پاکستان کی فعال خارجہ پالیسی کے باعث امریکہ نے افغان کے مسئلے پر معاونت کی درخواست کی: شاہ محمود قریشی

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ قومی مفاد اور خودانحصاری پر مبنی پاکستان کی خارجہ پالیسی مثبت سمت میں گامزن ہے۔
انہوں نے ہفتے کی سہ پہر ملتان میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی فعال خارجہ پالیسی کے باعث امریکہ نے افغانستان کے مسئلے پر معاونت کی درخواست کی ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ اگلے ہفتے افغانستان کا دورہ کریں گے اور افغان قیادت سے سیاسی مصالحت اور افغانستان میں پائیدار امن کے بارے میں بات چیت کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانوں کی قیادت میں افغانوں کے امن عمل کی حمایت کیلئے پرعزم ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم نے بھی حکومت کے پہلے سو دنوں میں وزارت خارجہ کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے توہین آمیز خاکوں کے مسئلے کو پر زور انداز میں اقوام متحدہ میں اور ہالینڈ کے سامنے اٹھایا تھا۔
ہالینڈ میں ہونے والے خاکوں کا متنازعہ مقابلہ ہماری بھرپور کوششوں کی وجہ سے منسوخ کردیا گیا تھا۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے سکھ یاتریوں کی سہولت کیلئے کرتارپور سرحد کھولنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ یہ اقدام پاکستان کی طرف سے امن اور محبت کا پیغام ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کی سکھ برادری نے پاکستان کے اس اقدام پر خوشی کا اظہار کیا ہے اور اس جذبے کی تعریف کی ہے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو موثر انداز میں اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورموں میں پیش کیا گیا اور قابض بھارتی فوج کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بے نقاب کیا گیا۔