہوا تھا لیکن سچ یہ ہے کہ میں نے یہ نہیں سوچا تھا کہ جہانگیرخان دس برٹش اوپن ٹائٹلز جیتیں گے۔ ان کا یہ بہت بڑا کارنامہ ہے۔

کیا پاکستان میں ایک بار پھر بڑے ٹورنامنٹس ہوسکتے ہیں؟

مجھے امید ہے کہ ایسا ہو سکتا ہے۔ بدقسمتی سے دہشت گردی دنیا بھر میں ہے، صرف پاکستان میں نہیں۔ اس سے ہر ملک کسی نہ کسی حد تک متاثر ہوا ہے۔ پاکستان کو اچھے کھلاڑی پیدا کرنے ہوں گے تاکہ سپانسرز بڑے ٹورنامنٹس کی طرف راغب ہو سکیں۔

کیا سکواش کو کسی سپر اسٹار کی ضرورت ہے؟

سکواش کی مقبولیت میں اضافے کے لیے اس کا اولمپکس میں شامل ہونا بہت ضروری ہے اور مجھے یقین ہے کہ ایک دن ضرور سکواش اولمپکس کا حصہ بنے گا۔ اولمپکس میں شرکت کے لیے جو کچھ بھی کیا جانا چاہیے وہ کیا جاچکا ہے تمام شرائط پوری کی جاچکی ہیں۔ میری سمجھ سے باہر ہے کہ اسے کیوں شامل نہیں کیا جا رہا۔

جہاں تک سپر سٹارز کی بات ہے تو مصر میں ان کے کھلاڑی سپر سٹارز ہیں لیکن میرے خیال میں ہر ملک میں رول ماڈل کی ضرورت ہے یہ نہیں کہ بین الاقوامی سطح پر کوئی سپرسٹار ہو۔ اگر ہر ملک میں اس طرح کے رول ماڈل کھلاڑی ہوں گے تو لوگ اس کھیل کی طرف ضرور دلچسپی لیں گے۔